نذرانہء عقیدت بحضور امامِ عالی مقامؑ ۔۔۔ صغیر انور

نذرانۂ عقیدت بحضور امامِ عالی مقامؑ سب سے عالی نسب، حُسینؑ آباد دو جہاں کی طلب، حُسین ؑ آباد آپ ان پر درود پڑھتا ہے آپ کہتا ہے رب، حُسینؑ آباد اِس سے عمریں طویل ہوتی ہیں لوگ کہتے ہیں جب،حُسینؑ آباد دھیان جاتا ہے کربلا کی طرف بول اُٹھتے ہیں لب،حُسینؑ آباد

Read More

ابرار حسین اکبر

کربلا والیاں دی گل کریئے آ خدا والیاں دی گل کریئے جیتھے خالق درود پڑھدا اے "انما” والیاں دی گل کریئے

Read More

خالد خواجہ ۔۔۔ سلام

سلام لہو لباس پہن، بن سنور نکلتے ہیں جنہیں نکلنا ہو بارِ دگر نکلتے ہیں حسین ابنِ علی غم ہزار ہوتے ہیں پہ تیرے غم ہی غمِ معتبر نکلتے ہیں یزیدیوں کیلئے موت بن کے جانا ہے پلٹ کے آنا نہیں، سوچ کر نکلتے ہیں قسم خدا کی، کہ ان سا حَسین کوئی نہیں نہا کے خون میں جو سر بسر نکلتے ہیں اشارہ پاتے ہی سارے حُسینی دیوانے اٹھا کے کندھوں پہ عزمِ سفر نکلتے ہیں کہیں پہ بند ہے اب بھی فرات کا پانی کہیں پہ اب بھی…

Read More

دلاور علی آزر ۔۔۔ سبھی تشنہ سبو میں کربَلا ہے

سبھی تشنہ سبو میں کربَلا ہے لہو کی جستجو میں کربَلا ہے مِرے کانوں میں ہیں بچوں کی چیخیں اور اُن کی ہاوہو میں کربَلا ہے وہی ماتم بپا خیمہ بہ خیمہ وہی پنہاں لہو میں کربَلا ہے نہیں وہ پیاس ہونٹوں پر ہمارے اگرچہ گفتگو میں کربَلا ہے نمایاں ہیں اِن آنکھوں میں جو آنسو مِری خاکِ نمو میں کربَلا ہے نمی ہے ہَر طرف منظر بہ منظر فضائے چار سو میں کربَلا ہے ہمارا خون ہے سبزے میں آزَر گلوں میں رنگ و بو میں کربَلا ہے

Read More

سلام ۔۔۔ افضل خان

سلام ملول ایساہوا منظرِ قضا سے میں کہ روتاپیٹتا نکلا ہوں کربلا سے میں رموزِ جامِ شہادت کا مجھ کو علم نہیں سو آب آب ہوں اے نینوا کے پیاسے میں تو اہلِ بیت کی نصرت کو کیوں نہیں پہنچا ؟ سوال مجھ سے کرے گا خدا ، خدا سے میں میں رو پڑا تو مجھے یاد آیا صبرِ حسینؑ سو اپنے آپ کو دینے لگا دلاسے میں

Read More

حسنین اکبر ۔۔۔ ماتم کیا گیا کبھی گریہ کیا گیا

ماتم کیا گیا کبھی گریہ کیا گیا گھر اپنا کربلا کا علاقہ کیا گیا فطرت پہ اختیار سے قبضہ کیا گیا یعنی دیا بجھا کے اجالا کیا گیا عادل نے صبر و حرب میں برتا یوں اعتدال کچھ کم کیا گیا نہ زیادہ کیا گیا روزِ ازل سے نوکِ سناں تک اٹل حسین وعدہ کیا گیا تھا سو پورا کیا گیا اہلِ عزا کے گریے سے گھبرا کے ایک دن کعبہ ترا لباس بھی کالا کیا گیا حر کر چکا حسین کی ماں کا جب احترام فہرستِ تشنگاں میں اضافہ…

Read More

عارف امام … ہے شہادت کہ ہلاکت کہ اجل ، بولتی ہے

ہے شہادت کہ ہلاکت کہ اجل ، بولتی ہے مرضئِ رب سرِ میدانِ جدل بولتی ہے یہ زباں حق کی زباں ہے ، دمِ گفتار تو ہو پھر ہو دربار کہ مقتل کہ محل ، بولتی ہے ایک وعدہ ہے فقط وعدۂِ طفلئِ حسینؑ جس کو قاموسِ تغیئر بھی اٹل بولتی ہے فجر کا وقت ہے، عاشور ہے، سنّاٹا ہے کس خموشی سے یہاں صبحِ ازل بولتی ہے جنگ جُو کہہ کے بلاتا ہے مرا آج مجھے خود کو خوشبو ئے شہادت مرا کل بولتی ہے رن میں ہے صاحبِ…

Read More

شہید یار جنگ

ایک سجدہ علی کا باقی تھا ختم کردی حسین نے وہ نماز

Read More

جوہرِ عباس ۔۔۔ بارِ غم سے جو طبیعت کو گراں پاتے ہیں

بارِ غم سے جو طبیعت کو گراں پاتے ہیں کاشف الکربؑ کی دہلیز پہ جُھک جاتے ہیں چھوٹے حضرتؑ سے ہی سیکھا ہے بزرگوں کا ادب کورنش اِس لیے پرچم کو بجالاتے ہیں بچ کے چلتی ہے سدا بادِ حوادث اُن سے اِس علم کے جو پھریرے کی ہَوا پاتے ہیں مدحتِ آلِ محمّدؐ ہے فریضہ اپنا جن کا کھاتے ہیں فقط اُن کے ہی گُن گاتے ہیں چوم لے بڑھ کے قدم ہائے علمدارِ حُسینؑ علقمہ دیکھ! ترے روحِ رواں آتے ہیں کھینچتا ہے ہمہ دم حیدرِ کرّارؑ کا…

Read More

سلام ۔۔۔ حسن اکبر کمال

سلام  دربارِ ستم میں ایستادہ محبوبِ خُدا کاخانوادہ ممدوح تمام نور پیکر کیا لکّھے سلام خاک زادہ ؟ تیغوں سے لہو کی دھار جیتے اللہ کا تھا یہی ارادہ مقتول کے چہرے پر چمک تھی تلوار کی آب سے زیادہ کیا جنگ وہ اقتدار کی تھی؟ اتنی بھی نہیں یہ بات سادہ حُر جیسے حریف کے لیے بھی شبّیرؑ تھے کتنے دل کشادہ تھے شکر بہ لب اسیر و مجروح حیراں تھا مسافروں پہ جادہ اک ذبحِ عظیم کا ہے غمخوار کعبے کا سیاہ یہ لبادہ بچپن میں ملا جو…

Read More