سب سے چھپا کے درد جو وہ مسکرا دیا اس کی ہنسی نے آج مجھے تو رلا دیا خود بھی تو وہ بچھڑ کر ادھورا سا ہو گیا مجھ کو بھی اس ہجوم میں تنہا بنا دیا
Read MoreTag: Contemporary Urdu Poetry
مینو بخشی ۔۔۔ آج مضطر ہے مری جان خدا خیر کرے
آج مضطر ہے مری جان خدا خیر کرے دل میں ہے درد کا طوفان خدا خیر کرے رات کو نیند نہیں صبح کو آرام نہیں ان کے آنے کا ہے امکان خدا خیر کرے وہ ملاتے ہیں نظر غیر کی صورت ہم سے یہ تو ہے موت کا سامان خدا خیر کرے یہ سنا ہے کہ دکھائیں گے وہ جلوہ اپنا دل کے اب نکلیں گے ارمان خدا خیر کرے اب مجھے دیکھ کے کترانے لگی ہے دنیا مٹ گئی وہ مری پہچان خدا خیر کرے جس کی فطرت ہے…
Read Moreمنیر نیازی
رنجِ فراقِ یار میں رُسوا نہیں ہُوا اِتنا مَیں چُپ ہُوا کہ تماشا نہیں ہُوا ایسا سفر ہے جس میں کوئی ہم سفر نہیں رستہ ہے اِس طرح کا جو دیکھا نہیں ہُوا مُشکل ہُوا ہے رہنا ہمیں اِس دیار میں برسوں یہاں رہے ہیں یہ اپنا نہیں ہُوا وُہ کام شاہِ شہر سے یا شہر سے ہُوا جو کام بھی ہُوا ہے ، وُہ اچھا نہیں ہُوا مِلنا تھا ایک بار اُسے پھر کہِیں مُنیر ایسا مَیں چاہتا تھا پر ایسا نہیں ہُوا
Read Moreعزیز قیسی
والہانہ مرے دل میں مری جاں میں آ جا میرے ایماں میں مرے وہم و گماں میں آ جا
Read Moreادا جعفری
خلشِ تیرِ بے پناہ گئی لیجیے ان سے رسم و راہ گئی
Read Moreراحت اندوری
وہ چاہتا تھا کہ کاسہ خرید لے میرا میں اس کے تاج کی قیمت لگا کے لوٹ آیا
Read Moreافق لکھنوی ۔۔۔ جب ہمیں جوشِ جنوں سوئے بیاباں لے چلا
جب ہمیں جوشِ جنوں سوئے بیاباں لے چلا شہر سے ہم راہ اپنے فوجِ طفلاں لے چلا ظلم سے تیرے ہمیں غم جان جانے کا نہیں ہم نشانے پر کھڑے ہیں تیر تو ہاں لے چلا وہ لیے جاتے ہیں اس دل کو جو لایا تھا انھیں میزباں کو اپنے گھر میں آج مہماں لے چلا جان لے لے کر ہتھیلی پر چلے لاکھوں شہید سوئے مقتل جب وہ اپنی تیغِ براں لے چلا اور امیدیں بر آئیں فضلِ خالق سے افق پھر بھی غم ہے دل کے میں دل…
Read Moreسیف الدین سیف ۔۔۔ مری داستانِ حسرت وہ سنا سنا کر روئے
مری داستانِ حسرت وہ سنا سنا کر روئے مرے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے کوئی ایسا اہلِ دل ہو کہ فسانۂ محبت میں اسے سنا کے روؤں وہ مجھے سنا کے روئے مری آرزو کی دنیا دلِ ناتواں کی حسرت جسے کھو کے شادماں تھے اسے آج پا کے روئے تری بے وفائیوں پر تری کج ادائیوں پر کبھی سرجھکا کے روئے کبھی منہ چھپا کے روئے جو سنائی انجمن میں شبِ غم کی آپ بیتی کئی رو کے مسکرائے کئی مسکرا کے روئے
Read Moreآہ سنبھلی ۔۔۔ مت فکرِ مداوا کر اے دستِ مسیحائی
مت فکرِ مداوا کر اے دستِ مسیحائی دریاؤں سے گہری ہے اس زخم کی گہرائی اک منزلِ ہجرت میں جب یاد تری آئی رنگوں کو چرا لائی خوشبو کو اڑا لائی ہر چہرہ پرایا ہے ہر آنکھ میں نفرت ہے جائے گی کہاں لے کر اے شرمِ شناسائی یہ کیسا سویرا تھا کس درد کا سورج تھا ہر روشنی ظلمت کی دہلیز پہ لے آئی جب ہجر مقدر ہے ملنے ہی نہیں دے گا سورج کی تو یکتائی میں چاند کی تنہائی اب تم کو بھی ہونا ہے اوجھل مری…
Read Moreطارق متین … چرچا ہے بہت جس کا یہاں نام بہت ہے
چرچا ہے بہت جس کا یہاں نام بہت ہے در پردہ وہی شخص خون آشام بہت ہے اتنا ہی ترے قرب کا ہنگام بہت ہے اک شام جو مل جائے وہی شام بہت ہے کافی ہے بہلنے کو تری یاد کی دولت اے راحتِ دل تیرا یہ انعام بہت ہے ہر موڑ پہ دھوکا ہے یہاں کیسے بسر ہو یہ دہر پر از کلفت و آلام بہت ہے دو گھونٹ سے کیا ہوگا ابھی اور پلا تو اے پیرِ مغاں تلخیٔ ایام بہت ہے بس تھوڑی سی مہلت تو مجھے…
Read More