افق لکھنوی ۔۔۔ نہ مثلِ شمع ارماں قتل کا یاں عمر بھر نکلا

نہ مثلِ شمع ارماں قتل کا یاں عمر بھر نکلا ادھر سر اس نے کاٹا ایک ادھر ایک اور سر نکلا چڑھایا عرش پر ہم کو کمالِ بت پرستی نے تجلی طور کی دیکھی جو پتھر سے شرر نکلا نہیں گریہ زلیخا وہ نہیں گر یوسفِ مصری تو پھر کیوں مہر کے پنجے سے دامانِ سحر نکلا بخیلوں سے امیدِ فیض کیا ہو آخری دم تک مٹے گل خاک ہو کر اور مٹھی سے نہ زر نکلا ہے شیخ اولادِ آدم کیا جگہ پائے گا جنت میں رسائی کیا وہاں…

Read More

آہ سنبھلی ۔۔۔ یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیں

یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیں محبتیں نہیں رہتیں گمان رہتے ہیں خدا کرے کہ سنے تو زبانِ خاموشی ترے پڑوس میں کچھ بے زبان رہتے ہیں نہ کیجے تکیہ بزرگوں کی ڈھلتی چھاؤں پر کہاں سروں پہ سدا سائبان رہتے ہیں یہی جہاں ہے ہمارا جہانِ گمشدگی یہی نشان کہ بس بے نشان رہتے ہیں محبتیں جس افق سے طلوع ہوتی ہیں وہیں پہ مل کے زمیں آسمان رہتے ہیں ترے سلوک نے دھندلا دئے سب افسانے ہم اپنے سے بھی بہت بد گمان رہتے ہیں ہر ایک…

Read More

سیف الدین سیف ۔۔۔ سب سے چھپا کے درد جو وہ مسکرا دیا

سب سے چھپا کے درد جو وہ مسکرا دیا اس کی ہنسی نے آج مجھے تو رلا دیا خود بھی تو وہ بچھڑ کر ادھورا سا ہو گیا مجھ کو بھی اس ہجوم میں تنہا بنا دیا​

Read More

مینو بخشی ۔۔۔ آج مضطر ہے مری جان خدا خیر کرے

آج مضطر ہے مری جان خدا خیر کرے دل میں ہے درد کا طوفان خدا خیر کرے رات کو نیند نہیں صبح کو آرام نہیں ان کے آنے کا ہے امکان خدا خیر کرے وہ ملاتے ہیں نظر غیر کی صورت ہم سے یہ تو ہے موت کا سامان خدا خیر کرے یہ سنا ہے کہ دکھائیں گے وہ جلوہ اپنا دل کے اب نکلیں گے ارمان خدا خیر کرے اب مجھے دیکھ کے کترانے لگی ہے دنیا مٹ گئی وہ مری پہچان خدا خیر کرے جس کی فطرت ہے…

Read More

منیر نیازی

رنجِ فراقِ یار میں رُسوا نہیں ہُوا اِتنا مَیں چُپ ہُوا کہ تماشا نہیں ہُوا ایسا سفر ہے جس میں کوئی ہم سفر نہیں رستہ ہے اِس طرح کا جو دیکھا نہیں ہُوا مُشکل ہُوا ہے رہنا ہمیں اِس دیار میں برسوں یہاں رہے ہیں یہ اپنا نہیں ہُوا وُہ کام شاہِ شہر سے  یا شہر سے ہُوا جو کام بھی ہُوا ہے ، وُہ اچھا نہیں ہُوا مِلنا تھا ایک بار اُسے پھر کہِیں مُنیر ایسا مَیں چاہتا تھا پر ایسا نہیں ہُوا

Read More

افق لکھنوی ۔۔۔ جب ہمیں جوشِ جنوں سوئے بیاباں لے چلا

جب ہمیں جوشِ جنوں سوئے بیاباں لے چلا شہر سے ہم راہ اپنے فوجِ طفلاں لے چلا ظلم سے تیرے ہمیں غم جان جانے کا نہیں ہم نشانے پر کھڑے ہیں تیر تو ہاں لے چلا وہ لیے جاتے ہیں اس دل کو جو لایا تھا انھیں میزباں کو اپنے گھر میں آج مہماں لے چلا جان لے لے کر ہتھیلی پر چلے لاکھوں شہید سوئے مقتل جب وہ اپنی تیغِ براں لے چلا اور امیدیں بر آئیں فضلِ خالق سے افق پھر بھی غم ہے دل کے میں دل…

Read More

سیف الدین سیف ۔۔۔ مری داستانِ حسرت وہ سنا سنا کر روئے

مری داستانِ حسرت وہ سنا سنا کر روئے مرے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے کوئی ایسا اہلِ دل ہو کہ فسانۂ محبت میں اسے سنا کے روؤں وہ مجھے سنا کے روئے مری آرزو کی دنیا دلِ ناتواں کی حسرت جسے کھو کے شادماں تھے اسے آج پا کے روئے تری بے وفائیوں پر تری کج ادائیوں پر کبھی سرجھکا کے روئے کبھی منہ چھپا کے روئے جو سنائی انجمن میں شبِ غم کی آپ بیتی کئی رو  کے مسکرائے کئی مسکرا  کے روئے

Read More

آہ سنبھلی ۔۔۔ مت فکرِ مداوا کر اے دستِ مسیحائی

مت فکرِ مداوا کر اے دستِ مسیحائی دریاؤں سے گہری ہے اس زخم کی گہرائی اک منزلِ ہجرت میں جب یاد تری آئی رنگوں کو چرا لائی خوشبو کو اڑا لائی ہر چہرہ پرایا ہے ہر آنکھ میں نفرت ہے جائے گی کہاں لے کر اے شرمِ شناسائی یہ کیسا سویرا تھا کس درد کا سورج تھا ہر روشنی ظلمت کی دہلیز پہ لے آئی جب ہجر مقدر ہے ملنے ہی نہیں دے گا سورج کی تو یکتائی میں چاند کی تنہائی اب تم کو بھی ہونا ہے اوجھل مری…

Read More

طارق متین … چرچا ہے بہت جس کا یہاں نام بہت ہے

چرچا ہے بہت جس کا یہاں نام بہت ہے در پردہ وہی شخص خون آشام بہت ہے اتنا ہی ترے قرب کا ہنگام بہت ہے اک شام جو مل جائے وہی شام بہت ہے کافی ہے بہلنے کو تری یاد کی دولت اے راحتِ دل تیرا یہ انعام بہت ہے ہر موڑ پہ دھوکا ہے یہاں کیسے بسر ہو یہ دہر پر از کلفت و آلام بہت ہے دو گھونٹ سے کیا ہوگا ابھی اور پلا تو اے پیرِ مغاں تلخیٔ ایام بہت ہے بس تھوڑی سی مہلت تو مجھے…

Read More

ثروت حسین ۔۔۔ نقش کچھ ابھارے ہیں فرشِ خاک پر میں نے

نقش کچھ ابھارے ہیں فرشِ خاک پر میں نے نہر اک نکالی ہے وقت کاٹ کر میں نے اُس درخت کے بازو دیر سے کشادہ تھے توڑ ہی لیا آخر ایک برگِ تر میں نے چیخ اک مسرّت کی خون میں سُنائی دی جب شکار کو دیکھا تیر کھینچ کر میں نے میری دسترس میں ہے آسمان مٹی کا اِک لکیر کھینچی ہے دیکھ ہم شجر میں نے جل اُٹھا اندھیرے میں انبساط کا پتھر جب زمین کو دیکھا اُس کو دیکھ کر میں نے میری گفتگو ثروت خواب گاہِ…

Read More