سلام ۔۔۔ خورشید ربانی

سلام خدا کی راہ کے بامِ شہِ ہدیٰؐ کے چراغ نظر نظر میں فروزاں ہیں کربلا کے چراغ نشانِ قریۂ باطل مٹاتے جاتے ہیں حسینؓ جادۂ حق میں جلا جلا کے چراغ فضائے خانۂ اسلام جن سے روشن ہے نبیؐ کے گھر کے دیے ہیں رہِ رضا کے چراغ وہ آب جُو کہ جو پہنچی نہیں تھی پیاسوں تک جلاتی پھرتی ہے پلکوں پہ اب عزا کے چراغ یہ ماہ و مہر حقیقت میں ہیں اُنھی کا نُور جلے ہوئے ہیں جو اب سامنے ہوا کے چراغ ہوائے کوفۂ شب…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ سلام

کیوں چپ ہے اسی شان سے پھر چھیڑ ترانہ تاریخ میں رہ جائے گا مردوں کا فسانہ مٹتے ہوئے اسلام کا پھر نام جلی ہو لازم ہے کہ ہر فرد حسین ابن علی ہو یہ جو مچل رہی ہے صبا پھٹ رہی ہے پو یہ جو چراغِ ظلم کی تھرا رہی ہے لو در پردہ یہ حسین کے انفاس کی ہے رو حق کے چھڑے ہوئے ہیں جو یہ ساز دوستو یہ بھی اسی جری کی ہے آواز دوستو پھر حق ہے آفتاب لب بام اے حسین پھر بزم آب…

Read More

عارف حسین ۔۔۔ سلام بحضور امامؑ عالی مقام

سلام بحضور امامؑ عالی مقام ٹکڑے ہو ہو کے سرِ دشت بکھرنے کے لئے ہم تو آئے ہیں یہاں آپ پہ مرنے کے لئے لیجئے ہم سُمِ اسپاں سے کچل جاتے ہیں آپ زحمت نہ کریں دفن بھی کرنے کے لئے کھینچ لائی ہے یہاں، غازہِ خونیں کی کشش آگئے ہم بھی یہاں بننے سنورنے کے لئے اس جلالیؑ کو اے مشکیزہِ بے آب سنبھال نہر کو خشک نہ کردے تجھے بھرنے کے لئے آسماں آیا تھا پھیلائے ہوئے دامنِ عرش سر ہی راضی نہ تھا نیزے سے اترنے کے…

Read More

سلام ۔۔۔ شہاب صفدر

سلام کوئی چراغ جب انکارِ شام بھی نہ کرے کرے گا کون اگر یہ امام بھی نہ کرے مری کسی سے نہیں دشمنی مگر جو شخص نہیں حسین کا مجھ سے کلام بھی نہ کرے گراں گزرتی ہے جس دل پہ یادگارِ حسین حضورِحق میں سجود و قیام بھی نہ کرے ہو بادشاہ جو دنیا کے در کا سگ ، اس کو علی کا چاہنے والا سلام بھی نہ کرے جو آنکھ بخشی ہے مولا تو التفات مزید بجز عزائے حسین اور کام بھی نہ کرے وہی تو کوفی ہے…

Read More

ثروت حسین ۔۔۔ سلام یا حسینؑ

سلام یا حسینؑ نظر سے شامِ غریباں کا وہ سماں نہ گیا فراخِ دشت سے پھر ایسا کارواں نہ گیا جھلک اٹھا ہے کنارِ افق سے تابہ افق ابد کنار ہوا خون رایگاں نہ گیا وہ شب چراغ کہ تیرے لہو سے روشن تھا شعاعِ مہر ہوا تو کہاں کہاں نہ گیا ہزار شکر کہ وہ ایک لمحۂ امید جہانِ صبر سے بے صوت بے اذاں نہ گیا ہوائیں تیز تھیں لیکن ہمارے ہاتھوں سے وہ اک نشان وہ دامانِ خونچکاں نہ گیا

Read More

سیماب اکبر آبادی

سجاد اسیرِ جور ہوۓ صد حیف کسی نےیہ نہ کہا یہ پاؤں ستونِ کعبہ ہیں زنجیر کسےپہناتےہو

Read More

نذرانہء عقیدت بحضور امامِ عالی مقامؑ ۔۔۔ صغیر انور

نذرانۂ عقیدت بحضور امامِ عالی مقامؑ سب سے عالی نسب، حُسینؑ آباد دو جہاں کی طلب، حُسین ؑ آباد آپ ان پر درود پڑھتا ہے آپ کہتا ہے رب، حُسینؑ آباد اِس سے عمریں طویل ہوتی ہیں لوگ کہتے ہیں جب،حُسینؑ آباد دھیان جاتا ہے کربلا کی طرف بول اُٹھتے ہیں لب،حُسینؑ آباد

Read More

ابرار حسین اکبر

کربلا والیاں دی گل کریئے آ خدا والیاں دی گل کریئے جیتھے خالق درود پڑھدا اے "انما” والیاں دی گل کریئے

Read More

خالد خواجہ ۔۔۔ سلام

سلام لہو لباس پہن، بن سنور نکلتے ہیں جنہیں نکلنا ہو بارِ دگر نکلتے ہیں حسین ابنِ علی غم ہزار ہوتے ہیں پہ تیرے غم ہی غمِ معتبر نکلتے ہیں یزیدیوں کیلئے موت بن کے جانا ہے پلٹ کے آنا نہیں، سوچ کر نکلتے ہیں قسم خدا کی، کہ ان سا حَسین کوئی نہیں نہا کے خون میں جو سر بسر نکلتے ہیں اشارہ پاتے ہی سارے حُسینی دیوانے اٹھا کے کندھوں پہ عزمِ سفر نکلتے ہیں کہیں پہ بند ہے اب بھی فرات کا پانی کہیں پہ اب بھی…

Read More

دلاور علی آزر ۔۔۔ سبھی تشنہ سبو میں کربَلا ہے

سبھی تشنہ سبو میں کربَلا ہے لہو کی جستجو میں کربَلا ہے مِرے کانوں میں ہیں بچوں کی چیخیں اور اُن کی ہاوہو میں کربَلا ہے وہی ماتم بپا خیمہ بہ خیمہ وہی پنہاں لہو میں کربَلا ہے نہیں وہ پیاس ہونٹوں پر ہمارے اگرچہ گفتگو میں کربَلا ہے نمایاں ہیں اِن آنکھوں میں جو آنسو مِری خاکِ نمو میں کربَلا ہے نمی ہے ہَر طرف منظر بہ منظر فضائے چار سو میں کربَلا ہے ہمارا خون ہے سبزے میں آزَر گلوں میں رنگ و بو میں کربَلا ہے

Read More