چلو اک کام کرتے ہیں
محبت عام کرتے ہیں
بہت دکھ سہہ لئے دل نے
نہیں رہنا اکیلے اب
اکٹھے ساتھ چلتے ہیں
نئے جیون میں ڈھلتے ہیں
نہیں ڈرنا
زمانے کے
کسی تازہ فسانے سے
بہت سے
یار روکیں گے
نئی دنیا بسانے سے
نہ دل
میں ڈر کوئی رکھنا
ہمارے واسطے
یارا تم اپنا
در کھلا رکھنا
Related posts
-
غلام حسین ساجد ۔۔۔ خاک کی کیمیا
خاک کی کیمیا آسماں جاگتا ہے یا سویا ہوا ہے زمیں زاد ہوں میں، مجھے ایسے... -
اختر عثمان ۔۔۔ شہادت شہزادہ علی اصغر علیہ السّلام
شہادت شہزادہ علی اصغر علیہ السّلام جب تشنگی کمال ہوئی شیرخوار کو شبنم کی یاد آنے... -
شاہین عباس ۔۔۔ دو کا دھوکا
دو کا دھوکا ۔۔۔۔۔۔۔۔ طہارت کاقضیہ…دُہرا دجلہ دُہری تہری ناف کا ڈھلکا میں دو کوزوں کو...
