کسی کی یاد کے صندل میں آگ جلتی ہے دلِ حزیں ترے جنگل میں آگ جلتی ہے برس رہے ہیں بہت گرم اشک پلکوں سے تمہاری آنکھ کے بادل میں آگ جلتی ہے چمن بہار میں افسردہ ہے تمہارے لیے گلوں میں، شاخ میں، کونپل میں آگ جلتی ہے اگرچہ لفظ ہے بس ایک ہی محبت کا لکھوں جو سرچ میں گوگل میں آگ جلتی ہے کتاب جنگ و جدل کی لکھی مورخ نے تو بابِ آخر و اول میں آگ جلتی ہے تمہارے عشق کی جبرانؔ کیا کہانی ہے…
Read Moreعنبرین عنبر راجپوت ۔۔۔ تیرے جانے کا غم نہیں کرتے
تیرے جانے کا غم نہیں کرتے تیری یادوں کو کم نہیں کرتے ہاتھ پکڑا ہے ساتھ چلنے کو تجھ کو مجبور‘ ہم نہیں کرتے رات بھر دل اگرچہ رویا بہت پھر بھی آنکھوں کو نم نہیں کرتے تیری چُپ سے یہ جاگتے ارماں شور اتنا‘ صنم! نہیں کرتے تیری چاہت کو بھولنا چاہے اپنے جی پر ستم نہیں کرتے روک لیتے ہیں اشک پلکوں پر تیرے قصے رقم نہیں کرتے تم سے بڑھ کر ہو پیار اوروں سے ہم کو تیری قسم، نہیں کرتے
Read Moreتاثیر نقوی ۔۔۔ عشق کی پھر سے داستاں لکھوں
عشق کی پھر سے داستاں لکھوں ان بہاروں کو میں خزاں لکھوں قدرِ انساں بدل رہی ہے یہاں کیوں زمیں کو میں آسماں لکھوں چھا گئے ہیں جہاں پہ سناٹے کس طرح حالِ بے اماں لکھوں ظلم اور جبر ہر طرف ہے یہاں کیسے انساں کی داستاں لکھوں ہو گیا ہے لہو لہو گلشن زندگی کو میں خونچکاں لکھوں قتل ارمان کا ہوا ہے جہاں اُس کو میں کیسے گُلستاں لکھوں کاٹے کٹتی نہیں یہ تنہائی ہجر کو کس کی میں زباں لکھوں میرا وجدان جگمگا اُٹھے جب مکاں کو…
Read Moreعلی اصغر عباس ۔۔۔ قصرِ جمالیات کا گہنا زمین ہے
قصرِ جمالیات کا گہنا زمین ہے اور آسماں کی حاشیہ آرا زمین ہے دستِ کرشمہ ساز کے جو ہاتھ میں ہے گیند خشکی تری کا گویا کہ گولا زمین ہے عرشِ بریں کہ تخت سا بہتا تھا آب پر پھر اوج سے فراز نے بولا زمین ہے نقش و نگار کھینچ کے لوحِ دوام پر خاکہ سا کیسا خاک بنایا زمین ہے مٹی جو اپنی خاک اڑانے لگی تو پھر گردوغبارِ طور نے جانا زمین ہے بُرجوں کا کھیل جاری و ساری ہے اک طرف ردوبدل میں گھومتا چرخا زمین…
Read Moreاعجاز دانش ۔۔۔ لباسِ تیرگی پہنا ہوا ہے
لباسِ تیرگی پہنا ہوا ہے ہتھیلی پر دیا رکھا ہوا ہے قیامت ہے کسی کو بھول جانا مگر یہ فیصلہ اچھا ہوا ہے نہیں مجنوں کا اب کوئی مقلد مزاجِ عاشقاں بدلا ہوا ہے مسافر لوٹ کر گھر آگئے ہیں ہر اک چہرہ مگر اُترا ہوا ہے کسی سہمے ہوئے بچے کی صورت پرندہ پیڑ سے لپٹا ہوا ہے ترا غم بھی مجھے لگتا ہے جیسے کوئی مہمان گھر آیا ہوا ہے مری تشنہ لبی دھوکہ نہ کھائے وہ بادل ہے مگر برسا ہوا ہے ہمارا دل بھی اب اعجاز…
Read Moreمیتھیو محسن ۔۔۔ کب نگاہِ کرم نہیں ہوتی
کب نگاہِ کرم نہیں ہوتی تشنگی پھر بھی کم نہیں ہوتی اتنا ارزاں لہو ہے آدم کا کوئی بھی آنکھ نم نہیں ہوتی راہِ ہستی بڑی کٹھن ہی سہی چاہ جینے کی کم نہیں ہوتی میں ہی عادی سا ہو گیا یا پھر بے رُخی کچھ ستم نہیں ہوتی سبھی کچھ ہے روا سیاست میں اس میں کوئی قسم نہیں ہوتی کون سی بات ہے مری محسن جو کسی جا رقم نہیں ہوتی
Read Moreشاہد فرید ۔۔۔ کچھ اور نہیں صرف بزرگوں کی دعا ہے
کچھ اور نہیں صرف بزرگوں کی دعا ہے جِس اُور بڑھا ہوں میں ، وہ در کھلتا گیا ہے یوں گھورتے ہیں مجھ کو ترے شہر کے باسی جیسے کہ محبت نہیں کی ، جرم کیا ہے میں جال میں الجھا ہوا تھا اور اچانک صیاد مرے پاؤں میں خود آن گرا ہے یہ عشق ‘ محبت تو ہے ایمان کا حصہ شک ذہن میں در آیا ، مرا جرم بڑا ہے آہٹ کوئی محسوس ہوئی ہے سرِ دہلیز دستک کی ضرورت نہیں ‘ دروازہ کُھلا ہے میں کچھ بھی…
Read Moreخالد احمد
دستِ ہَوا سے پرتوِ ادراک ہو گئے بادل بکھر کے دامنِ صَد چاک ہو گئے
Read Moreخالد احمد
ناقدوں نے مجھے پرکھا، خالد! خاک صحراؤں نے چھانی میری
Read Moreاکرم ناصر ۔۔۔ بہار آنے کا مژدہ ہمیں سنا دیا ہے
بہار آنے کا مژدہ ہمیں سنا دیا ہے شجر نے آخری پتہ بھی کل گرا دیا ہے اب اتنے اڑتے ہو ئے جگنوؤں کا کیا ہو علاج دیا تو بس میں تھا اپنے، دیا بجھا دیا ہے اسے بتا دیا ہے، اب وہ اپنی حد میں رہے اور اس کی حد ہے کہاں تک ، اسے بتا دیا ہے قدم قدم پہ مجھے روکتا تھا، ٹوکتا تھا ضمیر جاگا ہوا تھا اسے سلا دیا ہے نکل نہ پائے گا اک جال سے نکل کر بھی اک اور جال ہے جو…
Read More