بانی ۔۔۔ اگر باقی کوئی رشتہ رہے گا مارچ 11, 2021 نويد صادق اگر باقی کوئی رشتہ رہے گا ترے جی کو بھی کچھ دکھ سا رہے گا چلو رسمِ وفا ہم بھی اُٹھا دیں کوئی دن شہر میں چرچا رہے گا نہ جائے گا کبھی دل سے ترا غم یہ جوگی دشت میں بیٹھا رہے گا ترے خستہ مزاجوں کو ہمیشہ جنوں ترکِ محبّت کا رہے گا یہ دشتِ دل ہے، کوئی آئے یا جائے برابر ایک سنّاٹا رہے گا ہوائے یاس کا ہلکا سا جھونکا ترے آنے سے پہلے آ رہے گا ہم اک دن خود سے غافل ہو رہیں گے ترا غم دل ہی میں رکھّا رہے گا عدم کی سمت بڑھتا جائے گا دل تجھے آواز بھی دیتا رہے گا ابد تک ادھ کھلی آنکھوں میں تیری کوئی جادو، کوئی دھوکا رہے گا