گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا
Read MoreCategory: گ
قتیل شفائی
گرمیٔ حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں
Read Moreقتیل شفائی
گریباں در گریباں نکتہ آرائی بھی ہوتی ہے بہار آئے تو دیوانوں کی رسوائی بھی ہوتی ہے
Read Moreشہزاد احمد
گزرنے ہی نہ دی وہ رات میں نے گھڑی پر رکھ دیا تھا ہاتھ میں نے
Read Moreڈاکٹر امام اعظم
گیسو و رخسار کی باتیں کریں آؤ مل کر پیار کی باتیں کریں
Read Moreعزیز قیسی
گردن فراز یوں یوں ہے مقتل زمیں تمام کیسے کہاں یہ بات پہ تم اپنی اڑ گئے
Read Moreخالد احمد
گھل مل چلا تھا شب کے اندھیرے میں اک گناہ دھیرے سے در کو موجِ ہوا کھٹکھٹا گئی
Read Moreشاہین عباس
گلی کی ساری تصویروں میں جیسے جان پڑ جاتی یہ آوازہ ، بُرا کیا تھا ، اگر آواز ہو سکتا L’eau est partie d’ici, t’appelant doucementAssis maintenant au bord de sa fontaine, attends le retour des flots
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ منتخب اشعار
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیںوہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیںاگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیںتو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیںرقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سےتمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیںوہ ہنس کرکہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوےیہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیںنہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانیکہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے…
Read Moreسعادت یار خان رنگین
گر جی میں کچھ نہیں ہے تو دیکھے ہے کیوں مجھے انگلی کو پھیر پھیر کے تیغے کی دھار پر
Read More