جو داغ دل پہ لگے تھے وہ دھو کے آیا ہوں میں خوش نصیب‘ مدینے میں رو کے آیاہوں مرے مقام ، مرے مرتبے پہ غور کریں میں مکّے اور مدینے سے ہو کے آیا ہوں دل و نظر میں حضوری کی کیفیت تھی عجب درِ نبی پہ بہت دیر رو کے آیا ہوں گناہ گار تھا، اپنے کیے پہ روتا رہا میں آبِ پاک سے دامن بھگو کے آیا ہوں حرم سے طیبہ تلک آنکھ بھی نہیں جھپکی عجیب رنگ تھے، دل میں سمو کے آیا ہوں متاعِ زیست…
Read MoreTag: نوید صادق کے اشعار
نوید صادق
ہم نے وقت جھیلا ہے، ہم نے دن گزارے ہیں تم سے کون پوچھے گا، جاو، جا کے سو جاو
Read More