ڈاکٹر نذیر احمد ندوی ۔۔۔ ڈاکٹر علیم ؔعثمانی : توصیفِ بتاں سے دربارِ نبی تک

ڈاکٹر علیم ؔعثمانی ۔ توصیفِ بتاں سے دربارِ نبی تک ڈاکٹر محمد عبدالعلیم عثمانی جوادبی وشعری دنیا میں علیمؔ عثمانی کے نام سے مشہور تھے ، نہ صرف طبیب حاذق، کامیاب ہومیوپیتھ معالج ،بلکہ معروف ومقبول کہنہ مشق شاعر تھے۔ ان کی شخصیت باغ وبہار ،طبیعت مرنجان مرنج ،آواز سامعہ نواز اورانداز دلنواز تھا ۔بارگاہ ایزدی سے اگرانھیں ایک طرف جمال ظاہر سے سرفراز کیاگیا تھا تودوسری طرف دست قدرت نے انھیں بڑی فیاضی سے حسن باطن سے نواز اتھا،اس طرح وہ حسنِ صَوت وصورت اورخوبیٔ سیرت سے مالامال تھے۔…

Read More

ڈاکٹرمحمدافتخارشفیع ۔۔۔ شاعری میں سراپا نگاری کا تہذیبی و تمدنی زاویہ

شاعری میں سراپا نگاری کا تہذیبی و تمدنی زاویہ تہذیب، تمدن، ثقافت، کلچر چاروں اصطلاحیں ہم معنی تو نہیں لیکن ان میں بہت سے اشتراکات ہیں۔کلچر ایک نقطۂ نظر ہے، اس نقطۂ نظر کو عملی صورت تہذیب کی شکل میں دی جاتی ہے۔ ثقافت فنونِ لطیفہ کے ذریعے اظہار کی عملی صورت گری ہے لیکن اس میں طرزِ تعمیر، رہن سہن، رسوم و رواج بھی شامل ہیں۔’’ تمدن‘‘ کا تعلق زندگی گزارنے کے وضع کردہ اصولوں سے ہے۔ اس کے لیے انگریزی میں Civilization کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا…

Read More

شمس الرحمٰن فاروقی کا فکشن(مقدمہ مجموعۂ شمس الرحمن فاروقی)  ۔ ۔ ۔ محمد حمید شاہد

شمس الرحمٰن فاروقی کا فکشن اُردو ادب کا ایک مکمل باب ہے۔ اس باب کا مطالعہ تب ہی ڈھنگ سے ممکن ہو پائے گا کہ اُردوادب کی اس جید شخصیت کے فکشن کو مکمل صورت میں پڑھا جائے۔ فاروقی صاحب کے اس مجموعے کو مرتب کرنے کا خیال اُن کی زندگی ہی میں زیرِبحث آیا تھا مگر فیصلہ ہوا تھا کہ اس کی ابتدا اُن کے تہذیبی دستاویز ہو جانے والے ناول ”کئی چاند تھے سرِآسماں” سے کی جائے۔ اس ناول کی نئی اشاعت ان کی زندگی میں ہوئی مگر…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ آنکھ اُس کی آج آئنہ دارِ نظارہ ہے

آنکھ اُس کی آج آئنہ دارِ نظارہ ہے کیا دل کا اعتبار کہ بارِ نظارہ ہے دیکھیں اگر تو چشمِ تصور میں وہ نگاہ حُسنِ نظر ہے اور شمارِ نظارہ ہے جل جل کے بجھ رہا ہے دریچوں میں عکسِ گل یہ شامِ ہجر ہے کہ بہارِ نظارہ ہے ہر سمت ہیں سراب کے منظر کھنچے ہوئے کیا خوب تیری راہ گزارِ نظارہ ہے تارے بجھے ہوئے ہیں، سسکتی ہے چاندنی یہ رات ہے کہ سر پہ غبارِ نظارہ ہے گرتی ہے قطرہ قطرہ شفق صبحِ ہجر میں نم دیدۂ…

Read More

سعدیہ بشیر ۔۔۔ یا رب تری زمین تو صدموں سے بھر گئ

یا رب تری زمین تو صدموں سے بھر گئی روشن سے دن میں دشت کی وحشت اتر گئی تعبیر تھی جو عاقل و باصر نہ رہ سکی تدبیر اب کے ایک بھی کب کارگر گئی ایسی تھی کھینچ تان کہ سب خواب پھٹ گئے ایسی خبر تھی خود سے بھی جو بے خبر گئی حالانکہ حکم تھا کوئی گھبرائے گا نہیں وعدے کتاب میں لکھے خلقت سنور گئی کیسا عمل تھا پار بھی اترا نہ جا سکا دیوار اپنے ڈھب سے ہی ہر اک نگر گئی ان تذکروں میں ایک…

Read More

عمر قیاز قائل ۔۔۔ میں جو اِس بار ہَواؤں کی حمایت کرتا

میں جو اِس بار ہَواؤں کی حمایت کرتا کون جلتی ہُوئی شمعوں کی حفاظت کرتا شہر کا شہر تھا قاتل کی طرفداری میں میں کہاں جا کے بھلا اپنی شکایت کرتا ایک لمحے کی جُدائی بھی قیامت سمجھا عُمر بھر کے لیے کیوں قطعِ محبّت کرتا اپنا ہی شہر تھا سب لوگ مرے اپنے تھے دُکھ کی یُورش تھی مگر کیسے میں ہجرت کرتا اُس نے چھلنی مرے احساس کو کر دینا تھا کون اُس خارِ مُغیلاں سے محبّت کرتا لوگ اندھے بھی تھے بِہرے بھی تھے ورنہ قائل جی…

Read More