افتخار عارف ۔۔۔ شرف کے شہر میں ہر بام و در حسینؑ کا ہـے

شرف کے شہر میں ہر بام و در حسینؑ کا ہـے زمانے بھر کے گھرانوں میں گھر حسینؑ کا ہـے فراتِ وقتِ رواں! دیکھ سوئے مقتل دیکھ جو سر بلند ہـے اب بھی وہ سر حسینؑ کا ہـے زمین کھا گئی کیا کیا بلند و بالا درخت ہرا بھرا ہـے جو اب بھی شجر حسینؑ کا ہـے سوالِ بیعتِ شمشیر پر جواز بہت مگر جواب وہی معتبر حسینؑ کا ہـے کہاں کی جنگ کہاں جا کے سر ہوئی ہـے کہ اب تمام عالمِ خیر و خبر حسینؑ کا ہـے محبتوں…

Read More

سلام ۔۔۔ مرزا غالب

سلام سلام اسے کہ اگر بادشہ کہیں اس کو تو پھر کہیں کہ کچھ اس سے سوا کہیں اس کو نہ بادشاہ نہ سلطاں یہ کیا ستایش ہے کہو کہ خامسِ آلِ عبا کہیں اس کو خدا کی راہ میں شاہی و خسروی کیسی کہو کہ رہبرِ راہِ خدا کہیں اس کو خدا کا بندہ خداوندگار بندوں کا اگر کہیں نہ خداوند کیا کہیں اس کو فروغِ جوہرِ ایماں حسین ابن علی کہ شمعِ انجمنِ کبریا کہیں اس کو کفیلِ بحششِ اُمت ہے بن نہیں پڑتی اگر نہ شافعِ روز…

Read More

سلام ۔۔۔ ڈاکٹر جواز جعفری

سلام رَوا ہوئی نہ گُلِ ظلم پر زمینِ حسین سو سرخ ہونا تھی اک روز آستینِ حسین گئے وہ دن یہاں رہتے تھے دوستانِ علی کہ اب تو کوفہ ہے شہرِ مخالفینِ حسین میانِ مکّہ و کوفہ عجیب نسبت ہے وہ مُنکرینِ محمد ، یہ مُنکرینِ حسین کبھی نہ ربط رکھا قاتلوں کے مَسلَک سے ہمارے واسطے کافی ہے راہِ دینِ حسین میں مر بھی جاؤں ثنائے حسین کرتے ہوئے مرے قبیلے سے اُٹھیں گے ذاکرینِ حسین طواف چلتا رہا اور نماز ہوتی رہی پڑی تھی تَپتی ہوئی ریت پر…

Read More

محمد یعقوب آسی ۔۔۔ سپنے تو کجا دیکھیے کیا سو بھی سکیں گے؟

سپنے تو کجا دیکھیے کیا سو بھی سکیں گے؟ مانوس جدائی سے تری ہو بھی سکیں گے؟ کم مائیگیٔ حرفِ تشکر مجھے بتلا یہ قرض محبت کے ادا ہو بھی سکیں گے؟ جڑ سے تو اکھاڑیں گے چلو بوڑھے شجر کو ننھا سا نہال اس کی جگہ بو بھی سکیں گے؟ ڈر تھا کہ وہ بچھڑا تو تبسم سے گئے ہم کیا جانیے اس ہجر میں اب رو بھی سکیں گے؟ اک بار کا اظہار وہ صد خونِِ انا تھا اس داغِ تمنا کو کبھی دھو بھی سکیں گے؟

Read More

حمیدہ شاہین ۔۔۔ خود سے ملتی نہیں نجات ہمیں

خود سے ملتی نہیں نجات ہمیں قید رکھتی ہیں خواہشات ہمیں ہم نے مانگی سکون کی چادر رنج بولے کہ بیٹھ ، کات ہمیں کچھ تو عادت ہے بے یقینی کی اور کچھ ہیں تحیّرات ہمیں اِس تعلّق کا سچ قبول کیا جوڑتی ہیں ضروریات ہمیں آنکھ کا آئنہ عطا کر کے اس نے دے دی ہے کائنات ہمیں بس کہ جھگڑا طویل ہوتا گیا سوجھتی جا رہی تھی بات ہمیں لاکھ رستا بدل بدل کے چلیں مل ہی جائیں گے حادثات ہمیں

Read More

انور شعور ۔۔۔ کیسی خطا، کیسی جزا، جو ہو گیا سو ہو گیا

کیسی خطا، کیسی جزا، جو ہو گیا سو ہو گیا نادان ہے دل، اے خدا! جو ہو گیا سو ہو گیا قربان ہونا تھا جنھیں قربان تم پر ہو گئے اب کیا تلافی، کیا صلہ جو ہو گیا سو ہو گیا آپس میں اے دل! اے جگر! رنجش سے اچھی درگزر موقع نہیں تفصیل کا، جو ہو گیا سو ہو گیا چپ چاپ کیوں ہو دیوتا، ایسی بھی کیا گھمبیرتا آؤ، ہنسیں بولیں ذرا، جو ہو گیا سو ہو گیا بندہ معافی مانگ کر شرمندہ ہوتا ہے شعورؔ اب کیا…

Read More