سنتے ہیں کہ محشر میں صرف ان کی رسائی ہے گر ان کی رسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے مچلا ہے کہ رحمت نے امید بندھائی ہے کیا بات تری مجرم کیا بات بنائی ہے سب نے صفِ محشر میں للکار دیا ہم کو اے بے کسوں کے آقا اب تیری دہائی ہے یوں تو سب انھی کا ہے پر دل کی اگر پوچھو یہ ٹوٹے ہوئے دل ہی خاص ان کی کمائی ہے گرتے ہوؤں کو مژدہ سجدے میں گرے مولیٰ رو رو کے شفاعت کی تمہید…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ احمد رضا خان بریلوی
چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے مرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے برستا نہیں دیکھ کر ابرِ رحمت بدوں پر بھی برسا دے برسانے والے مدینے کے خطے خدا تجھ کو رکھے غریبوں فقیروں کے ٹھہرانے والے تو زندہ ہے واللہ تو زندہ ہے واللہ مرے چشمِ عالم سے چھپ جانے والے میں مجرم ہوں آقا مجھے ساتھ لے لو کہ رستے میں ہیں جابجا تھانے والے حرم کی زمیں اور قدم رکھ کے چلنا ارے سر کا موقع ہے او جانے والے رہے گا یونہی ان…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ احمد رضا خان بریلوی
اٹھا دو پردہ دکھا دو جلوہ کہ نور باری حجاب میں ہے زمانہ تاریک ہو رہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے انھی کی بو مایۂ سمن ہے انھی کا جلوہ چمن چمن ہے انھی سے گلشن مہک رہے ہیں انھی کی رنگت گلاب میں ہے وہ گل ہیں لب ہائے نازک ان کے ہزاروں جھڑتے ہیں پھول ان سے گلاب گلشن میں دیکھے بلبل یہ دیکھ گلشن گلاب میں ہے کھڑے ہیں منکر نکیر سر پر نہ کوئی حامی نہ کوئی یاور بتا دو آ کر مرے…
Read Moreسید نصیرالدین نصیر
حُسنِ تخلیق کا شہکار ، حسینؓ ابنِ علیؓ عشق کا مطلعِ انوار ، حسینؓ ابنِ علیؓ حق نے باطل کو بہ ہر حال پنَپنے نہ دیا اِس حقیقت کا ہیں اظہار ، حسینؓ ابنِ علیؓ
Read Moreسید نصیرالدین نصیر ۔۔۔ جس کی جرأت پر جہانِ رنگ و بو سجدے میں ہے
جس کی جرأت پر جہانِ رنگ و بو سجدے میں ہے آج وہ رَمز آشنائے سِرِّ ھُو سجدے میں ہے کیسا عابد ہے یہ مقتل کے مصلی پر کھڑا کیا نمازی ہے کہ بے خوفِ عدو سجدے میں ہے اے حسین ابن علی تجھ کو مبارک یہ عروج آج تو اپنے خدا کے روبرو سجدے میں ہے جانبِ کعبہ جھکا مولودِ کعبہ کا پسر قبلہ رو ہو کر حسینِ قبلہ رو سجدے میں ہے ابنِ زہرا اس تری شانِ عبادت پر سلام سر پہ قاتل آچکا ہے اور تو سجدے…
Read Moreنذیر قیصر
بس ایک شام سرِدشت کربلا اتریپھر اس کے بعد گھروں سے علم نکلتا رہا
Read Moreکاشف حسین غائر ۔۔۔ ہر گام بدلتے رہے منظر مرے آگے
ہر گام بدلتے رہے منظر مرے آگے چلتا ہی رہا کوئی برابر مرے آگے کیا خاک مری خاک میں امکان ہو پیدا ناپید ہیں موجود و میسر مرے آگے یوں دیکھنے والوں کو نظر آتا ہوں پیچھے رہتا ہے مسافت میں مرا گھر مرے آگے رکھتی ہے عجب پاس مری تشنہ لبی کا سو موج اُٹھاتی ہی نہیں سر مرے آگے ہنستا ہی رہا میں در و دیوار پر اپنے روتا ہی رہا میرا مقدر مرے آگے کل رات جگاتی رہی اک خواب کی دوری اور نیند بچھاتی رہی بستر…
Read Moreتوقیر عباس ۔۔۔ یہ فخر ہے اے مجرئی جاگیر ہماری
یہ فخر ہے اے مجرئی جاگیر ہماری سادات کے غم سے ہوئی تعمیر ہماری توقیر سدا کرتا ہے تطہیر ہماری تہذیب میں شامل غمِ شبیر ہماری اک زخم نکھرتاہوا زنجیر زنی سے اک درد ہلاتا ہوا زنجیر ہماری کہتی تھی دمِ نزع سکینہ سے ضعیفی کچھ دیر کو ہے سامنے تصویر ہماری اک زہر میں ڈوبی ہوئی لوگوں کی خموشی اک نوحے سے ہوتی ہوئی تطہیر ہماری اک نعرۂ پر جوش ہوا ڈھال ہمیشہ اک نوحۂ غم ہو گیا شمشیر ہماری یہ کس کی سرِ دشت ہیں پر درد صدائیں…
Read Moreتوقیر عباس ۔۔۔ عمر چھ ماہ نام اصغر ہے
عمر چھ ماہ نام اصغر ہے عالمِ کم سنی میں حیدر ہے اک تبسم نکھارتا ہے اسے جس جوانی کا نام اکبر ہے حسنِ اکبر پہ ماہتاب نثار اور اکبر نثارِ اصغر ہے پیاس کو تیر مارنے والے ایک بچہ جوان لشکر ہے وار ایسا کیا تبسم کا کند بیعت کا اب بھی خنجر ہے حسن میں ہے وہ اکبر و قاسم اور شجاعت میں رشکِ حیدر ہے وہ بہتر میں اک اکیلا تھا وہ اکیلا بھی اک بہتر ہے کربلا میں تبسمِ اصغر دشت میں موج زن سمندر ہے…
Read Moreتوقیر عباس ۔۔۔ اک بارگہِ حسن میں پیغامِ سناں ہے
اک بارگہِ حسن میں پیغامِ سناں ہے گل رنگ ابھی سینۂ شبانِ جناں ہے اک لشکرِ عصیاں میں گھرا شاہِ جہاں ہے اک نار مولد جو سدا در پئے جاں ہے اک شخص جو مجموعہِ اوصافِ نبی ہے اک پھول ہے جس پھول میں گلزار نہاں ہے آئے ہیں عجب شان سے میدانِ وغا میں مولا ہیں کہ گلزار میں اک سروِ رواں ہے معصوم سی اک پیاس کا ہنسنا سر میداں کیا تیر ہے جس تیر پہ قرباں کماں ہے دشمن کی قطاروں میں ہیں عباس غضب ناک شمشیر…
Read More