استاد قمر جلالوی ۔۔۔ یہ نا ممکن ہے ہو تیرا ستم مجھ سے عیاں کوئی

یہ نا ممکن ہے ہو تیرا ستم مجھ سے عیاں کوئی وہاں فریاد کرتا ہوں نہیں ہوتا جہاں کوئی شکایت وہ نہ کرنے دیں یہ سب کہنے کی باتیں ہیں سرِ محشر کسی کی روک سکتا ہے زباں کوئی عبث ہے حشر کا وعدہ ملے بھی تم تو کیا حاصل یہ سنتے ہیں کہ پہچانا نہیں جاتا وہاں کوئی انھیں دیر و حرم میں جب کبھی آواز دیتا ہوں پکار اٹھتی ہے خاموشی: نہیں رہتا یہاں کوئی لحد میں چین دم بھر کو کسی پہلو نہیں ملتا قمر ہوتا ہے…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ ہٹی زلف ان کے چہرے سے مگر آہستہ آہستہ

ہٹی زلف ان کے چہرے سے مگر آہستہ آہستہ عیاں سورج ہوا وقتِ سحر آہستہ آہستہ چٹک کر دی صدا غنچہ نے شاخِ گل کی جنبش پر یہ گلشن ہے ذرا بادِ سحر آہستہ آہستہ قفس میں دیکھ کر بازو اسیر آپس میں کہتے ہیں بہارِ گل تک آ جائیں گے پر آہستہ آہستہ کوئی چھپ جائے گا بیمارِ شامِ ہجر کا مرنا پہنچ جائے گی ان تک بھی خبر آہستہ آہستہ غمِ تبدیلیٔ گلشن کہاں تک پھر یہ گلشن ہے قفس بھی ہو تو بن جاتا ہے گھر آہستہ…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ ممکن ہے کوئی موج ہو ساحل ادھر نہ ہو

ممکن ہے کوئی موج ہو ساحل ادھر نہ ہو اے نا خدا کہیں یہ فریبِ نظر نہ ہو یہ تو نہیں کہ آہ میں کچھ بھی اثر نہ ہو ممکن ہے آج رات کوئی اپنے گھر نہ ہو تاروں کی سیر دیکھ رہے ہیں نقاب سے ڈر بھی رہے ہیں مجھ پہ قمر کی نظر نہ ہو

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ لحد والے امیدِ فاتحہ اور تجھ کو قاتل سے

لحد والے امیدِ فاتحہ اور تجھ کو قاتل سے کہیں ڈوبی ہوئی کشتی ملا کرتی ہے ساحل سے یہ تم نے کیا کہا مجھ پر زمانہ ہے فدا دل سے ہزاروں میں وفا والا ملا کرتا ہے دل سے نہ تھے جب آپ تو یہ حال تھا بیتابیِ دل سے کبھی جاتا تھا محفل میں کبھی آتا تھا محفل سے نگاہیں ان کی دیکھیں دیکھ کر یہ کہہ دیا دل سے جو تو بیٹھا تو فتنے سینکڑوں اٹھیں گے محفل سے دلوں میں آگئے جب فرق تو جاتے نہیں دل…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ مری وحشت کی شہرت جب زمانے میں کہیں ہوتی

مری وحشت کی شہرت جب زمانے میں کہیں ہوتی گریباں پاؤں میں ہوتا گلے میں آستیں ہوتی مشیت اے بتو، اللہ کی خالی نہیں ہوتی خدائی تم نہ کر لیتے اگر دنیا حسیں ہوتی پسِ مردن مجھے تڑپانے والے دل یہ بہتر تھا تری تربت کہیں ہوتی مری تربت کہیں ہوتی اثر ہے کس قدر قاتل تری نیچی نگاہوں کا شکایت تک خدا کے سامنے مجھ سے نہیں ہوتی ہمیشہ کا تعلق اور اس پر غیر کی محفل یہاں تو پردہ پوشِ چشمِ گریاں آستیں ہوتی نہ رو اے بلبلِ…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ کیا سے کیا یہ دشمن جاں تیرا پیکاں ہو گیا

کیا سے کیا یہ دشمنِ جاں تیرا پیکاں ہو گیا تھا کماں تک تیر دل میں آ کے ارماں ہو گیا باغباں کیوں سست ہے غنچہ و گل کی دعا اک مرے جانے سے کیا خالی گلستان ہو گیا کیا خبر تھی یہ بلائیں سامنے آ جائیں گی میری شامت مائلِ زلفِ پریشاں ہو گیا کچھ گلوں کو ہے نہیں میری اسیری کا الم سوکھ کر کانٹا ہر اک خارِ گلستاں ہو گیا ہیں یہ بت خانے میں بیٹھا کر رہا کیا کیا قمر ہم تو سنتے تھے تجھے ظالم…

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ آہ کو سمجھے ہو کیا دل سے اگر ہو جائے گی

آہ کو سمجھے ہو کیا دل سے اگر ہو جائے گی وہ تو وہ ان کے فرشتوں کو خبر ہو جائے گی پوری کیا موسیٰؑ تمنا طور پر ہو جائے گی تم اگر اوپر گئے نیچی نظر ہو جائے گی کیا ان آہوں سے شبِ غم مختصر ہو جائے گی یہ سحر ہونے کی باتیں ہیں سحر ہو جائے گی ؟ آ تو جائیں گے وہ میری آہِ پر تاثیر سے محفلِ دشمن میں رسوائی مگر ہو جائے گی کس سے پوچھیں گے وہ میرے رات کے مرنے کا حال…

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ بھلا اپنے نالوں کی مجھ کو خبر کیا شبِ غم ہوئی تھی کہاں تک رسائی

بھلا اپنے نالوں کی مجھ کو خبر کیا شبِ غم ہوئی تھی کہاں تک رسائی مگر یہ عدو کی زبانی سنا ہے بڑی مشکلوں سے تمہیں نیند آئی شبِ وعدہ اول تو آتے نہیں تھے جو آئے بھی تو رات ایسی گنوائی کبھی رات کو تم نے گیسو سنوارے کبھی رات کو تم نے مہندی لگائی گلہ بے وفائی کا کس سے کریں ہم ہمارا گلہ کوئی سنتا نہیں ہے خدا تم کو رکھے جوانی کے دن ہیں تمھارا زمانہ تمھاری خدائی ہر اک نے دیے میرے اشکوں پہ طعنے…

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ غلط ہے شیخ کی ضد ساقی محفل سے ٹوٹے گی

غلط ہے شیخ کی ضد ساقی محفل سے ٹوٹے گی قسم کھائی ہوئی توبہ بڑی مشکل سے ٹوٹے گی تمھیں رستے میں رہبر چھوڑ دیں گے قافلے والو اگر ہمت تمھاری دوریٔ منزل سے ٹوٹے گی نگاہِ قیس ٹکراتی رہے گی سارباں کب تک یہ بندش بھی کسی دن پردۂ محمل سے ٹوٹے گی غرورِ نا خدائی سامنے آ جائے گا اک دن یہ کشتی یک بہ یک ٹکرا کے جب ساحل سے ٹوٹے گی قمر اختر شماری کے لئے تیار ہو جاؤ کہ اب رسمِ محبت اس مہِ کامل…

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تم نے

نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تم نے کچھ نہ بن آیا تو آواز سنا دی تم نے اس کرم کو مری مایوس نظر سے پوچھو ساقی بیٹھا رہا اور اٹھ کے پلا دی تم نے مجھ پہ احساں نہ رکھو جان بچا لینے کا مرنے دیتے مجھے کاہے کو دعا دی تم نے یہ کہو پیشِ خدا حشر میں منثا کیا تھا میں کوئی دور کھڑا تھا جو صدا دی تم نے ان کے آتے ہی مزہ جب ہے مرا دم نکلے وہ یہ کہتے ہوئے رہ جائیں…

Read More