جب ہمیں جوشِ جنوں سوئے بیاباں لے چلا شہر سے ہم راہ اپنے فوجِ طفلاں لے چلا ظلم سے تیرے ہمیں غم جان جانے کا نہیں ہم نشانے پر کھڑے ہیں تیر تو ہاں لے چلا وہ لیے جاتے ہیں اس دل کو جو لایا تھا انھیں میزباں کو اپنے گھر میں آج مہماں لے چلا جان لے لے کر ہتھیلی پر چلے لاکھوں شہید سوئے مقتل جب وہ اپنی تیغِ براں لے چلا اور امیدیں بر آئیں فضلِ خالق سے افق پھر بھی غم ہے دل کے میں دل…
Read Moreسیف الدین سیف ۔۔۔ مری داستانِ حسرت وہ سنا سنا کر روئے
مری داستانِ حسرت وہ سنا سنا کر روئے مرے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے کوئی ایسا اہلِ دل ہو کہ فسانۂ محبت میں اسے سنا کے روؤں وہ مجھے سنا کے روئے مری آرزو کی دنیا دلِ ناتواں کی حسرت جسے کھو کے شادماں تھے اسے آج پا کے روئے تری بے وفائیوں پر تری کج ادائیوں پر کبھی سرجھکا کے روئے کبھی منہ چھپا کے روئے جو سنائی انجمن میں شبِ غم کی آپ بیتی کئی رو کے مسکرائے کئی مسکرا کے روئے
Read Moreآہ سنبھلی ۔۔۔ مت فکرِ مداوا کر اے دستِ مسیحائی
مت فکرِ مداوا کر اے دستِ مسیحائی دریاؤں سے گہری ہے اس زخم کی گہرائی اک منزلِ ہجرت میں جب یاد تری آئی رنگوں کو چرا لائی خوشبو کو اڑا لائی ہر چہرہ پرایا ہے ہر آنکھ میں نفرت ہے جائے گی کہاں لے کر اے شرمِ شناسائی یہ کیسا سویرا تھا کس درد کا سورج تھا ہر روشنی ظلمت کی دہلیز پہ لے آئی جب ہجر مقدر ہے ملنے ہی نہیں دے گا سورج کی تو یکتائی میں چاند کی تنہائی اب تم کو بھی ہونا ہے اوجھل مری…
Read Moreطارق متین … چرچا ہے بہت جس کا یہاں نام بہت ہے
چرچا ہے بہت جس کا یہاں نام بہت ہے در پردہ وہی شخص خون آشام بہت ہے اتنا ہی ترے قرب کا ہنگام بہت ہے اک شام جو مل جائے وہی شام بہت ہے کافی ہے بہلنے کو تری یاد کی دولت اے راحتِ دل تیرا یہ انعام بہت ہے ہر موڑ پہ دھوکا ہے یہاں کیسے بسر ہو یہ دہر پر از کلفت و آلام بہت ہے دو گھونٹ سے کیا ہوگا ابھی اور پلا تو اے پیرِ مغاں تلخیٔ ایام بہت ہے بس تھوڑی سی مہلت تو مجھے…
Read Moreاسحاق وردگ
دکھائی دینے کے معنی نظر نہیں آتے سرابِ وقت کا آئینہ خانہ سامنے ہے
Read Moreشہناز مزمل
حرص و ہوس کے آگے نہ کچھ بھی دکھائی دے انسان اپنے قد سے بھی چھوٹا دکھائی دے
Read Moreثروت حسین ۔۔۔ نقش کچھ ابھارے ہیں فرشِ خاک پر میں نے
نقش کچھ ابھارے ہیں فرشِ خاک پر میں نے نہر اک نکالی ہے وقت کاٹ کر میں نے اُس درخت کے بازو دیر سے کشادہ تھے توڑ ہی لیا آخر ایک برگِ تر میں نے چیخ اک مسرّت کی خون میں سُنائی دی جب شکار کو دیکھا تیر کھینچ کر میں نے میری دسترس میں ہے آسمان مٹی کا اِک لکیر کھینچی ہے دیکھ ہم شجر میں نے جل اُٹھا اندھیرے میں انبساط کا پتھر جب زمین کو دیکھا اُس کو دیکھ کر میں نے میری گفتگو ثروت خواب گاہِ…
Read Moreیزدانی جالندھری
ٹوٹا نہیں اشکوں سے ابھی ضبط کا پشتہ پانی ابھی خطرے کے نشاں تک نہیں آیا
Read Moreعزیز قیسی
نہ ہم سیاہی نہ ہم اجالا چراغ ہیں اشکِ آرزو کے کہ ہم سرِ دشت بے کراں ہیں سلگتے رہتے ہیں شام سے ہم
Read Moreراحت اندوری
بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہئے میں پینا چاہتا ہوں پلا دینی چاہئے
Read More