اعجاز گل ۔۔۔ باغ کی رنگت سنہری رُت خزانی سے ہوئی

باغ کی رنگت سنہری رُت خزانی سے ہوئی کیمیا یہ خاک اپنی رایگانی سے ہوئی حل ہوا ہے مسئلہ یوں باہمی تفہیم سے گفتِ اوّل کی درستی گفتِ ثانی سے ہوئی رہ گیا کردار باقی یا مرا اخراج ہے بات کچھ واضح نہیں اب تک کہانی سے ہوئی بعد میں دیگر عوامل نے بنائی تھی جگہ اصل میں تو یہ زمیں تشکیل پانی سے ہوئی ہوں مکینِ بے سکونت کتنے رفت و حال کا منقسم یہ ذات ہر نقلِ زمانی سے ہوئی کب سے رکھا جا رہا ہوں درمیانِ وصل…

Read More

عباس رضوی ۔۔۔ اس خرابے کو بہرحال فنا ہونا ہے

Read More

ڈھونگ ۔۔۔۔۔۔ کاشف رحمان

ڈھونگ ۔۔۔۔۔۔ آج میں یہ دیکھ سکتا ہُوں کہ گُل مُجھ سا بننا چاہتے ہیں! گُل، سنہرے اور درخشاں وحشتِ فرطِ جنوں میں رقص کرتے، جھومتے! بے خودی کی موج میں دستِ صبا کو چومتے! گُل، خمیدہ سر،ملائم!سرکش و مغرور گُل! اختیار و جبر کے مدّ و جزر سے چُور گُل! گُل نڈر، بے خوف، پر ہارے ہُوئے، بے بس و لرزش بجاں گُل، ہجر کے مارے ہُوئے! گُل، تپاں لیکن سدا محوِ دُعا اپنے پتے بازوؤں کی مثل پھیلائے ہوئے اپنی اپنی ذات میں کھوئے ہُوئے بے تقاضا، بے…

Read More

غلام محمد قاصر ….. یوں تو صدائے زخم بہت دور تک گئی

یوں تو صدائے زخم بہت دور تک گئی اِک چارہ گر کے شہر میں جا کر بھٹک گئی خوشبو گرفتِ عکس میں لایا اور اس کے بعد میں دیکھتا رہا تری تصویر تھک گئی گُل کو برہنہ دیکھ کے جھونکا نسیم کا جگنو بجھا رہا تھا کہ تتلی چمک گئی میں نے پڑھا تھا چاند کو انجیل کی طرح اور چاندنی صلیب پہ آکر لٹک گئی روتی رہی لپٹ کے ہر اک سنگِ میل سے مجبور ہو کے شہر کے اندر سڑک گئی قاتل کو آج صاحبِ اعجاز مان کر…

Read More

نظیر اکبر آبادی ۔۔۔۔ ہو کیوں نہ تِرے کام میں حیران تماشا

ہو کیوں نہ تِرے کام میں حیران تماشا یا رب ! تِری قُدرت میں ہےہر آن تماشا لے عرش سےتا فرش نئے رنگ، نئے ڈھنگ ہر شکل عجائب ہے، ہر اِک شان تماشا افلاک پہ تاروں کے  جھمکتے ہیں طلسسمات اور رُوئے زمیں پر گل و ریحان تماشا جِنّات، پَری، دیو، ملک، حوُر بھی نادر اِنسان عجوبہ ہیں تو حیوان تماشا (ق) جب حسن کے جاتی ہے مرقع پہ نظر، آہ! کیا کیا نظر آتا ہے ہر اِک آن تماشا چوٹی کی گندھاوٹ کہیں دِکھلاتی ہےلہریں رکھتی ہے کہیں زُلفِ…

Read More