نجیب احمد نمبر ۔۔۔ جنوری 2020ء تا جون 2020ء

نجیب احمد نمبر ۔.۔ کارواں جنوری تا جون 2020ء DOWNLOAD

Read More

باقی احمد پوری ۔۔۔ کیا جانے کہاں مَیں جا رہا ہوں

کیا جانے کہاں مَیں جا رہا ہوں بس خاک بہت اڑا رہا ہوں تو پہلے پہنچ کے کیا کرے گا کچھ دیر ٹھہر، مَیں آ رہا ہوں پہچان ہی مسئلہ ہے سارا سب نام و نشاں مِٹا رہا ہوں یہ شہر چراغ بن گیا ہے دن رات جلا بجھا رہا ہوں اب خود سے مقابلہ ہے میرا اپنے ہی گلَے کو آ رہا ہوں سب غور سے مجھ کو سن رہے ہیں مَیں بات نئی سنا رہا ہوں آنا تو نہیں کسی نے باقی ویسے ہی دیے جلا رہا ہوں…

Read More

آنند نرائن مُلا ۔۔۔ غزل سے

غزل سے ۔۔۔۔۔۔ دلھن تھی تجھے مَیں نے ساتھی بنایا شبستاں سے میدان میں کھینچ لایا ترے نرم لہجے کو للکار دے دی ترے دستِ نازک میں تلوار دے دی دیا دردِ انساں کا احساس تجھ کو کھڑا کر دیا نظم کے پاس تجھ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شعری مجموعہ: کربِ آگہی ناشر: مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، اُردو بازار،  نئ دہلی سنِ اشاعت: جنوری ۱۹۷۷ء

Read More

پنڈت ہری چند اختر ۔۔۔ امیدوں سے دل برباد کو آباد کرتا ہوں

اُمیدوں سے دلِ برباد کو آباد کرتا ہوں مٹانے کے لیے دنیا نئی ایجاد کرتا ہوں تری میعادِ غم پوری ہوئی، اے زندگی! خوش ہو قفس ٹوٹے نہ ٹوٹے میں تجھے آزاد کرتا ہوں جفا کارو! مری مظلوم خاموشی پہ ہنستے ہو ذرا ٹھہرو، ذرا دم لو، ابھی فریاد کرتا ہوں میں اپنے دل کا مالک ہوں، مرا دل ایک بستی ہے کبھی آباد کرتا ہوں، کبھی برباد کرتا ہوں مُلاقاتیں بھی ہوتی ہیں مُلاقاتوں کے بعد اکثر وہ مجھ کو بھول جاتے ہیں، مَیں اُن کو یاد کرتا ہوں…

Read More

یوں ذہن میں جمالِ رسالت سما گیا ۔۔۔ حفیظ تائب

یوں ذہن میں جمالِ رسالت سما گیا میرا جہانِ فکر و نظر جگمگا گیا خلُقِ عظیم و اسوہء کامل حضورﷺ کا آدابِ زیست سارے جہاں کو سکھا گیا اُس کے قدم سے پھوٹ پڑا چشمہء بہار وہ دشتِ زندگی کو گلستاں بنا گیا انوارِ حق سے جس نے بھرا دامنِ حیات جو نکہتِ وفا سے زمانے بسا گیا رہ جائے گا بھرم مرے حرفِ نیاز کا اُس بارگاہِ ناز میں گر بار پا گیا کتنا بڑا کرم ہے کہ تائب سا بے ہنر توصیفِ مصطفٰےﷺ کے لیے چن لیا گی…

Read More

حسرت موہانی ۔۔۔۔ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے باہزاراں اضطراب و صدہزاراں اشتیاق تجھ سے وہ پہلے پہل دل کا لگانا یاد ہے بار بار اُٹھنا اُسی جانب نگاہِ شوق کا اور ترا غرفے سے وہ آنکھیں لڑانا یاد ہے تجھ سے کچھ ملتے ہی وہ بیباک ہو جانا مرا اور ترا دانتوں میں وہ اُنگلی دبانا یاد ہے کھینچ لینا وہ مرا پردے کا کونا دفعتاً اور ڈوپٹے سے ترا وہ منہ چھپانا یاد ہے جان کر سوتا تجھے،…

Read More