رموزِ عشق و محبّت تمام جانتا ہوں حسین ابنِ علی کو امام جانتا ہوں انھی کے در کو سمجھتا ہوں محورِ مقصود انھی کے گھر کو میں دارالسّلام جانتا ہوں میں ان کی راہ کا ہوں ایک ذرۂ ناچیز کہوں یہ کیسے کہ ان کا مقام جانتا ہوں مجھے امام نے سمجھائے ہیں نکاتِ حیات سوادِ کفر میں جینا حرام جانتا ہوں نگاہ کیوں ہے مری ظاہری وسائل پر جو خود کو آلِ نبی کا غلام جانتا ہوں میں جان و مال کو پھر کیوں عزیز رکھتا ہوں جو خود…
Read Moreوصی حسن نقاش ۔۔۔ غمِ حسین میں قد سے بڑے نظر آئیں
پڑے ہوں فرش پہ لیکن کھڑے نظر آئیں غمِ حسین میں قد سے بڑے نظر آئیں اسی لئے تو عزادار بھی ہیں مثلِ نگیں جہاں بھی مجلسِ شہ ہو جڑے نظر آ ئیں سمجھ یہ لینا کہ اپنی حیات باقی ہے درِ حسین پہ جب تک پڑے نظر آئیں نظر میں ڈھال لو اس طرح کربلا کا وجود عدو جو دیکھیں تو تیور کڑے نظر آئیں اسی لئے تو میں ذکرِ حسین کرتا ہوں کوئ ہنر تو ہو جس میں بڑے نظر آئیں جہاں بشر کے قوانین درج ہیں نقاش…
Read Moreکامی شاہ ۔۔۔ چشمِ نم کو دیکھیے، دل کے غم کو دیکھیے
چشمِ نم کو دیکھیے، دل کے غم کو دیکھیے جائیے ہم کو جانیے، جائیے ہم کو دیکھیے پچھلے قدم کی دھول کو جھاڑ کے آگے آئیے رستے کے ساتھ بھاگتے اگلے قدم کو دیکھیے خیموں میں اک چراغ بھی جلنے نہیں دیا گیا شہرِ ستم کی شام میں اہلِ ستم کو دیکھیے کچھ بھی نہ اور دیکھیے تیغ و تبر کے باب میں دیکھیے بس حسینؑ کے رنج و الم کو دیکھیے ہم کو امامِ صبر نے ایک یہی سبق دیا اُس کی رضا کو دیکھیے، اُس کے کرم کو…
Read Moreسلام بحضورِ امام عالی مقام حسين عليہ السّلام ۔۔۔ افضل گوہر
سلام بحضورِ امام عالی مقام حسين عليہ السّلام تھک گيا جو بھی یہ طے راہگزر کرتا ہے کون تيری طرح نيزے پہ سفر کرتا ہے آج بھی ميرے تعاقب ميں ہے اک ايسا يزيد پانی مانگوں تو بدن خون سے تر کرتا ہے کربلا اپنے تقدس کو سنبھالے رکھنا خون ايسا ہے کہ ذرّات کو زر کرتا ہے سب کو رونے کا سليقہ نہيں آتا ،ورنہ تيرا ماتم تو ہر اک دل پہ اثر کرتا ہے ہم حسينی ہيں ہميں اس ليے افضل گوہر کوئ پابند ، کوئ شہر بدر…
Read Moreسلام ۔۔۔ حمیدہ شاہین
سلام غمِ حسینؑ حقیقت بھی، استعارا بھی یہ اپنے آپ میں غم بھی ہے ، غم کا چارا بھی ہے ایک یاد دہانی یہ ذکرِ کرب و بلا کہ اپنے درد بھی سانجھے ہیں اور خسارا بھی پکارتے ہیں زمان و مکاں بھی نوحہ کناں غمِ حسینؑ ہمارا بھی ہے تمہارا بھی بیانِ قصّہِ غم آنسوؤں پہ فرض ہوا کسی کمی کو جو کرتے نہیں گوارا بھی کمالِ آیۂ بالصّبر والصّلوٰۃ حسینؑ جو ایک وعدہ بھی ، امّید بھی ، سہارا بھی کس آفتاب پر اَن ہونیوں کی شام آئی…
Read Moreنذیر حسین بٹ ۔۔
ہر دور کے یزید کی مجلس میں بیٹھ کر دیتے ہیں لوگ گالیاں گذرے یزید کو
Read Moreہدیہِ عقیدت بحضور سید الشہداء حضرت امام حُسینؑ ۔۔۔ ذیشان سید
ہدیہِ عقیدت بحضور سید الشہداء حضرت امام حُسینؑ حمد سے والناس کی تفسیر کا بانی حُسینؑ کاتبِ تقدیر کی تقدیر کا بانی حٗسینؑ دے دیئے بیٹے کسی کو تو کسی کو پر دیے لوح پہ لکھی ھُوئی تقدیر کا بانی حُسینؑ جُھک گئے سارے پیغمبر جب چڑھا نیزے پہ سَر دہر میں اسلام کی توقیر کا بانی حُسینؑ از سرِ نو کربلا میں زندگی بخشی جسے مذہبِ اسلام کی تعمیر کا بانی حُسین
Read Moreسلام ۔۔۔ ممتاز گورمانی
بھولا نہیں ہوں اصغرِ تشنہ کو آج تک رکھے ہوئے ہوں آنکھ میں دریا کو آج تک ۔ خیمے میں اک چراغ بجھا کر مرا امام للکارتا ہے ظلمتِ دنیا کو آج تک ۔ صحرا میں ایک قافلہ آیا تھا، اس کے بعد صحرا نہیں کہا گیا ، صحرا کو آج تک ۔ کچھ یوں منافقوں سے ہوئے منتقم حسین گالی بنا کے رکھ دیا کوفہ کو آج تک ۔ رہتا ہے میری آنکھ میں اشکوں کا اک ہجوم لشکر سلام کرتے ہیں تنہا کو آج تک ۔ احسان، دینِ…
Read Moreحفیظ جالندھری ۔۔۔ سلام بحضور سیّد الشہداء امام حسین
سلام بحضور سیّد الشہداء امام حسین لباس ہے پھٹا ہوا ،غبار میں اٹا ہوا تمام جسمِ نازنیں چھدا ہوا کٹا ہوا یہ کون ذی وقار ہے بلا کا شہ سوار ہے کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نورِ عین ہے یہ جسکی ایک ضرب سے ، کمالِ فنِ حرب سے کئی شقی گرے ہوئے تڑپ رہے ہیں کرب سے غضب ہے تیغ دوسرا کہ ایک ایک وار پر اٹھی صدائے الاماں زبانِ شرق وغرب سے یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نورِ…
Read Moreافتخا عارف ۔۔۔ مظہرِ خوشنودئ داور علم عباس کا
مظہرِ خوشنودئ داور علم عباس کا ایک دن لہرائے گا گھر گھر علم عباس کا کیسا لگتا ہوں مین جب کرتا ہوں مدح اہل بیت کیسا لگتا ھے مرے سر پر علم عباس کا ہم غلامانِ در مشکل کشا، مشکل کے وقت چومتے ہیں یاعلیؑ کہہ کر علم عباس کا کون جانے روزِ عاشورہ فرازِ نور سے دیکھتے ہوں فاتحِ خیبر علم عباس کا اک پھریرا اک نشانِ خیر اک ننھی سی مشک ہر دلِ مومن کو ازبر ہے علم عباس کا کاش سن پاؤں کسی رہوار کے قدموں کی…
Read More