ننھی لڑکی ساحل کے اتنے نزدیک ریت سے اپنے گھر نہ بنا کوئی سرکش موج ادھر آئی تو تیرے گھر کی بنیادیں تک بہہ جائیں گی اور پھر ان کی یاد میں تو ساری عمر اداس رہے گی!
Read Moreعدیم ہاشمی
غم کے ہر اک رنگ سے مجھ کو شناسا کر گیا وہ مرا محسن مجھے پتھر سے ہیرا کر گیا
Read Moreعلی سردار جعفری
آئے ہم غالبؔ و اقبالؔ کے نغمات کے بعد مصحفِ عشق و جنوں حسن کی آیات کے بعد
Read Moreشہزاد احمد
شام ہونے کو ہے جلنے کو ہے شمعِ محفل سانس لینے کی بھی فرصت نہیں پروانے کو
Read Moreبسمل صابری ۔۔۔ حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور
حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور لب کہتے ہیں کچھ اور انھیں ہوتا ہے گماں اور جائیں تو کہاں جائیں محبت کے خریدار اربابِ سیاست نے تو کھولی ہے دکاں اور معلوم نہیں ہے مرے صیاد کو شاید گھٹتی ہے اگر سانس تو کھلتی ہے زباں اور اب وعدۂ فردا میں کشش کچھ نہیں باقی دہرائی ہوئی بات گزرتی ہے گراں اور دیکھے گی جو اک پل میں مری آنکھ سے تجھ کو ہو جائے گی دنیا تری جانب نگراں اور لگ جاتی ہیں مہریں سی…
Read Moreقتیل شفائی
گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا
Read Moreقتیل شفائی
آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے
Read Moreقتیل شفائی
پڑ گئی پاؤں میں تقدیر کی زنجیر تو کیا ہم تو اس کو بھی تری زلف کا بل کہتے ہیں
Read Moreقتیل شفائی
آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے
Read Moreقتیل شفائی
وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے
Read More