آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے
Read MoreTag: بیت بازی
قتیل شفائی
وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے
Read Moreقتیل شفائی
کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔ مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا
Read Moreقتیل شفائی
نہ کوئی خواب ہمارے ہیں نہ تعبیریں ہیں ہم تو پانی پہ بنائی ہوئی تصویریں ہیں
Read Moreقتیل شفائی
انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی تم کیا سمجھو تم کیا جانو بات مری تنہائی کی
Read Moreقتیل شفائی
گریباں در گریباں نکتہ آرائی بھی ہوتی ہے بہار آئے تو دیوانوں کی رسوائی بھی ہوتی ہے
Read Moreقتیل شفائی
ستم کے بعد کرم کی ادا بھی خوب رہی جفا تو خیر جفا تھی وفا بھی خوب رہی
Read Moreقتیل شفائی
بے خودی میں پہلوئے اقرار پہلے تو نہ تھا اتنا غافل وہ بُتِ عیار پہلے تو نہ تھا
Read Moreقتیل شفائی
چاندی جیسا رنگ ہے تیرا سونے جیسے بال اک تو ہی دھنوان ہے گوری باقی سب کنگال
Read Moreبشر نواز
جو بھی آتا ہے وہی دل میں سما جاتا ہے کتنے دریاؤں کا پیاسا ہے سمندر میرا
Read More