سوادۓ زلیخا کی تصویر نظر آئی پاۓ مہِ کنعاں کی زنجیر نظر آئی
Read MoreCategory: س
فراغ روہوی
سنا ہے امن پرستوں کا وہ علاقہ ہے وہیں شکار کبوتر ہوا تو کیسے ہوا
Read Moreاحمد مشتاق
سنگ اٹھانا تو بڑی بات ہے اب شہر کے لوگ آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے دیوانے کو
Read Moreناظم علی خان ہجر
سیرت کسی کی خوب ہے صورت کسی کی خوب کوئی ہمارے دل میں ہے کوئی نظر میں ہے
Read Moreادا جعفری
سجدے تڑپ رہے ہیں جبینِ نیاز میں سر ہیں کسی کی زلف کا سودا لیے ہوئے
Read Moreسیماب اکبر آبادی
سجاد اسیرِ جور ہوۓ صد حیف کسی نےیہ نہ کہا یہ پاؤں ستونِ کعبہ ہیں زنجیر کسےپہناتےہو
Read Moreسیماب اکبر آبادی
سجاد اسیرِ جور ہوئے افسوس کسی نے یہ نہ کہا یہ پاؤں ستونِ کعبہ ہیں زنجیر کسے پہناتا ہے
Read Moreراحت اندوری
ستارو آؤ مری راہ میں بکھر جاؤ یہ میرا حکم ہے حالانکہ کچھ نہیں ہوں میں
Read Moreراحت اندوری
سورج ستارے چاند مرے ساتھ میں رہے جب تک تمہارے ہاتھ مرے ہاتھ میں رہے
Read Moreراحت اندوری
شاعر نے خود کو اس درجہ تنہا، سرد اور بےحس پایا کہ وجود ہی کمبل بن گیا، جذبات کی گرمی مفقود ہو چکی۔
یہ مصرع ایک ایسے باطن کی ترجمانی ہے جہاں رضا، راحت اور رفاقت سب خواب ہو چکے ہوں۔
