احمد حسین مجاہد ۔۔۔ اردو ماہیا

اک خوف تھا گاؤں میں باندھ لیے گھنگھرو پھر میں نے پاؤں میں

Read More

احمد حسین مجاہد

جب علی اکبر کو رخصت دی تو کہتے تھے حسین اب پسِ پردہ شبیہِ مصطفیٰ ہو جائے گی

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔۔۔ احمد حسین مجاہد

گناہگار ہوں، دہلیز پر بٹھا دیجے مگر حضور مری حاضری لگا دیجے جو مانگتے ہیں عطا کیجیے انھیں دنیا مہار ِ ناقہ مرے ہاتھ میں تھما دیجے کھڑا ہوں سر کو جھکائے میں سب سے آخر میں کسی سے یہ نہیں کہتا کہ راستہ دیجے

Read More

احمد حسین مجاہد ۔۔۔ ایک لا محدود 

ایک لا محدود  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کلائی پر بندھے اوقات ِ بے مصرف کے آلے کو تلائی کے تلے رکھا ہتھیلی گال کے نیچے کشادہ کی سرہانہ سر کے نیچے سے اٹھا کر سر پہ رکھا دونوں گھٹنے پیٹ سے جوڑے غم ِ دنیا کے دفتر کو سمیٹا راحت ِ محدود کا عادی بدن بستر پہ چھوڑا ایک لامحدود میں پہنچا جہاں ہر چیز ممکن ہے

Read More

احمد حسین مجاہد … وہ سمجھتا ہے اس کنائے کو

وہ سمجھتا ہے اس کنائے کوپُل کی حاجت نہیں ہے سائے کومیں جو کہتا ہوں کچھ نہیں ہو گاآگ میں ڈال سب کی رائے کولے کے دو چسکیاں مرے کپ سےشہد کر دے گا پھیکی چائے کوکھل کے دیتا نہیں وہ داد کبھیآگ لگ جائے اس کی ” ہائے ” کوتجھ کو دیکھا تو خود بدل لیں گےصائب الرائے اپنی رائے کومیں یہاں آخری مسافر ہوںاک نظر دیکھ لوں سرائے کو

Read More

احمد حسین مجاہد … اب میں دیوانہ ٔ دنیا ہوں نہ دیوانہ ٔ خواب

اب میں دیوانہ ٔ دنیا ہوں نہ دیوانہ ٔ خواب میرے ذمے ہے نگہبانی ِ ویرانہ ٔ خواب جس پہ اترا ہی نہیں غم کا صحیفہ کوئی مجھ سے وہ خاک سنے گا مرا افسانہ ٔ خواب یہ بھی ممکن ہے کرے حسب ِ تقاضا ہی سلوک مجھ سے شائستہ ٔ وحشت سے وہ بے گانہ ٔ خواب دو مقامات ہیں زیبائی ِ عالم کے کفیل اک تری بزم ہے اک میرا پری خانہ ٔ خواب یہ ترے ہونٹ ، یہ رخسار ، یہ آنکھیں ، یہ جبیں عرصہ ٔ…

Read More

احمد حسین مجاہد ۔۔۔۔۔۔ وہ سمجھتا ہے اِس کنائے کو

وہ سمجھتا ہے اِس کنائے کو پُل کی حاجت نہیں ہے سائے کو میں جو کہتا ہوں کچھ نہیں ہو گا آگ میں ڈال سب کی رائے کو لے کے دو چسکیاں مرے کپ سے شہد کر دے گا پھیکی چائے کو کھل کے دیتا نہیں وہ داد کبھی آگ لگ جائے اُس کی ’’ہائے ‘‘کو تجھ کو دیکھا تو خود بدل لیں گے صائب الرائے اپنی رائے کو میں یہاں آخری مسافر ہوں اک نظر دیکھ لوں سرائے کو

Read More