منیر نیازی ۔۔۔ رنجِ فراقِ یار میں رُسوا نہیں ہُوا

رنجِ فراقِ یار میں رُسوا نہیں ہُوا اِتنا مَیں چُپ ہُوا کہ تماشا نہیں ہُوا ایسا سفر ہے جس میں کوئی ہم سفر نہیں رستہ ہے اِس طرح کا جو دیکھا نہیں ہُوا مُشکل ہُوا ہے رہنا ہمیں اِس دیار میں برسوں یہاں رہے ہیں یہ اپنا نہیں ہُوا وہ کام شاہِ شہر سے ، یا شہر سے ہُوا جو کام بھی ہُوا ہے وہ اچھا نہیں ہُوا مِلنا تھا ایک بار اُسے پھر کہِیں مُنیر ایسا مَیں چاہتا تھا پر ایسا نہیں ہُوا

Read More

احمد ندیم قاسمی ۔۔۔ جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دی

جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دی دل مگر اس پہ وہ دھڑکا کہ قیامت کر دی تجھ سے کس طرح میں اظہار تمنا کرتا لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی تجھ کو پوجا ہے کہ اصنام پرستی کی ہے میں نے وحدت کے مفاہیم کی کثرت کر دی مجھ کو دشمن کے ارادوں پہ بھی پیار آتا ہے تیری الفت نے محبت مری عادت کر دی…

Read More

پروین شاکر

کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی

Read More

احمد فراز

اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم

Read More

بشیر بدر

زندگی! میں بھی مسافر ہوں تری کشتی کا تو جہاں مجھ سے کہے گی میں اُتر جاؤں گا

Read More

عنبر بہرائچی

جانے کیا برسا تھا رات چراغوں سے بھور سمے سورج بھی پانی پانی ہے

Read More

خاطر غزنوی

اُن آنکھوں نے لوٹ کے بھی اپنے اوپر بات نہ لی

Read More