اب سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو تم چاند سے ماتھے والے ہو اور اچھی قسمت رکھتے ہو بچے کی سی بھولی صورت اب تک ضد کرنے کی عادت کچھ کھوئی کھوئی سی باتیں کچھ سینے میں چبھتی یادیں اب انھیں بھلا دو، سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو سو جاؤ تم شہزادے ہو اور کتنے ڈھیروں پیارے ہو اچھا تو کوئی اور بھی تھی اچھا پھر بات کہاں نکلی کچھ اور بھی یادیں بچپن کی کچھ اپنے گھر کے…
Read Moreحفیظ جالندھری ۔۔۔ ابھی تو میں جوان ہوں
ہَوا بھی خوش گوار ہے گلوں پہ بھی نکھار ہے ترنمِ ہزار ہے بہار پر بہار ہے کہاں چلا ہے ساقیا ادھر تو لوٹ، ادھر تو آ ارے یہ دیکھتا ہے کیا اٹھا سبو، سبو اٹھا سبو اٹھا، پیالہ بھر پیالہ بھر کے دے ادھر چمن کی سمت کر نظر سماں تو دیکھ، بے خبر! وہ کالی کالی بدلیاں افق پہ ہو گئیں عیاں وہ اک ہجومِ مے کشاں ہے سوئے مے کدہ رواں یہ کیا گماں ہے بد گماں سمجھ نہ مجھ کو ناتواں خیالِ زہد ابھی کہاں ابھی…
Read Moreساقی فاروقی ۔۔۔ سرخ گلاب اور بدر منیر
اے دل! پہلے بھی تنہا تھے، اے دل! ہم تنہا آج بھی ہیں اور ان زخموں اور داغوں سے اب اپنی باتیں ہوتی ہیں جو زخم کہ سرخ گلاب ہوئے، جو داغ کہ بدر منیر ہوئے اس طرح سے کب تک جینا ہے، میں ہار گیا اس جینے سے کوئی ابر اُڑے کسی قلزم سے، رس برسے مرے ویرانے پر کوئی جاگتا ہو، کوئی کڑھتا ہو مرے دیر سے واپس آنے پر کوئی سانس بھرے مرے پہلو میں، کوئی ہاتھ دھرے مرے شانے پر اور دبے دبے لہجے میں کہے:…
Read Moreاحمد ندیم قاسمی ۔۔۔ جنگل کی آگ
آگ جنگل میں لگی تھی لیکن بستیوں میں بھی دھواں جا پہنچا ایک اڑتی ہوئی چنگاری کا سایہ پھیلا تو کہاں جا پہنچا تنگ گلیوں میں اُمڈتے ہوئے لوگ گو بچا لائے ہیں جانیں اپنی اپنے سر پر ہیں جنازے اپنے اپنے ہاتھوں میں زبانیں اپنی آگ جب تک نہ بُجھے جنگل کی بستیوں تک کوئی جاتا ہی نہیں حسنِ اشجار کے متوالوں کو حسنِ انساں نظر آتا ہی نہیں
Read Moreآشفتہ چنگیزی ۔۔۔ خدا کی جگہ خالی ہے
شنکر ڈمرو کا متبادل تلاش کر چکا گوپیاں اب کسی اودھو کی محتاج نہیں ٹرنک کال ان کی سمسیاؤں کا حل ہے عزرائیل! ایٹم اور ہیلیم کے حق میں دست بردار ہونے کی فکر میں ہے اسرافیل کی جمالیاتی حس کو جلا مل گئی اب وہ کسی میوزک اسکول میں داخلہ لے لے گا فوڈ کارپوریشن کا مطالبہ: ‘میکائیل کا رٹائرمنٹ’ مان لیا گیا ہے وائرلس ٹیلی گراف کا محکمہ افسرِ اعلی کے عہدہ کے لیے جبرئیل کی درخواست پر غور کر رہا ہے ‘خدا کی جگہ خالی ہے، متمنی…
Read Moreن م راشد ۔۔۔ رقص
اے مری ہم رقص! مجھ کو تھام لے زندگی سے بھاگ کر آیا ہوں مَیں ڈر سے لرزاں ہوں کہیں ایسا نہ ہو رقص گہ کے چور دروازے سے آ کر زندگی ڈھونڈ لے مجھ کو، نشاں پا لے میرا اور جرمِ عیش کرتے دیکھ لے! اے مری ہم رقص! مجھ کو تھام لے رقص کی یہ گردشیں ایک مبہم آسیا کے دور ہیں کیسی سرگرمی سے غم کو روندتا جاتا ہوں مَیں! جی میں کہتا ہوں کہ ہاں، رقص گہ میں زندگی کے جھانکنے سے پیشتر کلفتوں کا سنگ…
Read Moreحفیظ ہوشیارپوری ۔۔۔ محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے میں اکثر سوچتا ہوں پھول کب تک شریکِ گریۂ شبنم نہ ہوں گے ذرا دیر آشنا چشمِ کرم ہے ستم ہی عشق میں پیہم نہ ہوں گے دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے زمانے بھر کے غم یا اک ترا غم یہ غم ہوگا تو کتنے غم نہ ہوں گے کہوں بے درد کیوں اہلِ جہاں کو وہ میرے حال سے محرم نہ ہوں گے ہمارے دل میں…
Read Moreعلامہ اقبال ۔۔۔ گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر
گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر ہوش و خرد شکار کر، قلب و نظر شکار کر عشق بھی ہو حجاب میں، حسن بھی ہو حجاب میں یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر تو ہے محیطِ بیکراں میں ہوں ذرا سی آب جو یا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر میں ہوں صدف تو تیرے ہاتھ میرے گہر کی آبرو میں ہوں خذف تو تو مجھے گوہرِ شاہوار کر نغمۂ نوبہار اگر میرے نصیب میں نہ ہو اس دمِ نیم سوز کو طائرکِ بہار کر…
Read Moreجانثار اختر ۔۔۔ آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ہی چمن میں شرمائے، لچک جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو صندل سے مہکتی ہوئی پر کیف ہوا کا جھونکا کوئی ٹکرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو اوڑھے ہوئے تاروں کی چمکتی ہوئی چادر ندی کوئی بل کھائے تو لگتا ہے کہ تم ہو جب رات گئے کوئی کرن میرے برابر چپ چاپ سی سو جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
Read Moreشاد عظیم آبادی ۔۔۔ ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم میں حیرت و حسرت کا مارا خاموش کھڑا ہوں ساحل پر دریائے محبت کہتا ہے آ کچھ بھی نہیں پایاب ہیں ہم ہو جائے بکھیڑا پاک کہیں پاس اپنے بلا لیں بہتر ہے اب دردِ جدائی سے ان کی اے آہ بہت بیتاب ہیں ہم اے شوق بُرا اس وہم کا ہو مکتوب تمام اپنا نہ ہوا واں چہرہ پہ ان کے خط نکلا یاں بھولے…
Read More