سلام ۔۔۔ خورشید ربانی

سلام خدا کی راہ کے بامِ شہِ ہدیٰؐ کے چراغ نظر نظر میں فروزاں ہیں کربلا کے چراغ نشانِ قریۂ باطل مٹاتے جاتے ہیں حسینؓ جادۂ حق میں جلا جلا کے چراغ فضائے خانۂ اسلام جن سے روشن ہے نبیؐ کے گھر کے دیے ہیں رہِ رضا کے چراغ وہ آب جُو کہ جو پہنچی نہیں تھی پیاسوں تک جلاتی پھرتی ہے پلکوں پہ اب عزا کے چراغ یہ ماہ و مہر حقیقت میں ہیں اُنھی کا نُور جلے ہوئے ہیں جو اب سامنے ہوا کے چراغ ہوائے کوفۂ شب…

Read More

  سلام، بحضور امامِ عالی مقامؑ ۔۔۔ عارف امام

سلام، بحضور امامِ عالی مقامؑ سلسہ گردشِ اوقات کا تھم جاتا ہے قیدی زنجیر ہلاتا ہے تو دم جاتا ہے ہاتھ میں تیغ ہے کوئی نہ سپر سینے پر یوں بھی دریا پہ کوئی لے کے علم جاتا ہے پشتِ بیمار ہے یوں زحمتِ زنجیر سے خم حلقۂ طوق گراں تا بہ قدم جاتا ہے ضعف سے خوں کو ٹپکنے کا بھی یارا نہ رہا زخم سے رستا نئیں آنکھ میں جم جاتا ہے آسماں شرم سے ہے دامنِ خورشید میں گم سر کھلے قافلۂ اہلِ حرم جاتا ہے اب…

Read More

رحمان حفیظ ۔۔۔ نظرنظر تِری حسرت ہے دل بہ دل ترا غم

نظرنظر تِری حسرت ہے دل بہ دل ترا غم ملا ہے اہلِ زمانہ کو مستقل ترا غم گزر چُکی ہے خزاں عشرتِ تمنا کی کھلا ہُوا ہے سرِ گلستانِ دل ترا غم بسی ہوئی ہے فضاؤں میں بس تری خُوشبو ر چا ہوا ہے مناظر میں مستقل ترا غم ہر ایک رنج میں تیرے گمان کی آمیخت خوشی کےسارے علاقوں سے متصل ترا غم دلوں کو درد کی دولت سے بہرہ مند کرے ہے اپنی اصل میں اک گُونہ معتدل ترا غم ہر ایک آنکھ ، ہر اک آئنے کا…

Read More

سلامِ عقيدت بحضور امامِ عالی مقام حسين عليہ السلام ۔۔۔ کوثر علی

سلامِ عقيدت بحضور امامِ عالی مقام حسين عليہ السلام ذکرِ کربل میں جو کاغذ پہ قلم کھینچتے ہیں جسمِ مظلوم سے اک تیرِ ستم کھینچتے ہیں تشنہ بچّوں کے بِلکنے کی صدا آتی ہے کربلا جائیں تو ہم سانس بھی کم کھینچتے ہیں کتنے آنسو ہیں ترے پاس ؟ بتا ! آب ِ فرات! ہم تو نسلوں سے شہنشاہ کا غم کھینچتے ہیں پانی پیتے ہیں تو پیتے ہوۓ رک جاتے ہیں پھر جو اک قطرہ بھی پیتے ہیں تو سَم کھینچتے ہیں روز کہتے ہیں کہ ڈٹ جائیں یزیدوں…

Read More

سلام ۔۔۔ جلیل عالی

سلام بندگانِ ریا کی نگاہوں میں شام و سحر اور تھے اور اہلِ صفا کے رموزِ قیام و سفر اور تھے . چاند پیشانیوں پر فروزاں تھا جو فیصلہ ، اور تھا چور چہروں پہ ٹھہرے ہوئے تھے جو اندر کے ڈر ، اور تھے . سب جبینیں وہاں رات دن تھیں زمیں بوسیوں میں مگن کٹ کے کچھ اور اوپر اٹھے تھے مگر وہ جو سر،اور تھے . گو رہِ عشق میں شان پہلے بھی بے مثل تھی آپ کی کربلا میں مگر سُرخرو تھے سوا ، معتبر اور…

Read More

جناب عابدِؑ بیمار کے حضور ۔۔۔ عارف امام

جناب عابدِؑ بیمار کے حضور اک صورتِ اظہار ہے زنجیر کی جھنکار گویا کوئی تلوار ہے زنجیر کی جھنکار تاراجیٔ دربار ہے زنجیر کی جھنکار زنجیر کی جھنکار ہے زنجیر کی جھنکار طاقت کے ہر اک وار کو بیمار نے کاٹا باطل کی زباں کو اسی جھنکار نے کا ٹا اندازِ وغا، پیکرِ تقریر میں دیکھا؟ ایسے کسی قصے کو اسا طیر میں دیکھا؟ الفاظ کو پیراہنِ شمشیر میں دیکھا؟ ایسے کسی بیمارؑ کو زنجیر میں دیکھا؟ پہلے تو تفاخر کیا لہجے کے علو پر پھر طوق نے سجدہ کیا…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ سلام

کیوں چپ ہے اسی شان سے پھر چھیڑ ترانہ تاریخ میں رہ جائے گا مردوں کا فسانہ مٹتے ہوئے اسلام کا پھر نام جلی ہو لازم ہے کہ ہر فرد حسین ابن علی ہو یہ جو مچل رہی ہے صبا پھٹ رہی ہے پو یہ جو چراغِ ظلم کی تھرا رہی ہے لو در پردہ یہ حسین کے انفاس کی ہے رو حق کے چھڑے ہوئے ہیں جو یہ ساز دوستو یہ بھی اسی جری کی ہے آواز دوستو پھر حق ہے آفتاب لب بام اے حسین پھر بزم آب…

Read More

عارف حسین ۔۔۔ سلام بحضور امامؑ عالی مقام

سلام بحضور امامؑ عالی مقام ٹکڑے ہو ہو کے سرِ دشت بکھرنے کے لئے ہم تو آئے ہیں یہاں آپ پہ مرنے کے لئے لیجئے ہم سُمِ اسپاں سے کچل جاتے ہیں آپ زحمت نہ کریں دفن بھی کرنے کے لئے کھینچ لائی ہے یہاں، غازہِ خونیں کی کشش آگئے ہم بھی یہاں بننے سنورنے کے لئے اس جلالیؑ کو اے مشکیزہِ بے آب سنبھال نہر کو خشک نہ کردے تجھے بھرنے کے لئے آسماں آیا تھا پھیلائے ہوئے دامنِ عرش سر ہی راضی نہ تھا نیزے سے اترنے کے…

Read More

سلام ۔۔۔ شہاب صفدر

سلام کوئی چراغ جب انکارِ شام بھی نہ کرے کرے گا کون اگر یہ امام بھی نہ کرے مری کسی سے نہیں دشمنی مگر جو شخص نہیں حسین کا مجھ سے کلام بھی نہ کرے گراں گزرتی ہے جس دل پہ یادگارِ حسین حضورِحق میں سجود و قیام بھی نہ کرے ہو بادشاہ جو دنیا کے در کا سگ ، اس کو علی کا چاہنے والا سلام بھی نہ کرے جو آنکھ بخشی ہے مولا تو التفات مزید بجز عزائے حسین اور کام بھی نہ کرے وہی تو کوفی ہے…

Read More

ثروت حسین ۔۔۔ سلام یا حسینؑ

سلام یا حسینؑ نظر سے شامِ غریباں کا وہ سماں نہ گیا فراخِ دشت سے پھر ایسا کارواں نہ گیا جھلک اٹھا ہے کنارِ افق سے تابہ افق ابد کنار ہوا خون رایگاں نہ گیا وہ شب چراغ کہ تیرے لہو سے روشن تھا شعاعِ مہر ہوا تو کہاں کہاں نہ گیا ہزار شکر کہ وہ ایک لمحۂ امید جہانِ صبر سے بے صوت بے اذاں نہ گیا ہوائیں تیز تھیں لیکن ہمارے ہاتھوں سے وہ اک نشان وہ دامانِ خونچکاں نہ گیا

Read More