جلیل عالی ۔۔۔ سپرد ہیں ہر کسی کو احوال اپنے اپنے

سپرد ہیں ہر کسی کو احوال اپنے اپنے اٹھائے پھرتے ہیں ہم مہ و سال اپنے اپنے کسی کو کیا فیض دے یہاں رہبری کسی کی لئے پھریں ہر کسی کو جنجال اپنے اپنے نشاط لمحوں کو صید کرنے کی آرزو میں بچھائے بیٹھے ہیں سب یہاں جال اپنے اپنے جدا جدا ہر کسی کی پرواز کا زمانہ لہو،فضا،آسماں ،پر و بال اپنے اپنے جو دوسروں کی نگاہ کے آئنے نہ ہوتے تو دل کہاں ڈھونڈتے خد و خال اپنے اپنے

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ جدا جدا سب کے خواب تعبیر ایک جیسی

جدا جدا سب کے خواب تعبیر ایک جیسی ہمیں ازل سے ملی ہے تقدیر ایک جیسی سفر کٹھن ایک سا سبھی شوق راستوں کا وفا کے پائوں میں غم کی زنجیر ایک جیسی گزرتے لمحوں سے نقش کیا اپنے اپنے پوچھیں اِن آئنوں میں ہر ایک تصویر ایک جیسی تری شرر باریوں مری خاکساریوں کی ہوا کبھی تو کرے گی تشہیر ایک جیسی یہ طے ہوا ایک بار سب آزما کے دیکھیں نجاتِ قلب و نظر کی تدبیر ایک جیسی دلوں کے زمزم سے دھل کے نکلی ہوئی صدائیں سماعتوں…

Read More

دیباچہ ’’خواب دریچہ‘‘ ۔۔۔ احمد ندیم قاسمی

پیش گفتار جلیل عالی نے اپنے دل کی لوح پر سچائی کا اسم روشن کر رکھا ہے۔یہ اس کے اپنے الفاظ ہیں مگر خود ستائی سے مبرا،اس لئے سچے اور دیانت دارانہ ہیں۔اس نے مرئی اور ظاہری سچائیوں پر ہی اکتفا نہیں کیابلکہ ڈھکی چھپی سچائیوں کابھی کھوج لگایا ہے۔ان سچائیوں کو ہر جہت سے پرکھا اور برتا ہے۔ہر سچے شاعر کی طرح اس کی منزل بھی وہ آخری سچائی، وہ آخری صداقت یا وہ آخری حقیقت ہے، جس کے لئے انسان نے مہذب ہونا سیکھا ۔کون کہہ سکتا ہے…

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ افق پار سے کوئی دیتا صدائیں تو ہم کب ٹھہرتے

افق پار سے کوئی دیتا صدائیں تو ہم کب ٹھہرتے کبھی ساتھ لے کر نکلتیں ہوائیں تو ہم کب ٹھہرتے گزاری ہیں کتنی ہی طوفان راتیں گھروں میں سمٹ کر دمکتیں سرِ آسماں کہکشائیں تو ہم کب ٹھہرتے یہاں آندھیوں نے کہاں کوئی پرواز کی راہ چھوڑی ذرا بھی کہیں ساتھ دیتیں فضائیں تو ہم کب ٹھہرتے بلایا کئی آشنا موسموں نے ملن ساحلوں پر نہ دیوار بنتیں ہماری انائیں تو ہم کب ٹھہرتے زمانے کی برفاب رُت سے کہاں کشتیِ شوق رکتی اترتیں نہ اپنے لہو میں خزائیں تو…

Read More

فہرست ۔۔۔ ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ ڈر لگتا ہے

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم : جلیل عالی

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم

Read More

ماہ نامہ بیاض ، لاہور ۔۔۔۔ اگست 2023 ۔۔۔ فہرست

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ دلوں میں آرزو کیا کیا حسیں پیکر بناتی ہے

دلوں میں آرزو کیا کیا حسیں پیکر بناتی ہے مگر فطرت کہاں سب نقش لوحوں پر بناتی ہے پَروں میں مضطرب کن آسمانوں کی اڑانیں ہیں تمنا کس بہشتِ شوق کے منظر بناتی ہے جہانِ دل میں کیا کیا اشتیاق آباد ہیں دیکھیں نگاہِ لطف اُس کی اب کہاں محشر بناتی ہے یہاں خوشبو کی صورت روز و شب کی دھڑکنوں میں جی یہ دنیا ریت کرنے کے لئے پتھر بناتی ہے فرازِ وقت سے اُس کو صدا دینے تو دے عالی ہوا پھر دیکھ دیوارو ں میں کتنے در…

Read More