خاور اعجاز ۔۔۔ دو غزلیں

اِس لیے ہی تو اندھیرے میں دھرے رہتے ہیں شمع رُویوں کے ٹھکانوں سے پرے رہتے ہیں چھوڑ دیتے نہیں جو شاخِ شجر کا دامن زرد موسم میں بھی وہ پات ہرے رہتے ہیں سینہ و دل کہاں فارغ رہے عشاقوں کے یہ خزانے تو عجب غم سے بھرے رہتے ہیں شہر میں جس کی محبت کا ہے چرچا یارو کیا ستم ہے کہ ہم اُس سے ہی ڈرے رہتے ہیں شکوۂ جور و ستم کرتے ہیں ، لیکن حد ہے پھر اُسی شوخ کی خدمت میں مَرے رہتے ہیں …

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ تھل صحرا میں رات گزاری اوِر مقتل میں صبح

تھل صحرا میں رات گزاری اوِر مقتل میں صبح اِک کربل میں شام ہُوئی اور اِک کربل میں صبح سیرِ جہاں کے بعد ہمیں بس اِتنا یاد رہا جنگل ہی میں رین گذاری اوِر جنگل میں صبح شہر کی سڑکوں پر دیکھے ہیں ایسے لاغر جسم جاڑوں کی راتوں میں کرتے اِک کمبل میں صبح دو پل ہی کا میلہ تھا لیکن اِس جیون میں پچھلے پل میں شب کا سماں تھا ، اگلے پل میں صبح یہ تو بے گھر لوگوں کی مجبوری ہوتی ہے اِک ہوٹل میں شب…

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔۔ کچھ تیر کے باعث ہے نہ تلوار کے باعث

کچھ تیر کے باعث ہے نہ تلوار کے باعث مَیں کٹ کے گِرا اپنی ہی گفتار کے باعث کوتاہ قدوں پر تو عنایت کی نظر ہے مجھ پر ہے ستم قامتِ دستار کے باعث سب کو مِلا چپ رہنے پہ انعام میں خلعت مَیں مارا گیا جرأتِ اظہار کے باعث کچھ طالعِ خوابیدہ سے شکوہ نہیں اُن کو جھگڑا ہے مِرے دیدۂ بیدار کے باعث کھینچی تھی جو رُخ موڑنے کے واسطے خاور سیلاب در آیا اُسی دیوار کے باعث

Read More

حمدِ باری تعالیٰ ۔۔۔ خاور اعجاز

آئی ہے زمانے کی ہَوا آس لگائے پہلو میں لیے دل کا دِیا ، آس لگائے جاتے ہیں تِرے در سے سبھی جھولیاں بھر کے آتے ہیں تِرے در پہ سدا آس لگائے ہم عاصیوں پر نظرِ کرم اے مِرے مولا ہم بھی ہیں کھڑے روزِ جزا آس لگائے تجھ سے جو بندھی ہے ہر ِاک احساس کی ڈوری اِس دہر سے بندہ تِرا کیا آس لگائے مانگے پہ تو دُنیا بھی ہمیں دے گی بہت کچھ ہم تجھ سے ہیں کچھ اِس سے سوا آس لگائے نظریں ہیں طوافِ…

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ ریگِ صحرا تو کبھی آبِ رواں دیکھتے ہیں

ریگِ صحرا تو کبھی آبِ رواں دیکھتے ہیں مَیں یہی دیکھتا ہُوں ، لوگ کہاں دیکھتے ہیں شہرِ خوباں میں نظر آتا ہے کیا کیا ہم کو آؤ آنکھوں کو پرے رکھ کے یہاں دیکھتے ہیں اور کیا دیکھتے ہیں جانے یہ دُنیا والے تُو ہی آتا ہے نظر ہم تو جہاں دیکھتے ہیں حلقۂ چشمِ غزالاں میں اگر آئے ہیں کوئی دن اور تماشائے بتاں دیکھتے ہیں شیخ صاحب کو زباں پر نہ بیاں پر قابو رَو میں بہ جائیں تو پھر مُڑ کے کہاں دیکھتے ہیں

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ اگرچہ شہرِ جاں میں غم نیا کوئی نہیں ہے

اگرچہ شہرِ جاں میں غم نیا کوئی نہیں ہے مگر جو ہم پہ گذری دیکھتا کوئی نہیں ہے چراغوں کو بھی مشکل ہو رہا ہے سانس لینا کئی دن سے دریچوں میں ہَوا کوئی نہیں ہے اِسی خاطر کیا ہے فیصلہ صف بندیوں کا ہمیں معلوم ہے اَب راستہ کوئی نہیں ہے یونہی چلتا رہے گا کاروبارِ زندگانی یہ دھوکا سب کو تھا لیکن رَہا کوئی نہیں ہے ہمارے ہی عمل کی ہے سپیدی اور سیاہی زمانہ خود سے تو اچھا بُرا کوئی نہیں ہے

Read More

نعتؐ ۔۔۔ خاور اعجاز

نعتؐ آنکھ سے مَیں نے لگایا جب کبھی موئے رسولؐ میرے اطراف و جوانب پھیلی خوشبوئے رسولؐ جو کہا اور جو کِیا مرضیِ رب کے ساتھ تھا خوئے حق ہر دَم رہی ہے شاملِ خوئے رسولؐ حشر میں ہم سے گنہ گاروں کی بخشش ہو گئی ایک لحظہ کو ہُوا جب اِس طرف روئے رسولؐ کاخِ دُنیا کیا ہماری حیثیت پہچانتا ہم نبیؐ کی خاکِ پا ، ہم ذرّۂ کوئے رسولؐ کچھ زمینِ شوق ہی احسان مند اُنؐ کی نہیں شانۂ افلاک تک پھیلے ہیں گیسوئے رسولؐ

Read More