عمران اعوان ۔۔۔ ہنستے چہرے پہ بھی قرار نہیں

ہنستے چہرے پہ بھی قرار نہیں
اسطرح زندگی گزار نہیں

تو نے ہر بار جھوٹ بولا ہے
تیری باتوں کا اعتبار نہیں

تو یہاں وقت پاس کرتا ہے
مجھ کو معلوم ہے: یہ پیار نہیں

تیرا ہر سال اک کہانی ہے
میرا لمحوں میں بھی شمار نہیں

میں پسِ بام دیکھ سکتا ہوں
صرف آنکھوں پہ انحصار نہیں

تیری آنکھوں میں ہو بھی سکتا ہے
میرے چہرے پہ تو غبار نہیں

تو مجھے کب کا بھول بیٹھا ہے
اور مجھے تیرا انتظار نہیں

زندگی سے فرار ممکن ہے
ہجر کی راہ سے فرار نہیں

Related posts

Leave a Comment