چلو اک کام کرتے ہیں
محبت عام کرتے ہیں
بہت دکھ سہہ لئے دل نے
نہیں رہنا اکیلے اب
اکٹھے ساتھ چلتے ہیں
نئے جیون میں ڈھلتے ہیں
نہیں ڈرنا
زمانے کے
کسی تازہ فسانے سے
بہت سے
یار روکیں گے
نئی دنیا بسانے سے
نہ دل
میں ڈر کوئی رکھنا
ہمارے واسطے
یارا تم اپنا
در کھلا رکھنا
Related posts
-
صغیر احمد صغیر ۔۔۔ اژدھا
اژدھا ۔۔۔۔ میں وہ نہیں صغیر، میں جو تھا بدل گیا یہ کیسی شکل ہے میں... -
نثار ترابی ۔۔۔ یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں)
یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں) ۔۔۔۔ اُڑان قاتل ہے یہ سفر... -
شائستہ رمضان ۔۔۔ نظم
نظم ۔۔۔ محبت رمز ہے گہری کبھی یہ فقر لگتی ہے صدائے کن کی چاہت میں...
