مسجد و منبر کہاں ، میخوار و میخانے کہاں کیسے کیسے لوگ آ جاتے ہیں سمجھانے کہاں یہ کہاں تک پھیلتی جاتی ہیں دل کی وسعتیں حسرتو! دیکھو سمٹ آئے ہیں ویرانے کہاں میں بہت بچ بچ کے گزرا ہوں غمِ ایام سے لُٹ گئے تیرے تصور سے پری خانے کہاں یہ بھی تیرے غم کا اِک بدلا ہوا انداز ہے میں کہاں ورنہ غمِ دوراں کہاں بزم سے وحشت ہے، تنہائی میں جی لگتا نہیں اب کِسی کی یاد لے جائے خدا جانے کہاں سیف ہنگامِ وصال آنکھوں میں…
Read Moreحامد یزدانی
الاپ آتا ہے جیسے گیت میں دُھن سے ذرا پہلے سنی تھی تم نے بھی کیا وہ صدا کُن سے ذرا پہلے
Read Moreطارق متین ۔۔۔ یہاں کے لوگ ہیں بس اپنے ہی خیال میں گم
یہاں کے لوگ ہیں بس اپنے ہی خیال میں گم کوئی عروج میں گم ہے کوئی زوال میں گم نصابِ عشق میں ہجر و وصال ایک سے ہیں ہے میرے ہجر کا رشتہ ترے وصال میں گم یہ اک نظارہ الگ ہے سبھی نظاروں سے مری نظر کا تسلسل ترے جمال میں گم یہ نازکی مرے شعروں کی بے سبب تو نہیں کہ میری فکرِ سخن ہے اسی غزال میں گم تمھیں ہو کیسے خبر خود مجھے نہیں معلوم میں کس جواب میں گم ہوں میں کس سوال میں گم…
Read Moreباقی احمد پوری
یزیدِ وقت کی بیعت سے انحراف کیا فصیلِ کفر میں انکار سے شگاف کیا
Read Moreسیف الدین سیف ۔۔۔ جب تصور میں نہ پائیں گے تمہیں
جب تصور میں نہ پائیں گے تمھیں پھر کہاں ڈھونڈنے جائیں گے تمھیں تم نے دیوانہ بنایا مجھ کو لوگ افسانہ بنائیں گے تمھیں حسرتو ! دیکھو یہ ویرانۂ دل اِس نئے گھر میں بسائیں گے تمھیں میری وحشت، مرے غم کے قصے لوگ کیا کیا نہ سنائیں گے تمھیں آہ میں کتنا اثر ہوتا ہے یہ تماشا بھی دکھائیں گے تمھیں آج کیا بات کہی ہے تم نے پھر کبھی یاد دلائیں گے تمھیں سیف یوں چھوڑ چلے ہو محفل جیسے وہ یاد نہ آئیں گے تمھیں
Read Moreافق لکھنوی ۔۔۔ برائے دشت گردی بخت کے چکر سے جاتے ہیں
برائے دشت گردی بخت کے چکر سے جاتے ہیں رہو تم شاد اے اہلِ وطن ہم گھر سے جاتے ہیں نوید اے خارِ صحرا مژدہ اے دشواریٔ منزل کہ ہم راہِ وفاداری میں چشم و سر سے جاتے ہیں کہاں گم گشتۂ راہِ سعادت ہیں انھیں دیکھیں جو چلتے ہیں نگاہوں میں وہ اس تیور سے جاتے ہیں جلو میں فوجِ غم ہے اردلی میں لشکرِ عسرت بیاباں میں افق ہم ایسے کر و فر سے جاتے ہیں
Read Moreافق لکھنوی ۔۔۔ ہمارے زخم میں ٹھنڈک لہو سے ہوتی رہتی ہے
ہمارے زخم میں ٹھنڈک لہو سے ہوتی رہتی ہے تسلی دل کی تکلیفِ رفو سے ہوتی رہتی ہے زمانہ قدرداں ہوتا ہے صورت اور سیرت کا گلوں کی قدر جیسے رنگ و بو سے ہوتی رہتی ہے نہیں تکلیف سے خالی کسی کا پھولنا پھلنا شجر پر سنگ باری چار سو سے ہوتی رہتی ہے قناعت کرتی رہتی ہے جو سیپی ابرِ نیساں پر بسر درِ عدن کی آبرو سے ہوتی رہتی ہے ہے مجھ پر مہربانی اس قدر تکلیفِ زنداں کی کہ خم گردن مری طوقِ گلو سے ہوتی…
Read Moreبشیر بدر
اتنا ٹوٹا ہوں کہ چھونے سے بکھر جاؤں گا اب اگر اور دعا دوگے تو مر جاؤں گا!
Read Moreانصر منیر ۔۔۔ جب ترے دام سے گزرتا ہوں
جب ترے دام سے گزرتا ہوں مجمعِ عام سے گزرتا ہوں راس آیا ہے خار زارِ جنوں کتنے آرام سے گزرتا ہے مجھ کو اس کی گلی کا شوق نہیں ہاں مگر کام سے گزرتا ہوں قیس ہوں اور پھر بھی دشت سے میں اب ترے نام سے گزرتا ہوں کُن کے مالک کا معجزہ ہے غزل روز الہام سے گزرتا ہوں صحنِ دل میں مجھے دکھائی دو جسم کے بام سے گزرتا ہوں اب میں انصر یقیں کے رستے سے کیسے ابہام سے گزرتا ہوں انصرمنیر
Read Moreمحسن اسرار
یہ سوچتے ہیں کہ ہم اب کبھی نہ روئیں گے پھر اس کے بعد اچانک ہی رونے لگتے ہیں
Read More