خالد علیم ۔۔۔ اِبتدا (حمدیہ)

اِبتدا تو لازوال ہے ، سب کچھ تری بساط میں ہے مرا وجود شب و روز اِنحطاط میں ہے تُو نورِ مسجد و معبد، تُو میرا ربّ ِاَحد مرا حدیقہ جاں تیرے اِنضباط میں ہے جو لب پہ جاری ہو سُبَحانَ رَبّیَ الْاَعْلیٰ تو دل سرور میں ہے، رُوح بھی نشاط میں ہے میں تیری حمد کہوں، کیا مجال ہے میری میں تیری مدح لکھوں، کب مری بساط میں ہے میں تجھ سے چاہوں مدد نعتِ مصطفیٰ ؐ کے لیے مرے قلم کی دُعا اِھْدِنَاالصَّراط میں ہے تری خبر مجھے…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ نعتیہ رباعی

ہر حرف ہے مانند ِزمُرَّد روشن تشدید و زیر و زبر و مَد روشن اوصاف و محامدِ محمدؐ سے ہوا عالم عالم چراغِ اَبجد روشن

Read More

حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ خاور اعجاز

لبوں پہ رہتی ہیں ہر دم جو مدحتیں اُس کی شمار کرتے ہیں ہم اِن کو نعمتیں اُس کی ہمیں نصیب ہے اِک عاجزی ، زمانے میں مکان اُس کا ہے ، در اُس کا ، دولتیں اُس کی کتاب ، ذاتِ محمدؐ ، یہ سانس کی ڈوری ہم عاصیوں پہ ہیں کیا کیا عنایتیں اُس کی مکانِ زیست میں ہم اِس طرح سے رہتے ہیں کہ فرشِ خاک ہمارا ہے اور چھتیں اُس کی رہِ یقین میں ہم ڈگمگاتے رہتے ہیں ہمیں سنبھالتی رہتی ہیں رحمتیں اُس کی

Read More

عقیدت ۔۔۔ خاور اعجاز

غم کی خوشبو سے معطر ہے کتابِ کربلا ہر ورق ہے سرخ از خونِ گلابِ کربلا فجر کا لمحہ طلوعِ مہرِ دُنیا کے لیے عصر کی ساعت برائے آفتابِ کربلا حرفِ آخر میں لکھا جائے گا صرف اسمِ حسینؓ نامِ اسمٰعیل ؑہو گا انتسابِ کربلا کیا ہمارے دَور میں بھی آئے گا کوئی حسینؓ یہ جو کھُلتا جا رہا ہے ہم پہ بابِ کربلا ہم نے پوچھا کیا یہی ہوتا ہے مہماں سے سلوک کچھ نہیں بس اِک خموشی تھی جوابِ کربلا وقت کے دربار میں ہوتے ہیں سارے فیصلے…

Read More

گلزار بخاری ۔۔۔ رباعیات

اللہ کے ہی اسم سے آغاز کریں اکرام و عنایات کا در باز کریں وہ ذات ازل سے ہے جو رحمان و کریم اس کے ہی کرم سے سُخن اعجاز کریں حق ہم سرائی کا ادا کیسے ہو عاجز کو یہ توفیق عطا کیسے ہو ہم وصف محمدؐ کے نہیں گن سکتے محمود کی توصیف و ثنا کیسے ہو ٹھہرے ہیں ولّی قبیلۂ ارباب سُخن کہنا ہے وہی محرم آداب سخن دَر تازہ مضامیں کا نہیں بند کبھی تا روزِ قیامت ہے کُھلا باب سُخن کہہ دو دل و جان…

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ ہائیکو

سورج اور جاپان بالکل ایسے ہیں جیسے ہم اور پاکستان اک سا فکر و فن میرؔ و غالبؔ سے شاعر باشوؔ اور بوسنؔ میرے گھر کی شان دروازوں کی آنکھیں ہیں دیواروں کے کان دل موسم بدلے وہ بھی اگر میری ہی طرح فون کی سم بدلے باہر دھول ہی دھول آنگن میں لیکن مہکیں چنبیلی کے پھول

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔ ماہیے

اپنوں میں نہیں دیکھا تعبیر تو کیا ، اُس کو سپنوں میں نہیں دیکھا ……… بھرپور جوانی ہے جاناں کا سراپا بھی دلچسپ کہانی ہے ……… برہم ہوں زمانے سے روکا ہے ہمیں اس نے کیوں ملنے ملانے سے ……… دل توڑ گیا کوئی آتے ہوئے جب ، اپنا رخ موڑ گیا کوئی جس دن سے وہ روٹھا ہے دل جڑ ہی نہیں پایا کچھ ایسے یہ ٹوٹا ہے

Read More

حمدِ باری تعالیٰ ۔۔۔۔ واجد امیر

کیسے مرے محدود سے وجدان میں آئے کیسے وہ بھلا عقل کے جُزدان میں آئے بے شک نہ کبھی وہ مری پہچان میں آئے کچھ عکس کبھی دیدۂ حیران میں آئے انسان اگر سب ترا انکار بھی کردیں کچھ فرق نہ اللہ تری شان میں آئے تشکیک کا دھبہ نہ لگے دل کے وَرق پر کیوں نقص زرا سا مرے ایمان میں آئے اِک خوف رگوں میں جو اُتارے ہے تکاثر اِک کیف الگ سورۂ رحمٰن میں آئے دیتا ہے تسلّی کوئی ان دیکھا مسیحا وسواس اگر کچھ دلِ نادان…

Read More

محمد نصیر زندہ ۔۔۔ رباعیات

دستار سے اوجِ عرفاں کیوں نہ ہوا سر عیب و ہنر کا عریاں کیوں نہ ہوا واعظ کی نادانی پہ رحم آتا ہے مسلم تو ہوا پر انساں کیوں نہ ہوا آوارہ خیال خواب داں میں اتر آئے نظارے پھسل کے سائباں میں اتر آئے وہ یاد کے رخسار پہ بوسے کا پھول خوشبو کے سبھی رنگ گماں میں اتر آئے قلزم کا سفیر آبلہ پا نکلا دریا بھی آرزو کا پیاسا نکلا آئینۂ رنگ میں در آئی تصویر افسانہ حقیقت کا تماشا نکلا اندیشۂ تعبیر سے ڈر جاتے ہیں…

Read More

محمد ارشاد ۔۔۔۔ رباعیات

بہتی پوشاک بہتی چھوڑے گی کیا یا اپنی طرف لپک کے موڑے گی کیا قابض ہیں گھاٹ پر اُٹھائی گیرے ننگی دھوئے گی کیا نچوڑے گی کیا اے زاہدِ گوشہ گیرہاں اے مزدور اللہ سے لو اور اس کے بندوں سے نفور کیا مُزدِ عبادات یہی ہے کہ ملے دنیا میں پری وگرنہ جنت میں حور اے تُو کہ تری معاش ہے طُرفہِ معاش گُم ڈھیر میں بھُس کے ایک نخمِ خشخاش مت ڈھونڈ خدا کو لامکانی ہے خدا گُم تُو ہے خدا نہیں ہے کر خود کو تلاش ہوتی…

Read More