سجدے تڑپ رہے ہیں جبینِ نیاز میں سر ہیں کسی کی زلف کا سودا لیے ہوئے
Read MoreCategory: س
سیماب اکبر آبادی
سجاد اسیرِ جور ہوۓ صد حیف کسی نےیہ نہ کہا یہ پاؤں ستونِ کعبہ ہیں زنجیر کسےپہناتےہو
Read Moreسیماب اکبر آبادی
سجاد اسیرِ جور ہوئے افسوس کسی نے یہ نہ کہا یہ پاؤں ستونِ کعبہ ہیں زنجیر کسے پہناتا ہے
Read Moreراحت اندوری
ستارو آؤ مری راہ میں بکھر جاؤ یہ میرا حکم ہے حالانکہ کچھ نہیں ہوں میں
Read Moreراحت اندوری
سورج ستارے چاند مرے ساتھ میں رہے جب تک تمہارے ہاتھ مرے ہاتھ میں رہے
Read Moreراحت اندوری
شاعر نے خود کو اس درجہ تنہا، سرد اور بےحس پایا کہ وجود ہی کمبل بن گیا، جذبات کی گرمی مفقود ہو چکی۔
یہ مصرع ایک ایسے باطن کی ترجمانی ہے جہاں رضا، راحت اور رفاقت سب خواب ہو چکے ہوں۔
احمد فراز
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
Read Moreانور شعور
سنے وہ، اور پھر کر لے یقیں بھی بڑی ترکیب سے سچ بولتا ہوں
Read Moreحفیظ بنارسی
سبھی کے دیپ سندر ہیں ہمارے کیا تمہارے کیا اجالا ہر طرف ہے اس کنارے اس کنارے کیا
Read Moreشاہین عباس
سمتوں کا اِس قدر خیال ؟ سمتوں کا اِس قدر ملال؟ چاروں کے بیچ بیٹھ کر ، چاروں کا غم کیا گیا
Read More