چلو اک کام کرتے ہیں
محبت عام کرتے ہیں
بہت دکھ سہہ لئے دل نے
نہیں رہنا اکیلے اب
اکٹھے ساتھ چلتے ہیں
نئے جیون میں ڈھلتے ہیں
نہیں ڈرنا
زمانے کے
کسی تازہ فسانے سے
بہت سے
یار روکیں گے
نئی دنیا بسانے سے
نہ دل
میں ڈر کوئی رکھنا
ہمارے واسطے
یارا تم اپنا
در کھلا رکھنا
Related posts
-
پروین شاکر ۔۔۔ نئے سال کی پہلی نظم
اندیشوں کے دروازوں پر کوئی نشان لگاتا ہے اور راتوں رات تمام گھروں پر وہی سیاہی... -
فہمیدہ ریاض ۔۔۔ اب سو جاؤ
اب سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو تم چاند سے ماتھے... -
حفیظ جالندھری ۔۔۔ ابھی تو میں جوان ہوں
ہَوا بھی خوش گوار ہے گلوں پہ بھی نکھار ہے ترنمِ ہزار ہے بہار پر بہار...
