اکرم کنجاہی ۔۔۔ ایم زیڈ کنول

ایم زیڈ کنول

لاہور میں مقیم معروف شاعرہ ایم زیڈ کنول کا پہلا شعری مجموعہ ’’چہرے گلاب سے‘‘ ۱۹۹۸ء میں منظر عام پر آیا تھا:

یہ کون میری روح کے اندر اُتر گیا
ہر سو دکھائی دیتے ہیں چہرے گلاب سے

عمومی طور پر نئے شعرا و شاعرات کے پہلے مجموعۂ کلام میں فکری طور پر جوآرزوئیں، تمنّائیں اور کچی عمروں کے خواب ہوتے ہیں، اُن کی جگہ لا شعور و وجدان کی جمالیاتی کیفیات بہت بہتر ڈکشن میں پیش کی گئی تھیں۔اسلوبِ بیاں کو خوب صورت رنگ دینے والی علامتیں اور استعارے دیہی وسیب سے کشید کیے گئے تھے۔جہاں ضرورت محسوس ہوئی شاعرہ نے شعری ترکیبوں مثلاً یاس کی دھڑکن، آس کا بندھن، خوف کا وڈیرہ، وحشتوں کا ریلا، روشنی کے پردے، بھوک کا سویرا، نفرتوں کے لبادے اور اسی طرح کی اور ترکیبیں بھی برتی تھیں۔ مجموعۂ کلام کی اکثر نظموں میں منظر نگاری اِس بات کی غماز تھی کہ شاعرہ کو اظہارِ بیاں کا سلیقہ ہے۔خاص طور پر پہلے شعری مجموعے میں لفظیات کی کوملتا، دیہی ماحول سے کشیدہ استعاروںاور شعری ترکیبوں کی جھلملاہٹ نے خاصی مربوط پابند، معری، آزاد اور نثری نظموں کو تازہ کاری عطا کی تھی۔ اُن کے ہاں شخصی دکھ درد اور اجتماعی آشوب دونوں نے قاری کو ایک سنجیدہ فکر شاعرہ سے متعارف کروایا۔شخصی سطح پر فکر میں قنوطیت بھی تھی مگر اُن کی نظمیں رجائیت سے بھی مملو ہیں۔ کنول کادوسراشعری مجموعہ ’’کائنات مٹھی میں‘‘ غزلوں پر مشتمل تھا۔ اگرچہ اسلوبِ بیاں میں تھورا فرق تھا کہ اِس کتاب میں تہہ داری زیادہ تھی، علاتیں اظہار کا ذریعہ ہو گئیں۔۲۰۱۸ء میں اُن کے دو مجموعے برف کا آتش فشاں(مجموعۂ غزل) اور قوسِ قزح کی زنجیریں (مجموعۂ نظم) اشاعت پذیر ہوئے۔ اِن دونوں شعری کتب کے نام ہی ظاہر کر رہے ہیں کہ کلام میں شعری ترکیبیں اور علامتیں اظہار وترسیل کا ذریعہ بنی ہیں۔ کنول کی شاعری میں ارتقا دکھائی دے رہا ہے۔فکرمیں وسعت اور اسلوبِ بیان میں تہہ داری میں اضافہ ہوا ہے۔مختصر بحور کے چھوٹے چھوٹے مصارع میں بڑی بات کہنے کا ہُنر دکھائی دیتا ہے۔ہم سر سری نہیں گزر سکتے کہ کلام مشاعرے کی غزلوں پر مشتمل نہیں ہے کہ ایک مصرع شاعر پڑھے اور دوسرا سامعین پڑھنا شروع کر دیں۔ ہمیں تھوڑے توقف کے بعد آگے ورق پلٹنا پڑتا ہے۔یہی حسنِ کلام ہے ورنہ بے رنگ، بے کیف اور شعریت سے تہی روز مرہ کی گفتگو کو بھی اکثر شعرا بحور کا جامہ پہنا کر شاعری کا نام دے رہے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ نظم کی طرف بھی اُن کی مراجعت ہوئی ہے۔فکری و اسلوبیاتی سطح پر تمام نظمیں حسن آفرین ہیں۔ علامتوں کی تہہ داری، شعری ترکیبوں کے حسن اور فکری جمالیات نے قاری کو گرفت میں لیا ہے۔اِن نظموں میں بھی داخلیت کے پرزم نے قوسِ قزح کے رنگ بکھیرے ہیں۔’’آزمائش‘‘ اور ’’مسکرائیے‘‘ جیسی اِن نظموں کا مثبت پہلو رجائیت ہے۔آخر الذکر کا ایک شعر ملاحظہ کیجیے:

غم خانۂ حیات میں کرنے کو روشنی
کُنجِ قفس میں پیار کے اختر بسائیے

لیکن اِن سطور میں اُن کا تازہ مجموعۂ کلام ’’گویم مشکل‘‘ جو ۲۰۱۹ء میں شائع ہوا ہے، اُس پر بات کرنا مقصد ہے۔یہ مجموعۂ کلام نسائی لہجے میں تانیثیت کی حامل نظموں پر مشتمل ہے۔ یہ نظمیں چوں کہ ایک مقصد کے تحت لکھی گئی ہیں۔اِن کا اسلوبِ بیاں ایم زیڈ کنول کے مجموعۂ نظم ’’قوسِ قزح کی زنجیریں‘‘ اور ’’چہرے گلاب سے‘‘میں شامل نظموں سے بالکل مختلف ہے۔ جتنی بھی نظمیں ہیں وہ علامتوں کی کسی بھی تہہ داری کا سہارا لیے بغیرسادہ اور رواں اسلوب میں کہی گئی ہیں۔ انیسویں صدی کے آخری چند برسوں میں معرا نظم کی صورت میں، اُردو نظم میں ہئیت کے روایتی ڈھانچے توڑنے کا آغاز ہوا۔بعد ازاں آزاد اور نثری نظم کا آغاز بھی ہوا۔یہ غیر روایتی ہئیت غیر روایتی فکر بھی ساتھ لائی۔ جہاں شعرا نے غیر روایتی سانچوں کو فکر کی رنگا رنگی عطا کی وہیں شاعرات نے بھی نسائیت سے جڑے ہوئے مسائل کے اظہار کے لیے نظم کے نئے سانچوں سے استفادہ کیا۔یہ سلسلہ آج بھی رواں دواں ہے۔ایم زیڈ کنول نے بھی تانیثیت کے حوالے سے کہی گئی اپنی نظموں کو ’’گویم مشکل‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ہمارے بنی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بیٹی کو اللہ کی رحمت قرار دیا تھا، بیٹیاں معصوم اور بے ضرر خوب صورت چڑیوں کی طرح گھروں میں چہچہاتی رہتی ہیں، گھر کی رونق ہوتی ہیں، اُسے خوب صورت بناتی ہیں، بیٹیوں کو زندہ در گور کرنے والا زمانہ تو گزر گیا کہ اسلام کی برکتوں سے وہ قبیح رسم تو رخصت ہوئی مگر عورت جو بیٹی جو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہے اور اُس کا ہر روپ خدمت ہی خدمت اور محبت ہی محبت ہے۔پدر سری معاشرے میںمرد کے ہاتھوں دکھ اٹھا رہی ہے۔اُس کے مسائل گو نا گوں نوعیت کے ہیں مگر جو بھی ہیں سب مرد کی نسبت سے ہیں۔ ’’گویم مشکل‘‘ کی تقریباً تمام ہی نظمیں مربوط ہونے کے ساتھ مبسوط بھی ہیں اور نظموں میںایم زیڈ کنول کایہی موضوع ہے۔اِن نظموں میں شاعرہ نے کہیں کہیں اللہ کی ذات سے بھی محبت بھرا شکوہ کیا ہے۔مثلاً ’’بس اتنا کہنا ہے…‘‘ اور ’’آخر کیوں‘‘ کی مثال دی جا سکتی ہے۔وہ نظم سنگ سنگ میں یہ درد بھرا سوال بھی اٹھاتی ہیں کہ اگر مرد اور عورت کی تخلیق ایک ہی مٹی سے ہوئی ہے تو ہمارے معاشرے میں دونوں کے حقوق میں اتنا بعد کیوں ہے؟
کتاب میں روایتی محبت کے رنگ میں کہی گئی چندنظمیں بھی شامل ہیں مگر زیادہ تر کلام عورت کے ذاتی اور اجتماعی کرب کا آئینہ دار ہے۔ہمارے عہد کا المیہ ہے کہ آج عورت زندگی کے ہر شعبے میں مرد کے شانہ بشانہ شریک ہے مگر مرد اساس معاشرے میں مرد کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہے۔ کنول کی نظموں احسان مند،عدل، سنا تھا،عورت کی فریاد، حسیں نگر،ہمزاد سے مکالمہ، تیرے بن،یہ دنیا،بیسویں صدی کی عورت (مبسوط نظم ہے، اِس عہد کی عورت کا سماجی و معاشرتی آشوب لکھا ہے)، حادثاتی موت،صدی کی تہذیب کا پیمانہ بہترین تانیثی نظمیں ہیں۔نظم ’’بیسویں صدی کی عورت‘‘ سے چند مصارع ملاحظہ کیجیے:

مجھ کو دربار میں اتنی عزت ملی
ایک باندی بنا کر نچایا گیا

چکیاں پیس کر ہاتھ چھالے ہوئے
میرے بچوں کو روٹی مگر نہ ملی

میری تقدیس کے ٹھیکیداروں نے یاں
نہ عروسِ قبا کی بھی تقدیس کی

مجھ کو اشکوں کا جھومر پہنایا گیا
خوں کے رنگیں نگوں سے سجایا گیا

میری بارات غنڈے اٹھا لے گئے
اور ماتھے کا ٹیکہ کلنک بن گیا

میری ناموس کوڑی میں بیچی گئی
اور انا چند سکوں میں تولی گئی

میرے جذبوں کی سچائیوں کے پر ے
میرا ا رنگِ حنا دل دکھاتا رہا
۰۰۰

Related posts

Leave a Comment