سلام نہ گھر ‘ نہ راہ گُذر ہے’ عجیب منظر ہے قیام ہے’ نہ سفر ہے ‘عجیب منظر ہے سُنا تھا زر کا تہہ ِ خاک سے نکل آنا مگر یہ خاک ہی زر ہے’ عجیب منظر ہے ہرے درختوں کے دامان و دست خالی ہیں بُریدگاں پہ ثمر ہے’ عجیب منظر ہے شکار منع ہے جس میں’ اُسی مہینے میں امام خون میں تر ہے ‘عجیب منظر ہے نثار کرب و بلامیں، تری اداسی پر ترا یہ عیب ہُنر ہے، عجیب منظر ہے مِٹا مِٹا کے شبیہوں کو جاوداں…
Read MoreCategory: متفرقات
سلام بحضور امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔ واصف علی واصف
سلام بحضور امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ السّلام اے نُورِ اوّل کے نشاں السّلام اے راز دارِ کُن فکاں السّلام اے داستانِ بے کسی السّلام اے چارہ سازِ بے کساں السّلام اے دستِ حق، باطل شکن السّلام اے تاجدارِ ہر زماں السّلام اے رہبرِ علمِ لَدُن السّلام اے افتخارِ عارفاں السّلام اے راحتِ دوشِ نبی السّلام اے راکبِ نوکِ سناں السّلام اے بوترابی کی دلیل السّلام اے شاہبازِ لا مکاں السّلام اے ساجدِ بے آرزو السّلام اے راز دارِ قُدسیاں السّلام اے ذو الفقارِ حیدری…
Read Moreاختر عثمان
جب روح سے کہتے ہو کہ لبّیک حسینا ! پھر جی سے یزیدوں کا یہ ڈر کیوں نہیں جاتا ! کہتے ہو کہ ہو اُسوۂ شبّیر پہ قائم دربار میں کیوں جاتے ہو ، سَر کیوں نہیں جاتا !
Read Moreیوسف خالد
کوفہ مزاج لوگ کہاں جان پائیں گے جلتا دیا بجھا کے ہوا کون سرخرو کس کی عطا ہے دہر میں اب تک وفا پرست رہتے ہیں سر بلند ہی باطل کے روبرو
Read Moreشاہد اشرف ۔۔۔ اہلِ ایمان کو قطرہ بھی میسّر نہیں تھا
اہلِ ایمان کو قطرہ بھی میسّر نہیں تھا آبِ دریا, لبِ دریا بھی میسّر نہیں تھا پانی پیتے ہوئے لوگوں کی طرف دیکھتا ہوں جتنا ضائع ہوا اتنا بھی میسّر نہیں تھا آگے جانے کے لیے شرط تھی بیعت کر لو واپسی کے لیے رستہ بھی میسّر نہیں تھا اس گھرانے سے زمانے کو شفا ہے جس کے ایک بیمار کو پُرسا بھی میسّر نہیں تھا ساتھ اُس وقت دیا ابنِ علی کا حُر نے جب عداوت کا سلیقہ بھی میسّر نہیں تھا جن سے دنیا کو ملا سایۂ رحمت…
Read Moreاکمل حنیف
میں ہوا سبطِ محمدﷺ کے غلاموں کا غلام حوصلے اس لیے انکار میں آ جاتے ہیں
Read Moreغلام محمد قاصر ۔۔۔ یزید نقشۂ جور و جفا بناتا ہے
یزید نقشۂ جور و جفا بناتا ہے حسین اس میں خطِ کربلا بناتا ہے یزید موسمِ عصیاں کا لا علاج مرض حسین خاک سے خاکِ شفا بناتا ہے یزید کاخِ کثافت کی ڈولتی بنیاد حسین حُسن کی حیرت سرا بناتا ہے یزید تیز ہواؤں سے جوڑ توڑ میں گم حسین سر پہ بہن کے ردا بناتا ہے یزید لکھتا ہے تاریکیوں کو خط دن بھر حسین شام سے پہلے دیا بناتا ہے یزید آج بھی بنتے ہیں لوگ کوشش سے حسین خود نہیں بنتا خدا بناتا ہے
Read Moreاختر عثمان ۔۔۔ شہادت شہزادہ علی اصغر علیہ السّلام
شہادت شہزادہ علی اصغر علیہ السّلام جب تشنگی کمال ہوئی شیرخوار کو شبنم کی یاد آنے لگی گُل عذار کو سینے لگایا ماں نے دُرِ آبدار کو تکنے لگا وہ چرخِ تغیّر شعار کو فاقوں سے شیرِ مادرِ معصوم خُشک تھا کافور دودھ ہو گیا اور آب مُشک تھا نہرِ فرات قبضۂ غاصب سرشت میں بٹتے تھے جام صُحبتِ بد عہد و زشت میں پیاسے گئے عزیز و اقارب بہشت میں پانی نہیں تھا ساقیِ کوثر کی کشت میں سیراب فوجِ وحش و چرند و پرند تھی پانی کی راہ…
Read Moreمحمد اظہارالحق ۔۔۔ سبطِ رسول کے حضور
سبطِ رسول کے حضور بہت سے راستوں میں تو نے جو رستہ چنا تھا فرشتے آج تک حیرت میں ہیں کیسا چنا تھا بہت سے شہر رہنے کے لیے حاضر تھے لیکن ہمیشہ زندہ رہنے کے لیے صحرا چنا تھا جو پیچھے آرہے تھے ان سے تو غافل نہیں تھا کہ تو نے راستے کا ایک اک کانٹا چنا تھا جہاں میں کون تھا دوشِ نبی تھا جس کا مرکب اسی خاطر برہنہ پائی نے تجھ سا چنا تھا زمانہ جانتا ہے کون تھا جو پار اترا کہ تو نے…
Read Moreفیصل ہاشمی ۔۔۔ بنا کے عرشِ معلٰی، نماز پڑھتا ہے
بنا کے عرشِ معلی، نماز پڑھتا ہے امام خاک پہ بیٹھا نماز پڑھتا ہے سوار گرتے رہے ٹوٹتی رہی تسبیح بوقتِ عصر اکیلا نماز پڑھتا ہے وضو کرایا گیا خاک و خون سے جس کو اسی کے ساتھ زمانہ نماز پڑھتا ہے شریک ہوتا ہوں ماتم میں با وضو ہو کر یہ جسم سارے کا سارا نماز پڑھتا ہے ہماری آنکھ میں فیصل فرات بہتا ہے جہاں شہید کا لاشہ نماز پڑھتا ہے
Read More