خوف کے کھُلتے ہیں ہر سو در ہی در جب خدا کا ڈر نہ ہو تو ڈر ہی ڈر کون ظاہر ہو گیا تج کر حجاب ہر طرف ہیں عاشقوں کے سر ہی سر کرتے ہیں بے دخل، گاؤں کے مکیں اور بنا لیتے ہیں اپنے گھر ہی گھر کوئی خوشیاں لے گیا کر کے شکار شوق کے ٹوٹے پڑے ہیں پر ہی پر اب ہو ظاہر لازمی، غیبی مدد ہو گیا دنیا پہ طاری شر ہی شر اے زمانے دو گھڑی کے عیش کا سیّدِ بے بس پہ احساں…
Read MoreTag: حسن پرویز سید کی شاعری
حسن پرویز سید ۔۔۔ جنوں میں خیر، دیوانوں کی یارب
جنوں میں خیر، دیوانوں کی یارب طلب ہے عشق میں جانوں کی یا رب تری طاعت میں جن کا خوں کیا ہے جزا اُن دل کے ارمانوں کی یا رب کبھی جن پر کوئی بادل نہ برسا خطا کیا ایسے ویرانوں کی یا رب سبھی قاتل اکٹھے ہو گئے ہیں مدد کر اپنے پروانوں کی یا رب وہ بارش ہے، کہ گویا بے خطا ہے دلِ سیّد پہ احسانوں کی یا رب
Read More