ادا جعفری

وہ بے نقاب سامنے آئیں بھی اب تو کیا دیوانگی کو ہوش کی فرصت نہیں رہی

Read More

اسلم کولسری ۔۔۔ نظر کو وقفِ حیرت کر دیا ہے

نظر کو وقفِ حیرت کر دیا ہے اسے بھی دل سے رخصت کر دیا ہے برائے نام تھا آرام جس کو غزل کہہ کر مصیبت کر دیا ہے سمجھتے ہیں کہاں پتھر کسی کی مگر اتمامِ حجت کر دیا ہے گلی کوچوں میں جلتی روشنی نے حسیں شاموں کو شامت کر دیا ہے بصیرت ایک دولت ہی تھی آخر سو دولت کو بصیرت کر دیا ہے کئی ہمدم نکل آئے ہیں جب سے زباں کو صرف غیبت کر دیا ہے سخن کے باب میں بھی ہم نے اسلم جو کرنا…

Read More

بشر نواز

جو بھی آتا ہے وہی دل میں سما جاتا ہے کتنے دریاؤں کا پیاسا ہے سمندر میرا

Read More

بشر نواز

چاہتے تو کسی پتھر کی طرح جی لیتے ہم نے خود موم کی مانند پگھلنا چاہا

Read More