امید فاضلی اک ایسا مرحلۂ رہ گزر بھی آتا ہے کوئی فصیل انا سے اتر بھی آتا ہے تری تلاش میں جانے کہاں بھٹک جاؤں سفر میں دشت بھی آتا ہے گھر بھی آتا ہے تلاش سائے کی لائی جو دشت سے تو کھلا عذاب صورتِ دیوار و در بھی آتا ہے سکوں تو جب ہو کہ میں چھاؤں صحن میں دیکھوں نظر تو ویسے گلی کا شجر بھی آتا ہے بدن کی خاک سمیٹے ہوئے ہو کیا لوگو سفر میں لمحۂ ترکِ سفر بھی آتا ہے دلوں کو زخم…
Read MoreCategory: آج کی غزل
ماجد صدیقی ۔۔۔ رم خوردہ ہرنوں کو راہ پر لانے نکلے
رم خوردہ ہرنوں کو راہ پر لانے نکلے چیتے مل کر خون سے پیاس بُجھانے نکلے اَب کے ستمگر ، کھوپڑیوں سے ہوں جو مرصّع اُن میناروں کی بنیاد اُٹھانے نکلے وہ کہ بہت نازاں تھے مہذّب ہونے پر جو ہوّے بن کر خلق کو ہیں دہلانے نکلے یکجا کر کے جتنے کھلونے تھے بارودی بالغ بچّے ، الٹا کھیل رچانے نکلے ہم نے جلائے شہروں شہروں جن کے پُتلے وہ جسموں کی تازہ فصل جلانے نکلے ہم جانے کس بِرتے پر نم آنکھیں لے کر سنگ دلوں کو ماجد…
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ حیرت ہے آہ صبح کو ساری فضا سنے
حیرت ہے آہ صبح کو ساری فضا سنے لیکن زمیں پہ بت نہ فلک پر خدا سنے فریادِ عندلیب سے کانپے تمام باغ لیکن نہ گل نہ غنچہ نہ باد صبا سنے خود اپنی ہی صداؤں سے گونجے ہوئے ہیں کان کوئی کسی کی بات سنے بھی تو کیا سنے یہ بھی عجب طلسم ہے اے شورشِ حیات! درد آشنا کی بات نہ درد آشنا سنے شاہوں کے دل تو سنگ ہیں شاہوں کا ذکر کیا یہ بھی نہیں کہ حال گدا کا گدا سنے عالم ہے یہ کہ گوشِ…
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ وہ بھی اُٹھا کے سنگِ ملامت اُداس تھا
وہ بھی اُٹھا کے سنگِ ملامت اُداس تھا ہم کو بھی دوستی کے تقدس کا پاس تھا ٹھوکر لگی تو آنکھ سے آنسو نکل پڑے اک سنگِ رہگزارِ وفا غرقِ یاس تھا پگھلا دیا تھا روح کو دوری کی آنچ نے تیرے دُکھوں کا رنگ بدن کا لباس تھا تم آ گئے تو لب پہ تبسم بھی آ گیا ورنہ تو شام ہی سے مرا دل اُداس تھا نفرت کی تیز دھارنے شہ رگ ہی کاٹ دی اتنا خلوص تھا کہ سراپا سپاس تھا مدت ہوئی جسے پسِ حد نظر…
Read Moreمحسن اسرار : اچھا ہے وہ بیمار جو اچھا نہیں ہوتا
اچھا ہے وہ بیمار جو اچھا نہیں ہوتا جب تجربے ہوتے ہیں تو دھوکا نہیں ہوتا جس لفظ کو میں توڑ کے خود ٹوٹ گیا ہوں کہتا بھی تو وہ اس کو گوارہ نہیں ہوتا تکذیبِ جنوں کے لیے اک شک ہی بہت ہے بارش کا سمے ہو تو ستارہ نہیں ہوتا کیا کیا در و دیوار مری خاک میں گم ہیں پر اس کو مرا جسم گوارہ نہیں ہوتا ہم لوگ جو کرتے ہیں وہ ہوتا ہی نہیں ہے ہونا جو نظر آتا ہے، ہونا نہیں ہوتا جس دن…
Read Moreآصف الدولہ ۔۔۔ جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے
جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے ہم نے جانا کہ دو جہاں سے گئے تیرے کوچے میں نقشِ پا کی طرح ایسے بیٹھے کہ پھر نہ واں سے گئے شمع کی طرح رفتہ رفتہ ہم ایسے گزرے کہ جسم و جاں سے گئے ایک دن میں نے یار سے یہ کہا اب تو ہم طاقت و تواں سے گئے ہنس کے بولا کہ سن لے اے آصف! یہی کہہ کہہ کے لاکھوں جاں سے گئے
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ کہیں چراغ مِلا اور کہیں ستارا مِلا
کہیں چراغ مِلا اور کہیں ستارا مِلا سو مَیں جمالِ شبِ خواب سے دوبارہ مِلا نہیں تو اپنے ہی سائے پہ گِر پڑی ہوتی مِرے وجود سے دیوار کو سہارا مِلا پلٹ کے دیکھنا ممکن نہیں کہ وحشت میں کہاں کسی کو کسی یاد کا کنارا مِلا کسی طرح مجھے تقسیم کر دیا اُس نے کسی کو آدھا مِلا اور کسی کو سارا مِلا تمام رات جب آنکھوں میں کاٹ لی مَیں نے سحر کے وقت مجھے کوچ کا اشارہ مِلا عدو پہ فتح کی ساعت قریب جب آئی مِرا…
Read Moreغلام حسین ساجد ۔۔۔ حصارِ خواب سے باہر مِرا دھواں پہنچا
حصارِ خواب سے باہر مِرا دھواں پہنچا مَیں رات نیند میں چلتے ہوئے کہاں پہنچا مِرے عمل نے مِرے روز و شب بدل ڈالے مجھے تو اپنی تگ و تاز سے زیاں پہنچا کسی بِچھڑتے ہوئے خواب کی رفاقت کو مِرے یقین سے پہلے مِرا گماں پہنچا تمام رات درختوں نے انتظار کِیا پرندے لَوٹ کر آئے نہ کارواں پہنچا کسی نے ساری طلسمات کو بدل ڈالا مَیں بامِ یار تلک جب بھی پَرفشاں پہنچا مجھے تو وقت سے پہلے وہاں پہنچنا تھا مگر مَیں اور بھی تاخیر سے وہاں…
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ شکوہ کرتے ہیں زباں سے نہ گلا کرتے ہیں
شکوہ کرتے ہیں زباں سے نہ گلا کرتے ہیں تم سلامت رہو ہم تو یہ دعا کرتے ہیں پھر مرے دل کے پھنسانے کی ہوئی ہے تدبیر پھر نئے سر سے وہ پیمان وفا کرتے ہیں تم مجھے ہاتھ اٹھا کر اس ادا سے کوسو دیکھنے والے یہ سمجھیں کہ دُعا کرتے ہیں ان حسینوں کا ہے دنیا سے نرالا انداز شوخیاں بزم میں خلوت میں حیا کرتے ہیں حشر کا ذکر نہ کر اس کی گلی میں واعظ ایسے ہنگامے یہاں روز ہوا کرتے ہیں لاگ ہے ہم سے…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ کب مہاجن نجانے بگڑنے لگیں
کب مہاجن نجانے بگڑنے لگیں کب کھڑی کھیتیاں پھر اُجڑنے لگیں منصفوں میں بھی ہے پھُوٹ یوں عدل پر سوتنیں جیسے باہم جھگڑنے لگیں کیا خبر مان لیں کیا، خداوند اور کون سی بات پر آ کے اَڑنے لگیں پھر نہ ماجد بدن زد پہ ژالوں کی ہوں پھر نہ پہلی سے کھالیں اُدھڑنے لگیں
Read More