دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
Read Moreوسیم بریلوی
رات تو وقت کی پابند ہے ڈھل جائے گی دیکھنا یہ ہے چراغوں کا سفر کتنا ہے
Read Moreمجروح سلطان پوری
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
Read Moreعندلیب شادانی
دل پر چوٹ پڑی ہے تب تو آہ لبوں تک آئی ہے یوں ہی چھن سے بول اٹھنا تو شیشے کا دستور نہیں
Read Moreاداجعفری
دل کی آزردگی بجا لیکن وہ بھی محرومِ یک نگاہ رہے
Read Moreادا جعفری
پھر نگاہوں کو آزما لیجے پھر وفاؤں پہ اشتباہ رہے
Read Moreراحت اندوری
خیال تھا کہ یہ پتھراؤ روک دیں چل کر جو ہوش آیا تو دیکھا لہو لہو ہم تھے
Read Moreراحت اندوری
یہ ہوائیں اڑ نہ جائیں لے کے کاغذ کا بدن دوستو مجھ پر کوئی پتھر ذرا بھاری رکھو
Read Moreڈاکٹر شاہد اشرف ۔۔۔ روح کی ڈھولک پہ شاداں، غلام حسین ساجد
روح کی ڈھولک پہ شاداں، غلام حسین ساجد موجودہ دور میں غزل اور آزاد نظم ہر اعتبار سے اظہار کا بہترین وسیلہ تصور ہوتی ہیں۔ ان اصناف میں زندگی کا ہر موضوع بیان کیا جا سکتا ہے۔ ان اصناف کا دائرۂ کار بہت وسیع ہے۔ قیام پاکستان کے بعد غزل میں فکری سطح پر غیر معمولی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ غزل میں فکری و فنی سطح پر تغیرات دِکھائی دیتے ہیں۔ خیال، موضوع، اُسلوب، ڈکشن اور تکنیک میں واضح تبدیلیاں ملتی ہیں۔ اُردو غزل ہر عہد میں ثروت مند…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ اِبتدا (حمدیہ)
اِبتدا تو لازوال ہے ، سب کچھ تری بساط میں ہے مرا وجود شب و روز اِنحطاط میں ہے تُو نورِ مسجد و معبد، تُو میرا ربّ ِاَحد مرا حدیقہ جاں تیرے اِنضباط میں ہے جو لب پہ جاری ہو سُبَحانَ رَبّیَ الْاَعْلیٰ تو دل سرور میں ہے، رُوح بھی نشاط میں ہے میں تیری حمد کہوں، کیا مجال ہے میری میں تیری مدح لکھوں، کب مری بساط میں ہے میں تجھ سے چاہوں مدد نعتِ مصطفیٰ ؐ کے لیے مرے قلم کی دُعا اِھْدِنَاالصَّراط میں ہے تری خبر مجھے…
Read More