قابل اجمیری

عاشقوں کے جمگھٹے میں تیری بزمِ ناز تک شمع بجھتے ہی بدل جاتا ہے پروانوں کا رُخ

Read More

قابل اجمیری

ظلمت و نور میں تفریق ابھی مشکل ہے رات سو رنگ بدلتی ہے سحر ہونے تک

Read More

قابل اجمیری۔۔۔ ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے

ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے وحشت بڑے دلچسپ دوراہے پہ کھڑی ہے آداب تری بزم کے جینے نہیں دیتے دیوانوں کو جینے کی تمنا تو بڑی ہے دل رسم و رہِ شوق سے مانوس تو ہو لے تکمیلِ تمنا کے لئے عمر پڑی ہے

Read More