خواب گر لوگ خواب ہونے لگے اب تو موسم عذاب ہونے لگے اس کی آنکھیں تو اس کی آنکھیں ہیں اب تو پانی شراب ہونے لگے رقص کرنے لگیں جواں سوچیں اور جذبے رباب ہونے لگے حاشیے میں جو بار پاتے تھے آج وہ انتساب ہونے لگے ریگ زاروں پہ کیا عروج آیا سب کے سب آفتاب ہونے لگے راز دنیا پہ کھل گیا اصغر وہ مرا انتخاب ہونے لگے
Read MoreTag: اصغر علی بلوچ کی غزل
اصغر علی بلوچ ۔۔۔ لہلہاتے کھیت خوشوں سے بھرے
لہلہاتے کھیت خوشوں سے بھرے بارشوں سے لوگ خدشوں سے بھرے جھنگ کے بیلے ہیں رانجھوں سے تہی اور دریا ان کی لاشوں سے بھرے سیر چشمی دید بِن ممکن نہیں پیٹ کب روٹی کی باتوں سے بھرے روح اپنی دفتروں میں قید ہے سانس اپنے سرخ گرہوں سے بھرے علم و حکمت سے ہیں خالی حافظے شیلف ہیں گرچہ کتابوں سے بھرے منہدم آثار بھی آباد ہیں خالی پنجر بھی ہیں سانسوں سے بھرے
Read More