ستارو آؤ مری راہ میں بکھر جاؤ یہ میرا حکم ہے حالانکہ کچھ نہیں ہوں میں
Read MoreCategory: س
راحت اندوری
سورج ستارے چاند مرے ساتھ میں رہے جب تک تمہارے ہاتھ مرے ہاتھ میں رہے
Read Moreراحت اندوری
شاعر نے خود کو اس درجہ تنہا، سرد اور بےحس پایا کہ وجود ہی کمبل بن گیا، جذبات کی گرمی مفقود ہو چکی۔
یہ مصرع ایک ایسے باطن کی ترجمانی ہے جہاں رضا، راحت اور رفاقت سب خواب ہو چکے ہوں۔
احمد فراز
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
Read Moreانور شعور
سنے وہ، اور پھر کر لے یقیں بھی بڑی ترکیب سے سچ بولتا ہوں
Read Moreحفیظ بنارسی
سبھی کے دیپ سندر ہیں ہمارے کیا تمہارے کیا اجالا ہر طرف ہے اس کنارے اس کنارے کیا
Read Moreشاہین عباس
سمتوں کا اِس قدر خیال ؟ سمتوں کا اِس قدر ملال؟ چاروں کے بیچ بیٹھ کر ، چاروں کا غم کیا گیا
Read Moreمقبول عامر
سفر پہ نکلیں مگر سمت کی خبر تو ملے کوئی کرن کوئی جگنو دکھائی دے تو چلیں
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ منتخب اشعار
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیںوہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیںاگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیںتو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیںرقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سےتمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیںوہ ہنس کرکہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوےیہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیںنہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانیکہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے…
Read Moreجون ایلیا
سب سے پر امن واقعہ یہ ہے آدمی آدمی کو بھول گیا
Read More