پھر یوں ہوا کہ مجھ پہ ہی دیوار گر پڑی لیکن نہ کھل سکا پس دیوار کون ہے
Read MoreTag: Najeeb Ahmad’s poems
نجیب احمد
زمیں پہ پاؤں ذرا احتیاط سے دھرنا اکھڑ گئے تو قدم پھر کہاں سنبھلتے ہیں
Read Moreنجیب احمد
اک تری یاد گلے ایسے پڑی ہے کہ نجیبؔ آج کا کام بھی ہم کل پہ اٹھا رکھتے ہیں
Read Moreنجیب احمد
مری زمیں مجھے آغوش میں سمیٹ بھی لے نہ آسماں کا رہوں میں نہ آسماں میرا
Read Moreنجیب احمد
زندگی بھر کی کمائی یہ تعلق ہی تو ہے کچھ بچے یا نہ بچے اس کو بچا رکھتے ہیں
Read Moreنجیب احمد
ہم تو سمجھے تھے کہ چاروں در مقفل ہو چکے کیا خبر تھی ایک دروازہ کھلا رہ جائے گا
Read Moreنجیب احمد
آسمانوں سے زمینوں پہ جواب آئے گا ایک دن رات ڈھلے یوم حساب آئے گا
Read Moreنجیب احمد
کس نے وفا کے نام پہ دھوکا دیا مجھے کس سے کہوں کہ میرا گنہ گار کون ہے
Read Moreنجیب احمد
نجیب اک دن جو پاؤں پڑ رہا تھا وہ پانی سر سے اونچا ہو رہا ہے
Read Moreنجیب احمد ۔۔۔ ایک موتی کے لیے جاں سے گزر سکتے ہو!
ایک موتی کے لیے جاں سے گزر سکتے ہو! کیا مرے ساتھ سمندر میں اتر سکتے ہو؟ نیند کے شہر سے گزرو تو اجازت ہے تمھیں خواب کی گلیوں میں کچھ دیر ٹھہر سکتے ہو حسنِ توقیر سے رکھنا ہیں خد و خال تہی رنگ رُسوائی کا تصویر میں بھر سکتے ہو منصبِ عشق طلب کرتے ہو کس برتے پر کیا کسی کے لیے جی سکتے ہو؟ مر سکتے ہو؟ کیا کہوں ، شہرِ قناعت میں ہے برکت کتنی مختصر یہ کہ بسر چین سے کر سکتے ہو دُکھ اسیری…
Read More