گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا
Read MoreCategory: آج کا شعر
قتیل شفائی
آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے
Read Moreقتیل شفائی
پڑ گئی پاؤں میں تقدیر کی زنجیر تو کیا ہم تو اس کو بھی تری زلف کا بل کہتے ہیں
Read Moreقتیل شفائی
آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے
Read Moreقتیل شفائی
وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے
Read Moreقتیل شفائی
کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔ مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا
Read Moreقتیل شفائی
سرِ بام بھی پکارا ، لبِ دار بھی صدا دی میں کہاں کہاں نہ پہنچا تری دید کی لگن میں
Read Moreقتیل شفائی
یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا جس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جانا
Read Moreقتیل شفائی
رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھ ہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ
Read Moreقتیل شفائی
دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں
Read More