استاد قمر جلالوی ۔۔۔ یہ نا ممکن ہے ہو تیرا ستم مجھ سے عیاں کوئی

یہ نا ممکن ہے ہو تیرا ستم مجھ سے عیاں کوئی
وہاں فریاد کرتا ہوں نہیں ہوتا جہاں کوئی

شکایت وہ نہ کرنے دیں یہ سب کہنے کی باتیں ہیں
سرِ محشر کسی کی روک سکتا ہے زباں کوئی

عبث ہے حشر کا وعدہ ملے بھی تم تو کیا حاصل
یہ سنتے ہیں کہ پہچانا نہیں جاتا وہاں کوئی

انھیں دیر و حرم میں جب کبھی آواز دیتا ہوں
پکار اٹھتی ہے خاموشی: نہیں رہتا یہاں کوئی

لحد میں چین دم بھر کو کسی پہلو نہیں ملتا
قمر ہوتا ہے کیا زیرِ زمیں بھی آسماں کوئی

Related posts

Leave a Comment