فلسطین اور ہم
۔۔۔۔۔۔۔
مجھ کو نیند نہیں آتی
مجھے فلسطینی بچوں کی
صدائیں سنائی دیتی ہیں
لاشیں بکھری ہیں ہر جانب
گلیوں میں، بازاروں میں
چوکوں میں چوراہوں میں
ڈھیر لگے ہیں ملبے کے
بھیڑ مچی ہے لاشوں کی
کوئی سکول بچے ہیں نہ ہی شفا خانے
ظالم کے گولوں سے اگلی نسل ہماری
ختم ہو رہی ہے
اور ہم …………
Related posts
-
صغیر احمد صغیر ۔۔۔ اژدھا
اژدھا ۔۔۔۔ میں وہ نہیں صغیر، میں جو تھا بدل گیا یہ کیسی شکل ہے میں... -
نثار ترابی ۔۔۔ یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں)
یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں) ۔۔۔۔ اُڑان قاتل ہے یہ سفر... -
شائستہ رمضان ۔۔۔ نظم
نظم ۔۔۔ محبت رمز ہے گہری کبھی یہ فقر لگتی ہے صدائے کن کی چاہت میں...
