فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا
Read MoreCategory: ف
قتیل شفائی
فرازِ بے خودی سے تیرا تشنہ لب نہیں اترا ابھی تک اس کی آنکھوں سے خمارِ شب نہیں اترا
Read Moreصفی لکھنوی
فرقتِ میں مہِ نَو کی تنویر نظر آئی محوِ خم ابر کو شمشیر نظر آئی
Read Moreمیر تقی میر
فرو آتا نہیں سر ناز سے اب کے امیروں کا اگرچہ آسماں تک شور جاوے ہم فقیروں کا
Read Moreخالد احمد
فصل تو نے بوئی تھی ، لیکن اسے کاٹیں گے ہم دیکھ تو حدِّ نظر تک لہلہاتی دوریاں
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ منتخب اشعار
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیںوہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیںاگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیںتو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیںرقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سےتمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیںوہ ہنس کرکہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوےیہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیںنہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانیکہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے…
Read Moreمحسن اسرار
فضا خاموش ہے اور میں بھی چپ ہوں مگر اک مشورہ سا ہو رہا ہے
Read Moreظفر اقبال
فرق اتنا نہ سہی عشق و ہوس میں لیکن میں تو مرجاؤں ترا رنگ بھی میلا کرکے
Read Moreشیخ ظہوالدین حاتم
فقیروں سے سنا ہے ہم نے حاتم مزا جینے کا مر جانے میں دیکھا
Read Moreاعجاز عبید ۔۔۔ وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں
وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں جاگنے کی ہے شب کچھ دعا مانگ لوں اس مرض کی تو شاید دوا ہی نہیں دے رہا ہے وہ، دل کی شفا مانگ لوں عفو ہوتے ہوں آزار سے گر گناہ میں بھی رسوائی کی کچھ جزا مانگ لوں شاید اس بار اس سے ملاقات ہو بارے اب سچے دل سے دعا مانگ لوں یہ خزانہ لٹانے کو آیا ہوں میں اس کو ڈر ہے کہ اب جانے کیا مانگ لوں اب کوئی تیر تر کش میں باقی نہیں اپنے رب…
Read More