سعید راجہ ۔۔۔ میرے حصے میں ہے تقصیر کی ذمہ داری

میرے حصے میں ہے تقصیر کی ذمہ داری اور ملی ہے اسے تعزیر کی ذمہ داری شہر کا شہر ہے تخریب کے کاموں میں مگن چند کاندھوں پہ ہے تعمیر کی ذمہ داری لوگ تقدیر کے پہلو سے لگے بیٹھے تھے میں اٹھا لایا ہوں تدبیر کی ذمہ داری دل نے جو بات چھپانی ہو اسی کی بابت لی ہے کیوں آنکھ نے تشہیر کی ذمہ داری لوگ سیلاب کی لہروں میں بہے جاتے ہیں اس پہ بس جیسے ہے تصویر کی ذمہ داری جو ہمیں خواب دکھانے کے لیے…

Read More

شکیل جاذب ۔۔۔ عمر بھر کی چاہتوں کا گوشوارہ ایک تھا

عمر بھر کی چاہتوں کا گوشوارہ ایک تھا ہم کسی کے ایک تھے، کوئی ہمارا ایک تھا رنگ ، خدّ و خال، سائے اور اْجالے اب کُھلے تْو نہیں تھا جب یہاں منظر ہی سارا ایک تھا خوفِ ہم رنگی نے ہم کو دُور رکھا عمر بھر مِل نہ پائے ہم کبھی اپنا ستارا ایک تھا اُس کی آنکھوں میں جو ڈُوبے پھر نہ پار اُترے کہیں ایسا دریا تھا وہاں جس کا کنارا ایک تھا ہر کسی کے واسطے تو جاں ہتھیلی پر نہیں جس کی خاطر رایگانی تھی…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ جلیل عالی

جادۂ عشق میں تابندہ علم تیرے ہیں کیا بتائیں ہمیں کیا نقشِ قدم تیرےؐ ہیں دوسرا کون ہے اس شان کا ممدوح کوئی وصف جیسے سرِ قرطاس و قلم تیرےؐ ہیں اک تریؐ دُھن ہے ہمارے لیے آہنگِ حیات شوق سینے میں بہم آنکھ میں نم تیرےؐ ہیں دل کسی موسم و ماحول کا محتاج نہیں ہوں کسی حال میں بھی ہم ہمہ دم تیرےؐ ہیں کیا مجال آنکھ اٹھے اپنی کسی اور طرف آخری سانس تلک تیری قسم تیرےؐ ہیں یاد رکھتی ہے تریؐ کیفِ دگر میں ان کو…

Read More

خالد احمد

یہ عہد ایک مسیحا نفس میں زندہ تھا رہا نہ وہ بھی سلامت ، بکھر گئے ہم بھی

Read More