سیف الدین سیف ۔۔۔ جب تصور میں نہ پائیں گے تمہیں

جب تصور میں نہ پائیں گے تمھیں پھر کہاں ڈھونڈنے جائیں گے تمھیں تم نے دیوانہ بنایا مجھ کو لوگ افسانہ بنائیں گے تمھیں حسرتو ! دیکھو یہ ویرانۂ دل اِس نئے گھر میں بسائیں گے تمھیں میری وحشت، مرے غم کے قصے لوگ کیا کیا نہ سنائیں گے تمھیں آہ میں کتنا اثر ہوتا ہے یہ تماشا بھی دکھائیں گے تمھیں آج کیا بات کہی ہے تم نے پھر کبھی یاد دلائیں گے تمھیں سیف یوں چھوڑ چلے ہو محفل جیسے وہ یاد نہ آئیں گے تمھیں

Read More

افق لکھنوی ۔۔۔ برائے دشت گردی بخت کے چکر سے جاتے ہیں

برائے دشت گردی بخت کے چکر سے جاتے ہیں رہو تم شاد اے اہلِ وطن ہم گھر سے جاتے ہیں نوید اے خارِ صحرا مژدہ اے دشواریٔ منزل کہ ہم راہِ وفاداری میں چشم و سر سے جاتے ہیں کہاں گم گشتۂ راہِ سعادت ہیں انھیں دیکھیں جو چلتے ہیں نگاہوں میں وہ اس تیور سے جاتے ہیں جلو میں فوجِ غم ہے اردلی میں لشکرِ عسرت بیاباں میں افق ہم ایسے کر و فر سے جاتے ہیں

Read More

افق لکھنوی ۔۔۔ ہمارے زخم میں ٹھنڈک لہو سے ہوتی رہتی ہے

ہمارے زخم میں ٹھنڈک لہو سے ہوتی رہتی ہے تسلی دل کی تکلیفِ رفو سے ہوتی رہتی ہے زمانہ قدرداں ہوتا ہے صورت اور سیرت کا گلوں کی قدر جیسے رنگ و بو سے ہوتی رہتی ہے نہیں تکلیف سے خالی کسی کا پھولنا پھلنا شجر پر سنگ باری چار سو سے ہوتی رہتی ہے قناعت کرتی رہتی ہے جو سیپی ابرِ نیساں پر بسر درِ عدن کی آبرو سے ہوتی رہتی ہے ہے مجھ پر مہربانی اس قدر تکلیفِ زنداں کی کہ خم گردن مری طوقِ گلو سے ہوتی…

Read More

بشیر بدر

اتنا ٹوٹا ہوں کہ چھونے سے بکھر جاؤں گا اب اگر اور دعا دوگے تو مر جاؤں گا!

Read More

انصر منیر ۔۔۔ جب ترے دام سے گزرتا ہوں

جب ترے دام سے گزرتا ہوں مجمعِ عام سے گزرتا ہوں راس آیا ہے خار زارِ جنوں کتنے آرام سے گزرتا ہے مجھ کو اس کی گلی کا شوق نہیں ہاں مگر کام سے گزرتا ہوں قیس ہوں اور پھر بھی دشت سے میں اب ترے نام سے گزرتا ہوں کُن کے مالک کا معجزہ ہے غزل روز الہام سے گزرتا ہوں صحنِ دل میں مجھے دکھائی دو جسم کے بام سے گزرتا ہوں اب میں انصر یقیں کے رستے سے کیسے ابہام سے گزرتا ہوں انصرمنیر

Read More

سیف الدین سیف ۔۔۔ راہ آسان ہو گئی ہوگی

راہ آسان ہو گئی ہوگی جان پہچان ہو گئی ہوگی موت سے تیرے درد مندوں کی مشکل آسان ہو گئی ہوگی پھر پلٹ کر نگہ نہیں آئی تجھ پہ قربان ہو گئی ہوگی تیری زلفوں کو چھیڑتی تھی صبا خود پرشان ہوگئی ہوگی ان سے بھی چھین لوگے یاد اپنی جن کا ایمان ہو گئی ہوگی دل کی تسکین پوچھتے ہیں آپ ہاں مری جان ہو گئی ہوگی مرنے والوں پہ سیف حیرت کیوں موت آسان ہو گئی ہوگی

Read More

منیر نیازی ۔۔۔ رنجِ فراقِ یار میں رُسوا نہیں ہُوا

رنجِ فراقِ یار میں رُسوا نہیں ہُوا اِتنا مَیں چُپ ہُوا کہ تماشا نہیں ہُوا ایسا سفر ہے جس میں کوئی ہم سفر نہیں رستہ ہے اِس طرح کا جو دیکھا نہیں ہُوا مُشکل ہُوا ہے رہنا ہمیں اِس دیار میں برسوں یہاں رہے ہیں یہ اپنا نہیں ہُوا وہ کام شاہِ شہر سے ، یا شہر سے ہُوا جو کام بھی ہُوا ہے وہ اچھا نہیں ہُوا مِلنا تھا ایک بار اُسے پھر کہِیں مُنیر ایسا مَیں چاہتا تھا پر ایسا نہیں ہُوا

Read More

احمد ندیم قاسمی ۔۔۔ جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دی

جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دی دل مگر اس پہ وہ دھڑکا کہ قیامت کر دی تجھ سے کس طرح میں اظہار تمنا کرتا لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی تجھ کو پوجا ہے کہ اصنام پرستی کی ہے میں نے وحدت کے مفاہیم کی کثرت کر دی مجھ کو دشمن کے ارادوں پہ بھی پیار آتا ہے تیری الفت نے محبت مری عادت کر دی…

Read More