امجد اسلام امجد ۔۔۔ حد

حد سوچا بہت ، پہ کھل نہ سکا آج تک ، کہ کیوں کرتے ہیں لوگ اپنی اناؤں کا قتلِ عام چہروں پہ نقش ہوتی سیاہی کو بھول کر دوڑے چلے ہی جاتے ہیں بے سمت ، بے لگام یہ سارا اہتمام وہ کرتے ہیں کس لیے؟ ہیں ان کے جتنے خیر طلب اُن کو چھوڑ کر سایوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں کس لیے؟ یہ بھی نہیں کہ ان کو نہیں انت کی خبر دن رات ان کے سامنے جاتے ہیں ان سے لوگ زیرِ زمین ڈھیر سی مٹی…

Read More

نعت ِرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔ خالد علیم

نعت ِرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نعتِ رسولِ کریم ؐ سوز و گداز و سرور نعتِ رسولِ کریمؐ کیفِ شرابِ طہور نعتِ رسولِ کریم ؐ جاں کو سرودِ نشاط نعتِ رسولِ کریم ؐ قلب و نظر کا حضور نعتِ رسولِ کریم ؐ عکسِ تمناے ذات نعتِ رسولِ کریم ؐ چشمِ بصیرت کا نور نعتِ رسولِ کریم ؐ میری متاعِ حیات نعتِ رسولِ کریم ؐ دولتِ فہم و شعور نعتِ رسولِ کریم ؐ علم و خبر کا نزول نعتِ رسولِ کریم ؐ فکر و ہنر کا ظہور نعتِ رسولِ کریم…

Read More

عجزاِظہار ۔۔۔ خالد علیم

عجزاِظہار وہ شہنشاہِ ؐ معظم، وہ رسولِ ؐ اکرم معدنِ ؐ علم و ادب، مخزنِ ؐ ایقان و حِکَم آبروے ؐ حرمِ پاک، وقارِ ؐ عالم آدمیّت کا بھرم، عظمتِ ؐ دینِ محکم اُس کی توصیف مرے حیطۂ دانش میں کہاں لڑکھڑاتا ہے قلم اور لرزتی ہے زباں قوتِ فن کی بدولت ہو بیاں نعتِ رسول ؐ اُلفتِ سیّدِ ؐعالم کو نہیں ہے یہ قبول جذب اور کیف سے ہوتا ہے معانی کا نزول حاصلِ سوزِ دروں ہی ہیں محبت کے اصول آنکھ جب فرقت ِسرکار ؐ میں نم ہوتی…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ ذکرِ نعت

ذکرِ نعت آنکھیں جھکیں جو بابِ رسالت پناہ ؐ پر عُقدے کھلے جمال کے میری نگاہ پر ہے نور کی فضا تو سُبُک سیر کیوں نہ ہوں توصیفِ شاہ ؐ میں مرے لفظوں کے شاہ پر مدحِ نبی ؐ کا مجھ کو سلیقہ ، نہیں نہیں!! اُسلوبِ کوہ بھی کبھی کھلتا ہے کاہ پر! ذرّے کی کیا بساط کہ وہ تذکرہ لکھے آفاقِ بے کنار کے خورشید و ماہ پر یہ تو بس اک ذریعۂ اِظہارِ شوق ہے اس کا بھی اِنحصار ہے عجزِ نگاہ پر کھل جائے اے خدا!…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ غفلت نہیں یہ مزرعِ فصلِ جدائی ہے

غفلت نہیں یہ مزرعِ فصلِ جدائی ہے خاموش ہو گئے ہیں کہ اِس میں بھَلائی ہے نکلی تھی صبح چہچہے سُن کر طیور کے آتے ہی شام بادِ صبا لَوٹ آئی ہے دیتے ہیں درس وہ مجھے دنیا سے ربط کا کیا یہ سزا کے بھیس میں اذنِ رہائی ہے اُس نے وہیں چراغِ ملامت جلایا ہے ہم نے جہاں جہاں کوئی بستی بسائی ہے کس نے مِرے وجود کو سائے میں لے لیا دیوار اِس نواح میں کس نے اُٹھائی ہے کہنی ہے تلخ بات کوئی اِس فقیر کو…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ سوچ سے ماورا اندھیرا ہے

سوچ سے ماورا اندھیرا ہے دھوپ کی انتہا اندھیرا ہے خواب میں جاگنا قیامت ہے نیند کا مسئلہ اندھیرا ہے مَیں چراغوں کا چاہنے والا میرے حق میں دُعا اندھیرا ہے صبح ہے، صبح کا اُجالا ہے رات ہے، رات کا اندھیرا ہے کارواں پاس ہے کہیں کوئی گنگناتا ہُوا اندھیرا ہے رات رخصت ہوئی ہے عُجلت میں طاق پر اَدھ جلا اندھیرا ہے آج کِس کا لہو بہایا گیا آج تو بے بہا اندھیرا ہے دھیرے دھیرے قدم بڑھاتا ہے دیکھتا بھالتا اندھیرا ہے روشنی داغ ہے مِرے دل…

Read More