عادل منصوری

وہ کون تھا جو دن کے اجالے میں کھو گیا یہ چاند کس کو ڈھونڈنے نکلا ہے شام کو

Read More

ایک دن ۔۔۔ بانو قدسیہ

ایک دن۔۔۔۔۔۔۔۔بانو قدسیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹرین حیدر آباد کے سٹیشن پر کھڑی تھی۔ اس کے ڈبے میں سے وہ رنگین اور نازک صراحیاں صاف نظر آ رہی تھیں۔ جن کی مٹی کا رنگ نارنجی اور بیل بوٹوں کا نمونہ خالص سندھی تھا۔ دو امریکن میمیں ہاتھوں میں دو دو صراحیاں تھامے دوکاندار سے سودا کر رہی تھیں۔ اُن کے لکیردار فراک گھٹنوں سے نیچے تنگ اور بغلوں تلے بہت زیادہ کھلے تھے۔ آستینیں غائب تھیں اور گرمی سے جھُلسی گردنوں اور سینوں کا کھلا حصہ بہت سرخ نظر آ رہا تھا۔ معظم…

Read More

عزیز اعجاز

تعلقات ہی اے دوست تجھ سے نازک تھے کڑا دباؤ پڑا ٹوٹتے سہارے پر

Read More

اسحاق وردگ ۔۔۔ وہ جس میں وقت کی دریا دلی نہیں آتی

وہ جس میں وقت کی دریا دلی نہیں آتی تو میرے ہاتھ پہ ایسی گھڑی نہیں آتی سنا رہا ہے لطائف وہ بادشاہوں کو اُداس شخص، جسے خود ہنسی نہیں آتی دکانِ خواب سجائے ہوئے ملے ہم کو وہ لوگ‘ شب کو جنہیں نیند بھی نہیں آتی میں آٹھ سال سے ان وادیوں میں رہتا ہوں یہ کوہِ قاف ہے لیکن پری نہیں آتی فلک کے رخ پہ دریچے بنانے پڑتے ہیں مکانِ ذات میں جب روشنی نہیں آتی کلامِ میر سناتے رہو ترنم سے ہماری آنکھ میں جب تک…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ رباعیات

سورج ہے عجیب، کچھ اُجالا کرکے اک اگلی صبح کا تقاضا کرکے ہر رات ستاروں کو بجھا دیتا ہے ہر روز نکلتا ہے تماشا کرکے ٭ حیرت کی فراوانی گھر پر ہے میاں باہر بھی گھر جیسا منظر ہے میاں آنکھیں نہ جلا کہ اندروں جل جائے خاموش کہ خامشی ہی بہتر ہے میاں ٭ کھِل سکتا ہے گوبر سے گُلِ ریحانی جوہڑ سے نکل سکتا ہے میٹھا پانی یہ جَہلِ مرکّب جو نہیں تو کیا ہے؟ نادان کی نادانی پر حیرانی ٭ ایسا بھی بے خبر کوئی دل ہوگا؟…

Read More

ڈاکٹر خورشید رضوی ۔۔۔ ہوئے چمن میں مرے ترجماں گلاب کے پھول

Read More

محمد نوید مرزا ۔۔۔ کھلے ہیں آگہی کے مجھ پہ در آہستہ آستہ

کھلے ہیں آگہی کے مجھ پہ در آہستہ آستہ ہوئی سارے زمانے کی خبر آہستہ آہستہ ہمیشہ کروٹیں لیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے زمیں محور سے ہٹتی ہے مگر آہستہ آہستہ کسی آہٹ سے کب کوئی مکاں مسمار ہوتا ہے چٹخ کر ٹوٹتے ہیں بام و در آہستہ آہستہ بلندی کی طرف اُن کو ہوائیں لے کے جاتی ہیں بناتے ہیں پرندے رہگزر آہستہ آہستہ ہوا تبدیلیوں کی چل پڑی موسم بدلنے سے ملیں گے اب نئے شام و سحر آہستہ آہستہ خود اپنی ذات کے بارے میں بھی کب…

Read More

محمد نوید مرزا ۔۔۔ رنگوں کا اک جہاں مرے اندر نہیں کھلا

رنگوں کا اک جہاں مرے اندر نہیں کھلا خوشبو کے باوجود گُلِ تر نہیں کھلا لہروں کے ساتھ ساتھ سفر کر رہا تھا میں تشنہ لبی میں ، مجھ پہ سمندر نہیں کھلا اک خواب تھا ، میں جس کو نہ تعبیر دے سکا ذہنوں پہ منکشف تھا ، زباں پر نہیں کھلا میں جس پہ دستکوں کے نشاں چھوڑ کر گیا حیراں ہوں کائنات کا وہ در نہیں کھلا میں اُس کی جستجو میں رہا ہوں تمام عمر یہ اور بات مجھ پہ ستم گر نہیں کھلا

Read More

شاہین بدر

جلتا ہے چمن آتشِ لالہ کے شرر سے کچھ دیر تو گھنگور گھٹا ٹوٹ کے برسے ماہ نامہ ارژنگ، پشاور (نومبر دسمبر ۱۹۶۴) جلد: ۱، شمارہ: ۴ ۔ ۵ مدیر تاج سعید

Read More

عزیز اعجاز ۔۔۔ بازوؤں کی ٹہنی پر جھولتا بدن اُس کا

بازوؤں کی ٹہنی پر جھولتا بدن اُس کا ہم کبھی نہیں بھولے والہانہ پن اُس کا بھینی بھینی خوشبوئیں چار سو بھٹکتی ہیں ذکر چھڑ گیا شاید پھر چمن چمن اُس کا میں بھٹک بھٹک جاؤں جب نہ راستے پاؤں بے پناہ تاریکی ،غم کرن کرن اُس کا بزمِ ناز میں جا کر ہونٹ کاٹتے رہنا بات کس سے ہوتی ہے، کون ہم سخن اُس کا درخورِ کرم اُس نے مدتوں ہمیں سمجھا کیا بھلا بساط اپنی تھا یہ حسنِ ظن اُس کا ایک نام ہی لب پر بار بار…

Read More