انصر منیر ۔۔۔ جیسے ساری خدائی حاصل ہے

جیسے ساری خدائی حاصل ہے مجھ کو تم تک رسائی حاصل ہے اب میں نبضِ جہاں چلاتا ہوں مجھ کو تیری کلائی حاصل ہے یوں تو نفرت ہے چار سو میرے بس محبت کی پائی حاصل ہے مجھ کو درکار تھی محبت جو سن لو مجھ کو وہ بھائی حاصل ہے خرچ کرتا ہوں میں کھلے دل سے جو ذرا سی کمائی حاصل ہے

Read More

قمر رضا شہزاد ۔۔۔ اگرچہ ذکر ترا دم بدم کیا میں نے

اگرچہ ذکر ترا دم بدم کیا میں نے خیال پھر یہی آتا ہے کم کیا میں نے فراتِ عصر پہ ظالم سے جنگ کرتے ہوئے جو کٹ گیا وہی بازو علم کیا میں نے مہکتے کیوں نہ گلِ سرخ میرے سینے میں لہو کے سیل سے یہ دشت نم کیا میں نے کمال یہ ہے کہ پھر بھیگتا گیا کاغذ کبھی جو پیاس کا قصہ رقم کیا میں نے مجھے نہیں ہے کوئی اور غم خدا کا شکر ہر ایک غم کو ترے غم میں ضم کیا میں نے

Read More

محمد علوی ۔۔۔ دوا کوئی کیا کام لکھوں  

دوا کوئی کیا کام لکھوں نسخے میں آرام لکھوں سورج کو مرتے دیکھوں وقت برابر شام لکھوں دو نالی بندوق چلاؤں جنگل میں کہرام لکھوں دھندہ کروں نمازوں کا پیشانی پر دام لکھوں آسمان پر جا پہنچوں اللہ تیرا نام لکھوں علوی آپ کے کھاتے میں آج کی شب کے جام لکھوں

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ وقت کی دھُن پر لپکتی زندگی، رُک جائے گی

وقت کی دھُن پر لپکتی زندگی، رُک جائے گی نبض جس دم ٹوٹ جائے گی، گھڑی رُک جائے گی شاخ سے کٹ کر کسی کالر پہ کل سج جائے گا وُہ کہ جو ہونٹوں پہ آئے گی ہنسی، رُک جائے گی ہوتے ہوتے خشک موسم، ہاتھ دِکھلا جائے گا ہوتے ہوتے پیڑ کی، بالیدگی رُک جائے گی ہم نے ماجد کب یہ سوچا تھا کہ جسم و جان کو سینچتی ہے جو وہ موجِ تازگی، رُک جائے گی

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ مجھ سے ساقی نے کہی رات کو کیا بات اے جوش

مجھ سے ساقی نے کہی رات کو کیا بات اے جوش یعنی اضداد ہیں پروردۂ یک ذات اے جوش مست و بیگانہ گزر جا کرۂ خاکی سے یہ تو ہے رہ گزرِ سیلِ خیالات اے جوش اور تو اور خود انسان بہا جاتا ہے کتنا پر ہول ہے طوفانِ روایات اے جوش لوگ کہتے ہیں حجابات نہیں جز آیات کس سے کہئے کہ یہ آیات ہیں خود ذات اے جوش اہلِ الفاظ شریعت پہ مٹے جاتے ہیں کس کو سمجھاؤں مشیت کے اشارات اے جوش دیکھیے صبحِ جنوں ذہن میں…

Read More

تابش مہدی ۔۔۔ جہانِ دل میں سناٹا بہت ہے

جہانِ دل میں سناٹا بہت ہے سمندر آج کل پیاسا بہت ہے یہ مانا وہ شجر سوکھا بہت ہے مگر اس میں ابھی سایا بہت ہے فرشتوں میں بھی جس کے تذکرے ہیں وہ تیرے شہر میں رسوا بہت ہے بہ ظاہر پر سکوں ہے ساری بستی مگر اندر سے ہنگاما بہت ہے اسے اب بھول جانا چاہتا ہوں کبھی میں نے جسے چاہا بہت ہے وہ پتھر کیا کسی کے کام آتا مگر سب نے اسے پوجا بہت ہے مرا گھر تو اجڑ جائے گا لیکن تمہارے گھر کو…

Read More

جلی امروہی ۔۔۔ نفس ﺳﮯ ﺟﻮ ﻟﮍﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ

نفس ﺳﮯ ﺟﻮ ﻟﮍﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﻭﺡ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺟﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﮨﻮ ﭘﮭﺮ ﻓﺴﺎﺩ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﺧﻮﻑِ ﺧﺪﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﮨﻞِ ﺩﻝ ﺍﮨﻞِ ﻇﺮﻑ ﺍﮨﻞِ ﻧﻈﺮ ﺑﺎﺕ ﺩﻝ ﮐﯽ ﮐﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺟﯿﻨﺎ ﻋﺒﺚ ﮨﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺑﮭﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺑﺰﻡِ ﻋﺸﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺷﻘﺎﻥِ ﻃﺮﺏ ﻧﺎﻟۂ ﺩﻝ ﺳﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮭﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﺭﺱ ﻟﻮ ﭨﻮﭨﺘﮯ ﺣﺒﺎﺑﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﭼﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﮮ ﺟﻠﯽ ﺩﮨﺮ ﮐﮯ ﺳﺘﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ…

Read More