سجاد بلوچ ۔۔۔ دیکھ پائی نہ مرے سائے میں چلتا سایہ

دیکھ پائی نہ مرے سائے میں چلتا سایہ آ گئی رات اٹھانے مرا ڈھلتا سایہ تم نے اچھّا ہی کیا چھوڑ گئے ، ویسے بھی ایک سائے سے بھلا کیسے سنبھلتا سایہ میں وہی ہوں مرا سایہ بھی وہی ہے اب تک میں بدلتا تو کوئی رنگ بدلتا سایہ میں نے اس واسطے منہ کر لیا سورج کی طرف مجھ سے دیکھا نہ گیا آگے نکلتا سایہ میرا حاسد مرا ہمزاد نہیں ہو سکتا مجھ سے جلتا تو مرے ساتھ نہ چلتا سایہ آج بھی بیٹھا ہوں گم صم پسِ…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ سرشار ہوں سرشار ہے دنیا مرے آگے

سرشار ہوں سرشار ہے دنیا مرے آگے کونین ہے اک لرزشِ صہبا مرے آگے ہر نجم ہے اک عارضِ روشن مرے نزدیک ہر ذرہ ہے اک دیدۂ بینا مرے آگے ہر جام ہے نظارۂ کوثر مرے حق میں ہر گام ہے گلگشتِ مصلےٰ مرے آگے ہر پھول ہے لعلِ شکر افشاں کی حکایت ہر غنچہ ہے اک حرفِ تمنا مرے آگے اک مضحکہ ہے پرسشِ عقبیٰ مرے نزدیک اک وہم ہے اندیشۂ فردا مرے آگے ہوں کتنی ہی تاریک شبِ زیست کی راہیں اک نور سا رہتا ہے جھلکتا مرے…

Read More

انصر منیر ۔۔۔ ہجر کا کاروبار ٹھیک لگا

ہجر کا کاروبار ٹھیک لگا عشق پہلے تو یار ٹھیک لگا قید ہوتا گیا ترے دل میں دھڑکنوں کا حصار ٹھیک لگا میں نے پرکھا تھا بار بار اسے مجھ کو وہ بار بار ٹھیک لگا تیرے جیسا نہیں لگا پھر بھی کوئی مجھ کو ہزار ٹھیک لگا دائروں کا سفر ہی کرنا تھا مجھ کو اس کا مدار ٹھیک لگا رشک سے دیکھتا تھا وہ مجھ کو جو بھی دریا کے پار ٹھیک لگا

Read More

گلزار بخاری ۔۔۔ اور جاکر کہیں کرتا ہے سحر شام کے بعد

اور جاکر کہیں کرتا ہے سحر شام کے بعد ختم ہوتا نہیں سورج کا سفر شام کے بعد توڑ دیتی ہیں خموشی کو چہکتی چڑیاں بولنے لگتے ہیں چپ چاپ شجر شام کے بعد اُس کو خورشید نظر تک نہیں آنے دیتا مرکزِ دید ٹھہرتا ہے قمر شام کے بعد بھول جاتی ہے اُنھیں خلق ضرورت کے بغیر یاد آتا ہے چراغوں کا ہُنر شام کے بعد راستہ کون دکھاتا ہے اندھیرے میں اسے کس طرح ڈھونڈتی ہے فاختہ گھر شام کے بعد پھول اُجلے سے کھلائے ہیں فلک پر…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ اب کے برسات میں پانی آئے

اب کے برسات میں پانی آئے خشک دریا میں روانی آئے ہر گھٹا کالی ہو کاجل جیسی رنگ ہر کھیت پہ دھانی آئے پھول سا روپ لیے دن نکلے رات آئے تو سہانی آئے دھوپ آئے تو سہانی آئے چاندنی لے کے جوانی آئے شعر کہتے ہیں یونہی سے علوی کیا ہمیں بات بنانی آئے

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ اس قدر ڈوبا ہوا دل درد کی لذت میں ہے

اس قدر ڈوبا ہوا دل درد کی لذت میں ہے تیرا عاشق، انجمن ہی کیوں نہ ہو، خلوت میں ہے جذب کر لینا تجلی روح کی عادت میں ہے حسن کو محفوظ رکھنا عشق کی فطرت میں ہے محو ہو جاتا ہوں اکثر میں کہ دشمن ہوں ترا دل کشی کس درجہ، اے دنیا! تری صورت میں ہے اف نکل جاتی ہے، خطرے ہی کا موقعہ کیوں نہ ہو حسن سے بیتاب ہو جانا مری فطرت میں ہے نور کا تڑکا ہے، دھیمی ہو چلی ہے چاندنی ہل رہا ہے…

Read More

ایک زمیں ۔۔۔ پانچ غزلیں۔۔۔ امید فاضلی ۔ محسن نقوی۔ جاذب قریشی ۔ احتشام بچھرایونی ۔ محسن احسان

امید فاضلی اک ایسا مرحلۂ رہ گزر بھی آتا ہے کوئی فصیل انا سے اتر بھی آتا ہے تری تلاش میں جانے کہاں بھٹک جاؤں سفر میں دشت بھی آتا ہے گھر بھی آتا ہے تلاش سائے کی لائی جو دشت سے تو کھلا عذاب صورتِ دیوار و در بھی آتا ہے سکوں تو جب ہو کہ میں چھاؤں صحن میں دیکھوں نظر تو ویسے گلی کا شجر بھی آتا ہے بدن کی خاک سمیٹے ہوئے ہو کیا لوگو سفر میں لمحۂ ترکِ سفر بھی آتا ہے دلوں کو زخم…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ رم خوردہ ہرنوں کو راہ پر لانے نکلے

رم خوردہ ہرنوں کو راہ پر لانے نکلے چیتے مل کر خون سے پیاس بُجھانے نکلے اَب کے ستمگر ، کھوپڑیوں سے ہوں جو مرصّع اُن میناروں کی بنیاد اُٹھانے نکلے وہ کہ بہت نازاں تھے مہذّب ہونے پر جو ہوّے بن کر خلق کو ہیں دہلانے نکلے یکجا کر کے جتنے کھلونے تھے بارودی بالغ بچّے ، الٹا کھیل رچانے نکلے ہم نے جلائے شہروں شہروں جن کے پُتلے وہ جسموں کی تازہ فصل جلانے نکلے ہم جانے کس بِرتے پر نم آنکھیں لے کر سنگ دلوں کو ماجد…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ حیرت ہے آہ صبح کو ساری فضا سنے

حیرت ہے آہ صبح کو ساری فضا سنے لیکن زمیں پہ بت نہ فلک پر خدا سنے فریادِ عندلیب سے کانپے تمام باغ لیکن نہ گل نہ غنچہ نہ باد صبا سنے خود اپنی ہی صداؤں سے گونجے ہوئے ہیں کان کوئی کسی کی بات سنے بھی تو کیا سنے یہ بھی عجب طلسم ہے اے شورشِ حیات! درد آشنا کی بات نہ درد آشنا سنے شاہوں کے دل تو سنگ ہیں شاہوں کا ذکر کیا یہ بھی نہیں کہ حال گدا کا گدا سنے عالم ہے یہ کہ گوشِ…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ وہ بھی اُٹھا کے سنگِ ملامت اُداس تھا

وہ بھی اُٹھا کے سنگِ ملامت اُداس تھا ہم کو بھی دوستی کے تقدس کا پاس تھا ٹھوکر لگی تو آنکھ سے آنسو نکل پڑے اک سنگِ رہگزارِ وفا غرقِ یاس تھا پگھلا دیا تھا روح کو دوری کی آنچ نے تیرے دُکھوں کا رنگ بدن کا لباس تھا تم آ گئے تو لب پہ تبسم بھی آ گیا ورنہ تو شام ہی سے مرا دل اُداس تھا نفرت کی تیز دھارنے شہ رگ ہی کاٹ دی اتنا خلوص تھا کہ سراپا سپاس تھا مدت ہوئی جسے پسِ حد نظر…

Read More