قمر جلالوی ۔۔۔ اپنی زلفیں کیوں سرِ بالیں پریشاں کر چلے

اپنی زلفیں کیوں سرِ بالیں پریشاں کر چلے آپ تو بالکل مرے مرنے کا ساماں کر چلے دیکھ اے صیاد چھینٹے خوں کے ہر تیلی پر ہیں ہم ترے کنجِ قفس کو بھی گلستاں کر چلے دل میں ہم شرما رہے ہیں شکوۂ محشر کے بعد پیشِ حق کیوں آئے کیوں ان کو پشیماں کر چلے اپنے دیوانوں کو تم روکو بہاریں آ گئیں اب کنارہ بابِ زنداں سے نگہباں کر چلے اے قمر حالِ شبِ فرقت نہ ہم سے چھپ سکا داغِ دِل سارے زمانے میں نمایاں کر چلے

Read More

احمد فراز

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا

Read More

شاہین عباس

یہ جو ہم کچھ کہتے کہتے کچھ بھی کہ پاتے نہیں زندگی شاید اِسی پیغمبری کا نام ہے

Read More

محسن اسرار

ضرورت ہے کہ ہنگامہ کیا جائے مگر کب تک میں ہنگامہ کروں گا

Read More

خالد احمد

ہر سو تھے ہمی غبار فرما تو تھا کہ ہوا کا قہقہہ تھا

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں

انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں رقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سے تمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیں وہ ہنس کر کہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے یہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیں نہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی…

Read More

یزدانی جالندھری

برسا ہے ابر پھر بھی کہیں تازگی نہیں جل تھل کے باوجود تپش ہے، نمی نہیں

Read More

ناصر زیدی ۔۔۔ حُسین سحر (لوگ کیوں زیرِزمیں روز چلے جاتے ہیں؟)

حُسین سحر (لوگ کیوں زیرِزمیں روز چلے جاتے ہیں؟) رواں سال یعنی۲۰۱۶ء میں یکم جنوری سے یکم اکتوبر تک پورے نوماہ کے دوران میں اس جہانِ فانی سے عالمِ جاودانی کو سُدھار جانے والے شعرا و ادبا ودانش وَر حضرات کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ محض نام گِنوانے میں زمانے لگ جائیں۔ اس موقع پر یہ مشہور ِ زمانہ شعر یاد آتا ہے: لوگ کیوں زیرِ زمیں روز چلے جاتے ہیں نہیں معلوم تہِ خاک تماشا کیا ہے؟ جانے والوں کا ذکرِ خیر ہی دراصل ان کا آخری…

Read More

ناصر زیدی ۔۔۔ مرزا : میرایار (پروفیسر ڈاکٹر مرزابیگ)

مرزا  :  میرایار (پروفیسر ڈاکٹر مرزابیگ) مرزامیرادوست نہیں،میرا یار ہے۔ مرزایعنی پروفیسر ڈاکٹر مرزاحامد بیگ! جسے میں پیار سے’ ’مرزاقادیان والے‘‘ کہہ کر پکارتا ہوں تو ملکہ ترنم کے گائے ہوئے اس پنجابی گیت کی طرح’’جدوں ہولی جئی لیندا میر اناں،میں تھاں مرجاندی آں‘‘مرزاتھاں نہیں مرجاتا،بلکہ میرے ’’ہولے جئی‘‘ نہیں، پورے زور سے اس لاحقے کے ساتھ پُکارنے پر کھلکھلا کر ہنستاہے اور پھر ہنستا ہی چلا جاتاہے۔ میری طرف سے دیے گئے اس اعزاز کو وہ اس طرح خوش دلی سے قبول کرتا ہے گویا اس کے من کی…

Read More

محمد علی ایاز ۔۔۔ دو غزلیں

سبھی دشتِ ہجر کی وسعتیں مرے نام کرکے چلا گیا وہ جو ایک لمحۂ مختصر میں قیام کرکے چلا گیا میں خزاں رسیدہ بدن لیے رہا منتظر سرِ رہ گزر وہ محبتوں کی بہار میں کہیں شام کرکے چلا گیا مری دھڑکنوں کے حصار میں کوئی لمحہ بھر وہ رکا رہا سبھی زحمت دل زار کو جو تمام کرکے چلا گیا دل مضطرب کی پکار ہے کہ وہ بے پناہ حسین شخص مری حسرتوں، مری خواہشوں کو غلام کرکے چلا گیا جسے ہر نظر سے چھپا کے میں نے رکھا…

Read More