کیا اُتر آیا کسی غم کا اثر آنکھوں میں کیوں لیے پھرتے ہو یہ لعل و گہر آنکھوں میں ہم تو آنے کے لیے کب سے کھڑے ہیں لیکن تم نے رکھا ہی نہیں ہے کوئی در آنکھوں میں پیار سے اس کی طرف دیکھ لیا کیا میں نے وسوسے رہنے لگے بن کے بھنور آنکھوں میں کب حسیں کوئی اچانک یونہی در آتا ہے دل کی ہوتی ہے کوئی راہ گزر آنکھوں میں یوں ہی رونا کہاں آتا ہے کسی کو مقبول اشک ہوتے ہیں کسی غم کا ثمر…
Read Moreسید قاسم جلال ۔۔۔ رات دن اک کشمکش ، میرے دماغ و دل میں ہے
رات دن اک کشمکش ، میرے دماغ و دل میں ہے ڈھونڈتا ہوں میں جسے ، وہ کون سی محفل میں ہے خوں ابھی کافی رگِ جانِ تنِ بسمل میں ہے ’’دیکھتے ہیں زور کتنا، بازوئے قاتل میں ہے‘‘ ہے تحرک اور تموّج ہی سے دریا کی شناخت خامشی شہرِ خموشاں کی ، اگر ساحل میں ہے جانے کب پہنچیں گے قاتل ، کیفرِ کردار تک خونِ مقتولاں ، تلاشِ منصفِ عادل میں ہے اس جہاں میں پائے جنّت اور ہو وہ دائمی محو ، انساں آج تک ، اس…
Read Moreرشید آفرین ۔۔۔ شوقِ منزل لیے چلو تنہا
شوقِ منزل لیے چلو تنہا رہ گزر کو سنوار دو تنہا ہر مصیبت میں تم رہو تنہا ظلم جو بھی ہو وہ سہو تنہا وقت کی تند و تیز آندھی میں جل سکو گر تو ہاں ! جلو تنہا گر زباں میں ہو شعلۂ فطرت بات جب بھی کہو ، کہو تنہا آرزو کا چمن مہک اُٹھے کبھی تنہائی میں ملو تنہا کوئی پوچھے تو حال اُس دِل کا جو بھری بزم میں بھی ہو تنہا آفریں کون ساتھ دیتا ہے زندگانی کے سانس لو تنہا
Read Moreسید قاسم جلال ۔۔۔ کل مجھ سے جو کہتے تھے کہ کیوں رہتے ہو خاموش
کل مجھ سے جو کہتے تھے کہ کیوں رہتے ہو خاموش بولا میں جب اُن سے تو ہوئے کیوں وہ گراں گوش غم بھی ہیں اگر ساتھ خوشی کے ، تو نہ گھبرا ہیں روزِ ازل سے ہی گُل و خار ، ہم آغوش پیوستہ ہیں اک دوسرے سے، علّت و معلول تیرا ہے قصور اور کسی کا نہ کوئی دوش کر سکتی ہے کیا فکرِ سلیم ، اپنا کوئی کام جب جوش کے ہو زیرِنگیں ،سلطنتِ ہوش آقاؐ ہے مِرا سُرمہ ، تیری خاک کفِ پا ہے تاجِ فضیلت…
Read Moreاظہر عباس ۔۔۔ منزل الجھ گئی ہے میاں راستے سمیت
منزل الجھ گئی ہے میاں راستے سمیت ہم پھر بھی چل رہے ہیں اسی سانحے سمیت دنیا میں کچھ نہیں ہے سوائے وصال کے تجھ کو زمیں میں گاڑ دوں اس فلسفے سمیت؟ اس میں لکھا ہوا ہے سبھی برج ہیں خلاف تو پھر بھی ہے قبول اسی زائچے سمیت سننے میں آ رہا ہے کہ تو عالی ظرف ہے اے ہجر! دے پناہ مجھے قہقہے سمیت دو دو عطا ہوئی ہیں یہ شاید اسی لیے دیکھیں گی تجھ کو ساتھ میں آئے ہوئے سمیت پھر ہم بھی مان لیں…
Read Moreاظہر عباس ۔۔۔ مت کہہ مجھے بیکار، مرے یار ، انا الاشک
مت کہہ مجھے بیکار، مرے یار ، انا الاشک اک روز میں ہوں گا تجھے درکار ، انا الاشک میں اس کے شہیدوں کی ہوں تاریخ کا راوی ہوں خواب قبیلے کا عزادار ، اناالاشک پھر آنکھ سے بھی دیس نکالا مرا آیا بس اتنا بتایا تھا کہ سرکار ، انالاشک کیوں اتنا گھمنڈ آپ کو ہے ضبط و انا پر کر جاؤں گا مسمار یہ دیوار، اناالاشک یہ آنکھ کی سرحد بھی بدل دیتی ہے سب کچھ اس پار انا الحزن تو اُس پار ، اناالاشک یہ سارے سخنور…
Read Moreرشید آفرین ۔۔۔ نہیں انسان کے کوئی برابر
نہیں انسان کے کوئی برابر ملائک کب ہوئے ہیں اس کے ہم سر کوئی آئے جواں ایسا دِلاور بچا لے آدمیت کو جو آ کر جہاں تنہائیاں ہوں اور اندھیرا کہیں اُس کو بھلا ہم دشت یا گھر عجب اک خوف کی زد میں ہوں کب سے کہیں مجھ کو نہ لے ڈوبے مِرا ڈر لیے پھرتا ہوں جو شانوں پہ اپنے نہیں میرا مجھے لگتا ہے وہ سر طلب میری کرم کی بھیک ہر پل درِ اقدسؐ کا ہوں ادنیٰ گداگر اُبھر کر جا لگا آخر کنارے تھا جو…
Read Moreوسیم جبران ۔۔۔ کسی کی یاد کے صندل میں آگ جلتی ہے
کسی کی یاد کے صندل میں آگ جلتی ہے دلِ حزیں ترے جنگل میں آگ جلتی ہے برس رہے ہیں بہت گرم اشک پلکوں سے تمہاری آنکھ کے بادل میں آگ جلتی ہے چمن بہار میں افسردہ ہے تمہارے لیے گلوں میں، شاخ میں، کونپل میں آگ جلتی ہے اگرچہ لفظ ہے بس ایک ہی محبت کا لکھوں جو سرچ میں گوگل میں آگ جلتی ہے کتاب جنگ و جدل کی لکھی مورخ نے تو بابِ آخر و اول میں آگ جلتی ہے تمہارے عشق کی جبرانؔ کیا کہانی ہے…
Read Moreعنبرین عنبر راجپوت ۔۔۔ تیرے جانے کا غم نہیں کرتے
تیرے جانے کا غم نہیں کرتے تیری یادوں کو کم نہیں کرتے ہاتھ پکڑا ہے ساتھ چلنے کو تجھ کو مجبور‘ ہم نہیں کرتے رات بھر دل اگرچہ رویا بہت پھر بھی آنکھوں کو نم نہیں کرتے تیری چُپ سے یہ جاگتے ارماں شور اتنا‘ صنم! نہیں کرتے تیری چاہت کو بھولنا چاہے اپنے جی پر ستم نہیں کرتے روک لیتے ہیں اشک پلکوں پر تیرے قصے رقم نہیں کرتے تم سے بڑھ کر ہو پیار اوروں سے ہم کو تیری قسم، نہیں کرتے
Read Moreتاثیر نقوی ۔۔۔ عشق کی پھر سے داستاں لکھوں
عشق کی پھر سے داستاں لکھوں ان بہاروں کو میں خزاں لکھوں قدرِ انساں بدل رہی ہے یہاں کیوں زمیں کو میں آسماں لکھوں چھا گئے ہیں جہاں پہ سناٹے کس طرح حالِ بے اماں لکھوں ظلم اور جبر ہر طرف ہے یہاں کیسے انساں کی داستاں لکھوں ہو گیا ہے لہو لہو گلشن زندگی کو میں خونچکاں لکھوں قتل ارمان کا ہوا ہے جہاں اُس کو میں کیسے گُلستاں لکھوں کاٹے کٹتی نہیں یہ تنہائی ہجر کو کس کی میں زباں لکھوں میرا وجدان جگمگا اُٹھے جب مکاں کو…
Read More