ڈاکٹر نواز کاوش…بہاول پور میں اردو ادب

بہاول پور میں اردو ادب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہاول پور تاریخی ، تہذیبی اور ثقافتی اعتبار سے اپنا ایک تشخص رکھتا ہے۔ سرسوتی کے مقدس دریا کی وجہ سے اس علاقے کا ویدوں میں کئی جگہ ذکر آیا ہے۔ گنویری والا کا مقام تاریخ کا گم گشتہ باب ہے۔جو بہاول پور کے ریگزار میں آج بھی شاندار ماضی کا گواہ ہے۔ پتن منارا، سوئی وہار اور ایسے کئی دوسرے مراکز بہاول پور کے مختلف علاقوں میں اپنی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ مسلمانوں نے سندھ کے راستے ملتان تک فتوحات کیں…

Read More

باتیں ندیم کی (انٹرویو) ۔۔۔۔۔ حامد یزدانی

باتیں ندیم کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کتاب کبھی نہیں مر سکتی‘‘ (پاکستان کی معتبر ترین ادبی شخصیت جناب احمد ندیم قاسمی نے یہ انٹرویو، اپنی ۸۲ ویں سال گرہ پر ریکارڈ کروایاتھا) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حامد یزدانی: ندیم صاحب! آپ فرماتے ہیں: گو سفر تو دھوپ نگر کا ہے، یہ طلسم حسنِ نظر کا ہے  کہیں چھائوں قربِ جمال کی، کہیں فیضِ عشق کے سائے ہیں تو دھوپ چھائوں کے اِس سفر کے 82ویں پڑائو پر، جب احبابِ ندیم آپ کی سالگرہ کا جشن منا رہے ہیں، آپ خود کیا محسوس کر رہے ہیں؟…

Read More

تیس منٹ ۔۔۔ حامد یزدانی

تیس منٹ ۔۔۔۔۔۔ ’’لو بھئی، سن انیس سو پچاسی کے تین سو پینسٹھ دنوں میں سے آخرِ کارایک اور دن اپنی تمام تر بیزار کن مصروفیات کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ جنگ کے دفتر تابشؔ سے ملاقات ہی تو آج کی آخری باقاعدہ مصروفیت تھی۔ سو، وہ بھی رات گیارہ بج کر بیس منٹ پر تمام ہوئی۔۔۔اور اب خیر سے گھر واپسی کا سفر۔۔۔لیکن آپ جناب یہاں کیسے۔۔۔؟‘‘ ’’مجھ سے ملنے؟ اور اِس وقت۔۔۔؟‘‘ ’’ارے نہیں، مجھے بُرا ہرگز نہیں لگا۔۔۔بس ذرا حیرانی ہوئی۔ دیکھیے، سامنے شملہ پہاڑی…

Read More

بانی ۔۔۔۔ اک دھواں ہلکا ہلکا سا پھیلا ہوا ہے اُفق تا اُفق

اک دھواں ہلکا ہلکا سا پھیلا ہوا ہے اُفق تا اُفق ہر گھڑی اک سماں ڈوبتی شام کا ہے اُفق تا اُفق کس کے دل سے اڑیں ہیں سلگتے ہوئے غم کی چنگاریاں دوستو! شب گئے یہ اجالا سا کیا ہے اُفق تا اُفق ہجر تو روح کا ایک موسم سا ہے جانے کب آئے گا سرد تنہائیوں کا عجب سلسلہ ہے اُفق تا اُفق سینکڑوں وحشتیں چیختی پھر رہی تھیں کراں تا کراں آسماں نیلی چادر سی تانے پڑا ہے اُفق تا اُفق روتے روتے کوئی تھک کے چپ…

Read More

خالد احمد ۔۔۔۔۔ دُھوپ کی، ریت کی، تنہائی کی، ویرانی کی

دُھوپ کی، ریت کی، تنہائی کی، ویرانی کی ہم نے اِک عمر ترے غم کی نگہبانی کی سایۂ دار اِدھر، سایۂ دیوار اُدھر چھائوں ڈھلتی ہی نہیں جرمِ تن آسانی کی عشق کاغذ کو بھی دیمک کی طرح چاٹ گیا خاک چھانے نہ ملی، دھاک سخن دانی کی صبح سے، شامِ شفق رنگ کا رستہ پوچھا راہ تکتی رہیں آنکھیں تری طغیانی کی یہ کرم آپ کیا اہلِ رضا پر، تُو نے ہمیں زحمت ہی نہ دی سلسلہ جنبانی کی

Read More