ادا جعفری

ابھی صحیفۂ جاں پر رقم بھی کیا ہوگا ابھی تو یاد بھی بے ساختہ نہیں آئی

Read More

راحت اندوری

بوتلیں کھول کر تو پی برسوں آج دل کھول کر بھی پی جائے

Read More

راحت اندوری

شام نے جب پلکوں پہ آتش دان لیا کچھ یادوں نے چٹکی میں لوبان لیا

Read More

نجیب احمد

پھر یوں ہوا کہ مجھ پہ ہی دیوار گر پڑی لیکن نہ کھل سکا پس دیوار کون ہے

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ رم خوردہ ہرنوں کو راہ پر لانے نکلے

رم خوردہ ہرنوں کو راہ پر لانے نکلے چیتے مل کر خون سے پیاس بُجھانے نکلے اَب کے ستمگر ، کھوپڑیوں سے ہوں جو مرصّع اُن میناروں کی بنیاد اُٹھانے نکلے وہ کہ بہت نازاں تھے مہذّب ہونے پر جو ہوّے بن کر خلق کو ہیں دہلانے نکلے یکجا کر کے جتنے کھلونے تھے بارودی بالغ بچّے ، الٹا کھیل رچانے نکلے ہم نے جلائے شہروں شہروں جن کے پُتلے وہ جسموں کی تازہ فصل جلانے نکلے ہم جانے کس بِرتے پر نم آنکھیں لے کر سنگ دلوں کو ماجد…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ حیرت ہے آہ صبح کو ساری فضا سنے

حیرت ہے آہ صبح کو ساری فضا سنے لیکن زمیں پہ بت نہ فلک پر خدا سنے فریادِ عندلیب سے کانپے تمام باغ لیکن نہ گل نہ غنچہ نہ باد صبا سنے خود اپنی ہی صداؤں سے گونجے ہوئے ہیں کان کوئی کسی کی بات سنے بھی تو کیا سنے یہ بھی عجب طلسم ہے اے شورشِ حیات! درد آشنا کی بات نہ درد آشنا سنے شاہوں کے دل تو سنگ ہیں شاہوں کا ذکر کیا یہ بھی نہیں کہ حال گدا کا گدا سنے عالم ہے یہ کہ گوشِ…

Read More

راحت اندوری

روز تاروں کو نمائش میں خلل پڑتا ہے چاند پاگل ہے اندھیرے میں نکل پڑتا ہے

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ وہ بھی اُٹھا کے سنگِ ملامت اُداس تھا

وہ بھی اُٹھا کے سنگِ ملامت اُداس تھا ہم کو بھی دوستی کے تقدس کا پاس تھا ٹھوکر لگی تو آنکھ سے آنسو نکل پڑے اک سنگِ رہگزارِ وفا غرقِ یاس تھا پگھلا دیا تھا روح کو دوری کی آنچ نے تیرے دُکھوں کا رنگ بدن کا لباس تھا تم آ گئے تو لب پہ تبسم بھی آ گیا ورنہ تو شام ہی سے مرا دل اُداس تھا نفرت کی تیز دھارنے شہ رگ ہی کاٹ دی اتنا خلوص تھا کہ سراپا سپاس تھا مدت ہوئی جسے پسِ حد نظر…

Read More

محسن اسرار

ابھی تک میں تری نظروں میں اچھا کیوں نہیں ہوں مجھے اپنے برے ہونے پہ قابو کیوں نہیں ہے

Read More

محسن اسرار : اچھا ہے وہ بیمار جو اچھا نہیں ہوتا

اچھا ہے وہ بیمار جو اچھا نہیں ہوتا جب تجربے ہوتے ہیں تو دھوکا نہیں ہوتا جس لفظ کو میں توڑ کے خود ٹوٹ گیا ہوں کہتا بھی تو وہ اس کو گوارہ نہیں ہوتا تکذیبِ جنوں کے لیے اک شک ہی بہت ہے بارش کا سمے ہو تو ستارہ نہیں ہوتا کیا کیا در و دیوار مری خاک میں گم ہیں پر اس کو مرا جسم گوارہ نہیں ہوتا ہم لوگ جو کرتے ہیں وہ ہوتا ہی نہیں ہے ہونا جو نظر آتا ہے، ہونا نہیں ہوتا جس دن…

Read More