چلی ہے تھام کے بادل کے ہاتھ کو خوشبو ہوا کے ساتھ سفر کا مقابلہ ٹھہرا
Read Moreخالد احمد
خاک پر خاک کی ڈھیریاں رہ گئیں آدمی اُٹھ گئے ، نیکیاں رہ گئیں
Read Moreضیاالدین نعیم ۔۔۔ تابِ غم ایک گھڑی بھی نہیں لائیں آنکھیں
تابِ غم ایک گھڑی بھی نہیں لائیں آنکھیں جی بھر آیا تو اسی آن بھر آئیں آنکھیں ناروا، اپنا رویہ اسے یاد آیا ہے بے سبب ہم سے نہیں اس نے چرائیں آ نکھیں روشنی باعثِ زحمت بھی تو ہو جاتی ہے اس چکا چوند نے کتنوں کی بجھائیں آنکھیں آنکھ والو، فقط آنکھوں پہ نہ تکیہ کرنا بارہا یوں بھی ہوا، کا م نہ آئیں آنکھیں کیا کہیں ڈالے ہیں جب جبر کے، آگے ہتھیار ہم نے پھر خود سے بھی پہروں نہ ملا ئیں آنکھیں کم سے کم…
Read Moreفیصل ہاشمی ۔۔۔ قافلہ بے قطار تھا اپنا
قافلہ بے قطار تھا اپنا اور میں سوگوار تھا اپنا اب تو کچھ بھی نظر نہیں آتا آئنوں میں شمار تھا اپنا گرد بیٹھی تو میں نظر آیا جسم سارا غبار تھا اپنا آنکھ تھی اور حسن تھا اس کا دل کوئی آبشار تھا اپنا
Read Moreطلعت شبیر ۔۔۔ ہجر کا بھی امکان کہاں تھا
ہجر کا بھی امکان کہاں تھا وصل کا بھی ارمان کہاں تھا ہر آواز پہ لوٹ آیا تھا مجھ جیسا نادان کہاں تھا کوفہ والے بدل گئے تھے جو کہتے تھے مان کہاں تھا وصل کے منظر لکھنا چاہے ہجر مرا عنوان کہاں تھا تو میری پہچان ہوا ہے میں تیری پہچان کہاں تھا تم تو اِک انمول رتن تھے عشق کا یہ تاوان کہاں تھا صحرا صحرا گزر ہوا ہے رخت کہاں ، سامان کہاں تھا
Read Moreسرور فرحان ۔۔۔ بظاہر تو اجالے بانٹتے ہیں وہ زمانے میں
بظاہر تو اجالے بانٹتے ہیں وہ زمانے میں مگر مخلص نہیں اندر کی تاریکی مٹانے میں چلو اے زندگی! جائو ملیں گے پھر کہیں دونوں مجھے کچھ وقت لگ جائے گا خود کو آزمانے میں میں کب کا بِک چکا یارو! عوض میں اک تبسم کے عبث مصروف ہو اب تم مری قیمت لگانے میں جو کہتا تھا کبھی یک جان دو قالب ہیں ہم دونوں وہ اب مصروف ہے کیوں درمیاں دیوار اُٹھانے میں اگر اتنے میں مل جائے دلِ ناشاد کو فرحت تجھے زحمت ہے کیا اے جاں!…
Read Moreیوسف خالد ۔۔۔ ہمارے ذوقِ رفاقت سے بے خبر ٹھہری
ہمارے ذوقِ رفاقت سے بے خبر ٹھہری حیاتِ حلقۂ احباب مختصر ٹھہری جنوں کی کار گزاری پہ حرف آیا ہے کہ بور بور ریاضت بھی بے ثمر ٹھہری برنگِ گل میں رہا تازگی سے ہم رشتہ مرے مزاج کی خوشبو نگر نگر ٹھہری وہ جس نے لفظوں کی حرمت کو معتبر رکھا اسی کی ذات زمانے میں معتبر ٹھہری نئے مزاج نے سب کچھ بدل دیا یکسر پرانی سوچ کی یلغار بے اثر ٹھہری چمن کی سیر عجب تازگی کی حامل تھی ہوائے صبح سے ہر بات خوب تر ٹھہری…
Read Moreاظہر فراغ ۔۔۔ اس لیے بھی میرے ماتھے پر شکن کوئی نہیں
اس لیے بھی میرے ماتھے پر شکن کوئی نہیں صبر کرنے کے علاوہ آپشن کوئی نہیں اس کے اترن بھی مکمل جسم ہیں اپنی جگہ ان بھری الماریوں میں پیرہن کوئی نہیں خواب کی آسائشوں نے کر دیا غافل ہمیں پتھروں پر سو رہے ہیں اور چبھن کوئی نہیں ہر کسی کے واسطے محبوب کا نعم البدل سچ کہوں تو چاند جیسا بدچلن کوئی نہیں واپسی پر شاخ بھی ہوتی نہیں اپنی جگہ ہم پرندوں سے زیادہ بے وطن کوئی نہیں
Read Moreمنصور فائز ۔۔۔ ہوش دن رات ڈھونڈتا تھا میں
ہوش دن رات ڈھونڈتا تھا میں اتنا مدہوش ہو گیا تھا میں دائروں میں چراغ جلتے تھے اور محور پہ جل رہا تھا میں سبز ہونے میں وقت لگتا ہے زرد شاخوں پہ کھل رہا تھا میں لے کے دھاگے کئی مزاروں سے ایک دوجے سے باندھتا تھا میں میرے سینے پہ نقش ابھرتے رہے اک زمانے میں راستہ تھا میں لوگ سمجھے کہ کھو گیا ہوں کہیں پسِ منظر چھپا ہوا تھا میں
Read Moreشبیر نازش ۔۔۔ دو غزلیں
اسی پہ آنکھ ٹھہرتی ہے پیارا لگتا ہے ہمیں جو دیکھ لے ہنس کے، ہمارا لگتا ہے اسی کی بات سنے اور اسی کی بات کرے ہمارے دل پہ اسی کا اِجارہ لگتا ہے پھٹا لباس نہ دیکھ اس کی بات غور سے سن مجھے وہ شخص محبت میں ہارا لگتا ہے ادب میں عہدے نہیں‘ کام بولتا ہے میاں! وہ ایک شخص اکیلے ادارہ لگتا ہے جو شخص ڈوب رہا ہو شکستِ ذات کے بیچ بھنور بھی دور سے اس کو کنارہ لگتا ہے یہ شعر گوئی ہے یہ…
Read More