فہمیدہ ریاض
فہمیدہ ریاض کا کہناتھا کہ:
’’ فیمنزم کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ میرے نزدیک فینزم کا مطلب یہ ہے کہ مرد کی طرح عورت بھی ایک مکمل انسان ہے جس کی لا محدود ذمہ داریاں ہیں۔ ان کو بھی امریکی کالے یا دلت کی طرح سماجی برابری حاصل کرنے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ عورتوں کو معاملہ مزید سنگین ہے۔ ان کو بلا جھجک اور بغیر کسی پریشان کا سامنا کیے ہوئے سڑکوں پر گھومنے کی آزادی ہے۔ ان کو تیرنے، محبت کی شاعری کرنے کی آزادی ہے، بالکل اسی طرح جس طرح مرد بلا کسی روک ٹوک کے کرتے ہیں اور ان پر کوئی اخلاقی پابندی عائد نہیں ہوتی ہے۔ یہ نا انصافی بہت واضع ہے، بہت ظالمانہ اور ناقابلِ معافی ہے۔‘‘
فہمیدہ ریاض (ولادت: 28 ؍جولائی 1946ء-وفات 21 ؍نومبر2018) اُردو زبان کی اُن شاعرات میں سے ہیں جن کو اپنے مخصوص اُسلوبِ بیاں اور شعری موضوعات کی وجہ سے بڑی شہرت حاصل ہوئی۔بعض ناقدینِ فن کا خیال ہے کہ اُن کی نظمیں چونکا دینے اور توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہیں۔جب ان کا مجموعہ بدن دریدہ منظرِ عام پر آیا تو ان پر شہوت انگیز اور حساس الفاظ استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا مگرفہمیدہ نے اپنے متعلق اِس رائے کو قطعی کوئی اہمیت نہ دی اور جرأتِ اظہار کے ساتھ اپناادبی سفر جاری رکھا۔وہ افسانہ نگار بھی تھیں مگر اُن کی ادبی شخصیت کا یہ رخ اُن کی شاعری کے سامنے ذرا ماند پڑ گیا اور اب اکثر ناقدین اور قاری اُن کی شاعری ہی بر بات کرتے ہیں۔طلاق جیسے موضوعات پر لکھے گئے اُن کے افسانوں میں، اُن کی ذاتی زندگی کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔میں نے اُن کی افسانہ نگاری پر بات کرتے ہوئے لکھا تھا کہ وہ جواں مرگ ایرانی شاعرہ، افسانہ نگارہ اور فلم ساز فروغ فرخ زاد سے بے حد متاثر تھیں۔ بل کہ اُن کی زندگی کے کئی گوشے فروغ فرخ زاد کی زندگی سے کافی مماثلت رکھتے ہیں۔ کالج سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد فہمیدہ ریاض کو ان کے اہلِ خانہ نے ان کو طے شدہ شادی کرنے پر اُبھارا۔ انہوں نے اپنے پہلے شوہر کے ساتھ کچھ برس برطانیہ میں گزارے۔ اس کے بعد طلاق لے کر پاکستان آگئیں۔ اس دوران میں انہوں نے بی بی سی اُردو ریڈیو میں کام کیا اور فلم کاری میں ڈگری حاصل کی۔ اس شادی سے ان کو ایک بیٹی ہے۔ دوسری شادی سے ان کو دو اولادیں ہوئیں۔ ان کے دوسرے شوہر کا نام ظفر علی اجان ہے۔ وہ ایک سیاست دان ہیں۔
در اصل فروغ ایک کمال درجے کی باصلاحیت نو جوان دوشیزہ تھی مگر کم عمر، نا پختہ اور نا تجربہ کار تھی۔غلط راہنمائی نے اُسے کافی حد تک آزاد خیال بنا دیا تھا۔مزید براں انقلابِ ایران سے پہلے خاص طور پر رضا شاہ پہلوی کے دور میں ایران کے مذہبی، سماجی اور معاشرتی حالات کچھ اِس نوع کے تھے کہ اُن میں آزاد خیالی اور مغرب پرستی عام تھی۔
فہمیدہ ریاض ایک کھلے ذہن کی عورت تھیں، اُنہوں نے عورت کے تجربات اور جنسی رویوں کو بڑے بے باکانہ انداز میں پیش کیا ہے۔بعض ناقدین اُنہیں شاعرات کی عصمت چغتائی بھی کہتے ہیں کہ اُس کے ہاں جنسی محرومی اور نا آسودگی کی پیش کش میں بلند آہنگی ہے۔اُن کی نظموں کا یہ نمایاں ترین پہلو کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ میں نے کہا کہ وہ افسانہ نگار بھی تھیں اور اُنہوں نے بہت خوب صورت تراجم بھی کیے ہیں مگر سب ادبی کاوشیں پس منظر میں چلی گئیں اور اُن کے فکر و فن کا یہ پہلو نمایاں ہو گیا۔ اگرچہ تقسیمِ ہند کے بعد اکثر شاعرات کے ہاںنسائی جذبات و احساسات کی ترجمانی بھر پور انداز میں ملتی ہے مگر جو ڈکشن فہمیدہ نے اپنائی ہے وہ اُن کی پیش رو، معاصرین اور آئندگان سے جدا گانہ ہے۔اِس لیے کہ عورت کے جنسی اور نفسیاتی معاملات کی اِس طرح کی پیش کش کہ وصال مرد ہی کی نہیں عورت کی ضرورت بھی محسوس ہو،ادب میں شجرِ ممنوعہ کا درجہ رکھتا تھا اور آج بھی ایسی ڈکشن اپنانا نا ممکن نہیں تو بے حد مشکل ضرور ہے۔یہاں تک کہ فنون کے لیے بھجوائی گئی کئی نظموں کے اُسلوبِ بیاں پر احمد ندیم قاسمی نے بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
وہ متحدہ ہندوستان کے شہر میرٹھ میں پیدا ہوئیں۔ حیدر آباد سندھ میں اُن کا خاندان آباد رہا۔۱۹۷۷ء کے ماشل لا سے اُن کی شاعری میں بھی ایک خاص تبدیلی رونما ہوئی۔اپنے سیاسی خیالات کی بنا پر ان کو کافی مشکلات کا سامناکرنا پڑا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں ان پر سیڈیشن سمیت تقریباً دس مقدمے کیے گئے۔ شوہر کو گرفتار کر لیا گیا، ایک مداح نے ان کو ضمانت پر رہا کروایا اور پھر ان کو اور ان کے دو چھوٹے بچوں اور بہن سمیت مشاعرہ کے بہانے بھارت بھیج دیا ۔ اس وقت بھارت کی مشہور شاعرہ امرتا پریتم نے اس ضمن میں وزیر اعظم اندرا گاندھی سے اس ضمن میں بات کی اور محترمہ فہمیدہ ریاض کو بھارت میں پناہ مل گئی۔ ان کے بچوں کو بھارت میں اسکول میں داخلہ مل گیا۔ بھارت میں ان کے کئی رشتہ دار رہتے تھے۔ بعد میں ان کے شوہر جیل سے رہا ہونے کے بعدبھارت آگئے اور ان کے ساتھ رہنے لگے۔ اس خاندان نے تقریباً سات برس جلا وطنی کی زندگی گزاری۔ پھر جنرل محمد ضیاء الحق کی وفات کے بعد بینظیر بھٹو کے ولیمہ کی شام کو وہ بھارت سے پاکستان لوٹ آئیں۔ اس دوران میں ان کا قیام بحیثیت شاعرہ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں رہا۔ اپنی جلاوطنی کے دوران میں انہوں ہندی بھی سیکھ لی تھی۔ان کا شعری مجموعہ اپنا جرم ثابت ہے جنرل ضیاء الحق کے ظلم و ستم کو بیاں کرتا ہے۔ انہوں نے اس مجموعہ میں اپنا تجربہ بیان کیا ہے۔
ان کی ابتدائی شاعری احمد ندیم قاسمی کے فنون میں شائع ہوئی، اس وقت ان کی عمر محض 15؍ برس تھی۔ 22؍ سال کی عمر میں ۱۹۶۸ء میںان کا پہلا شعری مجموعہ ’’پتھر کی زبان‘‘ منظرِ عام پر آیا۔یہ خانہ آب و گل فارسی زبان کی مشہور مثنوی مولانا روم کا اُردو ترجمہ ہے۔ انہوں نے شاہ عبدا للطیف بھٹائی اور شیخ ایاز کی کتابوں کا سندھی زبان سے اُردو میں ترجمہ بھی کیا ہے۔دیگر اہم کتب میںخط مرموز،گوداوری،کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے،گلابی کبوتر،بدن دریدہ،آدمی کی زندگی،کھلے دریچے سے،حلقہ میری زنجیر کا،ادھورا آدمی،قافلے پرندوں کے،سب لعل و گوہر،تم کبیر۔15؍ ادبی کتابوں کی مصنفہ کی پوری زندگی تنازعات سے گھری رہی ۔
