احمد مشتاق

سنگ اٹھانا تو بڑی بات ہے اب شہر کے لوگ آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے دیوانے کو

Read More

ناظم علی خان ہجر

سیرت کسی کی خوب ہے صورت کسی کی خوب کوئی ہمارے دل میں ہے کوئی نظر میں ہے

Read More

ادا جعفری

سجدے تڑپ رہے ہیں جبینِ نیاز میں سر ہیں کسی کی زلف کا سودا لیے ہوئے

Read More

سیماب اکبر آبادی

سجاد اسیرِ جور ہوۓ صد حیف کسی نےیہ نہ کہا یہ پاؤں ستونِ کعبہ ہیں زنجیر کسےپہناتےہو

Read More

سیماب اکبر آبادی

سجاد اسیرِ جور ہوئے افسوس کسی نے یہ نہ کہا یہ پاؤں ستونِ کعبہ ہیں زنجیر کسے پہناتا ہے

Read More

راحت اندوری

شاعر نے خود کو اس درجہ تنہا، سرد اور بےحس پایا کہ وجود ہی کمبل بن گیا، جذبات کی گرمی مفقود ہو چکی۔
یہ مصرع ایک ایسے باطن کی ترجمانی ہے جہاں رضا، راحت اور رفاقت سب خواب ہو چکے ہوں۔

Read More