فاطمہ حسن
فاطمہ حسن ۱۹۷۰ء کے عشرے میں ابھرنے والی شاعرات میں شامل ہیں۔ کراچی میں جنم لیااور یہیں مقیم ہیں البتہ کچھ عرصہ سابق مشرقی پاکستان میں بھی قیام پذیر رہیںمگر سقوطِ ڈھاکا کے بعد کراچی منتقل ہو گئیں۔فیمننزم اور تحریک نسواں اِن کی ادبی دل چسپی کے سنجیدہ موضوعات ہیں ۔ اِس سلسلے میں’’فیمینزم اور ہم‘‘ کے علاوہ ’’خاموشی کی آواز‘‘ اُن کی مرتب کردہ بہترین کتب ہیں۔ انہوں نے زاہدہ خاتون شروانیہ پر پی ایچ ڈی کی جنہوں نے ۱۹۱۵ ء میںنسائی ادب کے حوالے سے یہ کام کیا تھا کہ ایک مثنوی لکھی جس میں برصغیر کے مردوں سے شکوہ کیا گیا تھا کہ وہ عورتوں کو جاہل رکھ کر نسلیں تباہ کر رہے ہیں۔فاطمہ حسن کاپہلا شعری مجموعہ’’بہتے ہوئے پھول‘‘ ۱۹۷۷ء میں اور دوسرا ’’دستک سے در تک کا فاصلہ‘‘ ۱۹۹۳ میں منظر عام پر آیا۔یہ دونوں میرے زیرِ مطالعہ آئے ہیں۔ اُن کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ’’کتابِ دوستاں‘‘ اور افسانوں کا مجموعہ ’’کہانیاں گم ہو جاتی ہیں‘‘ بھی اشاعت پذیر ہو چکے ہیں۔اُن کا کہنا ہے کہ ۱۹۷۵ ء میںانہوں نے نسائیت کے حوالے سے پہلی مرتبہ نظم لکھی تھی جو نسائی تحریک کے حوالے سے اُن کا پہلا قدم تھا:
آنکھوں میں نہ زلفوں میں نہ رخسار میں دیکھیں
مجھ کو مری دانش مرے افکار میں دیکھیں
پوری نہ ادھوری ہوں نہ کم تر ہوں نہ بر تر
انسان ہوں انسان کے معیار میں دیکھیں
٭
لفظ کب اُس کی گواہی بن سکے
میری خاموشی نے سچا کر دیا
٭
ننگی زمیں پہ خواب بچھا کر جو سوئے ہیں
اُن کی بلا سے آگ کہیں بھی لگا کرے
٭
بہت ہیں خواب مگر خواب ہی سے کیا ہو گا
ہمارے بیچ جو حائل ہے وہ حقیقت ہے
٭
ہوا چلے گی تو خوشبو مری بھی پھیلے گی
میں چھوڑ آئی ہوں پیڑوں پہ اپنے ہات کے رنگ
فاطمہ حسن کے پہلے مجموعۂ کلام میں رومانویت اور غنائیت کی ہلکی آنچ نمایاں تھی جس پر مشرقی پاکستان کے اثرات بھی تھے۔وہ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد کراچی منتقل ہوئی تھیں۔فاطمہ کی شاعری میں محبت کے مختلف شیڈز ہیں جن کو انہوں نے فنکاری سے پینٹ کیا ہے۔ اُن کے ہاں صنّاعی نہ ہونے کے برابر ہے،اِس لیے کہ اُنہوں نے داخلیت اور لاشعور ی کیفیات سے دامن نہیں بچایا، خوابوں اور خواہشوں کو بالکل فطری رنگ میں پیش کیا ہے۔وہ عام طور پرفطری سادگی کے ساتھ مختصر بحور میں شعر کہتی ہیں:
تعمیر کر رہا ہے محبت کا وہ حصار
میرے لیے خلوص کی زنجیر ہے بہت
٭
کیا کہوں اُس سے کہ جو بات سمجھتا ہی نہیں
وہ تو ملنے کو ملاقات سمجھتا ہی نہیں
٭
وفا سرشت ہوں دوری میں بھی محبت ہے
اکیلے رہنے میں لیکن بہت اذیت ہے
٭
کہو تو نام میں دے دوں اِسے محبت کا
جو اک الاؤ ہے جلتی ہوئی رفاقت کا
٭
میرے لیے علاج بھی ممکن نہیں رہا
اُس سے کہوں تو اُس کا ہی بخشا ہو اہے درد
شائد ہو کچھ اُمید مسیحا کے نام سے
آئے کوئی کہ شہر میں پھیلا ہوا ہے درد
انہوں نے معرا، آزاد اور نثری بھی کہی ہیں۔اُن کی نظموں میں بھی مفرد لفظیات ہی پڑھنے کو ملتی ہیں۔ کہیں شاید ہی کوئی فارسی اضافت دکھائی دے۔نسائیت بھی اُن کا ایک اہم موضوع ہے ’’بچیوں کے عالمی دن پر‘‘ اُن کی عمدہ نظم ہے۔بیٹی سے متعلق ایک ماں کے جذبات و احساسات مندرجہ ذیل نظم میں ملاحظہ کیجیے:
میری بیٹی انگلی چھوڑ کے
چلنا سیکھ گئی
سنگ میل پہ ہندسوں کی پہچان سے آگے
آتے جاتے رستوں کے ہر نام سے آگے
پڑھنا سیکھ گئی
جلتی بجھتی روشنیوں اور رنگوں کی ترتیب
سفر کی سمتوں اور گاڑی کے پہیوں میں
الجھی راہوں پر
آگے بڑھنا سیکھ گئی
میری بیٹی دنیا کے نقشے میں
اپنی مرضی کے
رنگوں کو بھرنا سیکھ گئی
وہ ایک تعلیم یافتہ اور با خبر خاتون ہیں، اِس لیے خارجی مشاہدات،اور تجربات سے بھی صرفِ نظر نہیں کرتیں اور شعوری کیفیات کی عکاسی بھی اپنا ادبی فریضہ سمجھ کر کرتی ہیں۔ہمارے گردو پیش کی اجتماعی بے چینیاں، معاملات میں عجلتیں اور انسانی دل و دماغ کی بے حسی بھی اُن کے شعری موضوعات ہیں:
یوں لوگ دیکھتے تھے وہ اٹھتا ہوا دھواں
جلنا گھروں کا جیسے تماشا ہوا کرے
٭
کھلے جو در تو کسی خوف کا گماں نہ رہے
میں چاہتی ہوں کہیں کوئی بے اماں نہ رہے
٭
جسے بھی دیکھو چلا جا رہا ہے تیزی سے
اگرچہ کام یہاں کچھ نہیں ہے عجلت کا
٭
