عطر فردوس جواں میں یہ بسائے ہوئے ہونٹ خون گلرنگ بہاراں میں نہائے ہوئے ہونٹ
Read MoreCategory: ع
عدیم ہاشمی
عدیمؔ بیٹھا ہوا ہوں پروں کے ڈھیر پہ میں خوش اس طرح ہوں کہ جیسے کسی اڑان میں ہوں
Read Moreیزدانی جالندھری
عجز کے ساتھ چلے آئے ہیں ہم یزدانیؔ کوئی اور ان کو منا لینے کا ڈھب یاد نہیں
Read Moreناظم علی خان ہجر
عکس سے اپنے وہ یوں کہتے ہیں آئینہ میں آپ اچھے ہیں مگر آپ سے اچھا میں ہوں
Read Moreعزیز قیسی
عجیب شہر ہے گھر بھی ہیں راستوں کی طرح کسے نصیب ہے راتوں کو چھپ کے رونا بھی
Read Moreاحمد مشتاق
عجب کیا اس قرینے سے کوئی صورت نکل آئے تری باتوں کو خوابوں سے ملا کر دیکھ لیتا ہوں
Read Moreغلام حسین ساجد ग़ुलाम हुसैन साजिद
عجیب خوف سا طاری ہے گھر بدلتے ہوئے میں سر اُٹھا نہ سکوں گا گلی میں چلتے ہوئے Un étrange vertige m’envahit en quittant ce toitJe n’oserai lever les yeux, marchant sous leur loi Ein seltsames Zittern beim Wechsel des HeimsMit gesenktem Blick geh’ ich durch Straßen aus Schweigen und Reims 家を変えるたびに不安が染みる、この街を歩くとき、顔を上げられない自分がいる。 搬家时有种莫名的恐惧,走在街上,我不敢抬头望去。 घर बदलते वक़्त अजीब सा डर है मन में,गली से गुज़रते हुए नज़रें झुकी रहेंगी धरती की चुप्पी बन के।
Read Moreشاہین عباس
عجب کیا وقت کا یہ آخری پھیرا ہو یاں پر گلی کوچے اب اِس رہ گیر سے تنگ آ گئے ہیں
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ منتخب اشعار
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیںوہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیںاگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیںتو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیںرقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سےتمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیںوہ ہنس کرکہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوےیہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیںنہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانیکہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے…
Read Moreعرفان صدیقی
عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے
Read More