حاصل کسی سے نقدِ حمایت نہ کر سکا میں اپنی سلطنت پہ حکومت نہ کر سکا ہر رنگ میں رقیبِ زرِ نام و ننگ ہوں اک میں ہوں جو کسی سے محبت نہ کر سکا گھلتا رہا ہے میری رگوں میں بھی کوئی زہر لیکن میں اِس دیار سے ہجرت نہ کر سکا پڑ تا نہیں کسی کے بچھڑ نے سے کوئی فرق میں اُس کو سچ بتانے کی زحمت نہ کر سکا آیا جو اُس کا ذکر تو میں گنگ رہ گیا اور آئنے سے اُس کی شکایت نہ…
Read MoreTag: بہترین شاعری
عطاء الرحمٰن قاضی ۔۔۔ ملا ہی دے گی کبھی موجِ التباس کہیں
ملا ہی دے گی کبھی موجِ التباس کہیں بھٹک رہا ہوں میں اپنے ہی آس پاس کہیں ہواے غم میں نہ ڈھل جائے ، یہ ہواے نشاط کشید کرتے ہوئے ان گُلوں کی باس کہیں بھروں سراب کے دریا میں رنگِ آبِ رواں اتار لوں رگِ جاں میں اگر یہ پیاس کہیں گریز کر مگر اتنا بھی کیا گریز، بھلا کہ آ نہ جائے ترا ہجر ہم کو راس کہیں دلِ شکستہ کے آثار دیدنی ہیں عطا پڑ ے ہیں خواب کہیں تو اگی ہے گھاس کہیں
Read Moreارشد شاہین ۔۔۔ حرف حرف سطر سطر باب باب لکھ دیا
غزل حرف حرف سطر سطر باب باب لکھ دیا اُس کے نام زندگی کا انتساب لکھ دیا پوچھتا تھا مجھ سے وہ حصولِ زندگی ہے کیا اشک آنکھ سے گرے ، زمیں پہ خواب لکھ دیا اُس کی جب مثال دی تو سامنے کی بات کی چاند کہہ دیا کبھی، کبھی گلاب لکھ دیا جس قدر وہ ہے اُسے بیاں کیا اُسی قدر کب ہوا کہ میں نے اُس کو بے حساب لکھ دیا یوں کرم کیا ہے مجھ پہ ربِ کائنات نے سوچنے سے قبل مجھ کو کامیاب لکھ…
Read Moreیزدانی جالندھری
بیٹھے بٹھائے دل کو یہ کیا ہو گیا ہے آج کہتا ہے بار بار، ہوا سامنے کی ہے
Read Moreبانی ۔۔۔ نہ حریفانہ مرے سامنے آ، میں کیا ہوں
غزل نہ حریفانہ مرے سامنے آ، میں کیا ہوں تیرا ہی جھونکا ہوں اے تیز ہوا ! میں کیا ہوں رقص یک قطرۂ خوں ، آپ کشش، آپ جنوں اے کہ صد تشنگیِ حرف و صدا !میں کیا ہوں ایک ٹہنی کا یہاں اپنا مقدر کیسا پیڑ کا پیڑ ہی گرتا ہے جُدا، میں کیا ہوں اک بکھرتی ہوئی ترتیبِ بدن ہو تم بھی راکھ ہوتے ہوئے منظر کے سوا میں کیا ہوں تو بھی زنجیر بہ زنجیر بڑ ھا ہے مری سمت ساتھ میرے بھی روایت ہے ، نیا…
Read Moreسید آلِ احمد ۔۔۔ نگارِ غم تری آہٹ پہ جب سے جاگا ہوں
غزل نگارِ غم تری آہٹ پہ جب سے جاگا ہوں میں خواب خواب بھنور آئنوں کو تکتا ہوں نہ کوئی رنگِ توقع‘ نہ نقشِ پائندہ کسے بتاؤں کہ کن خواہشوں کا ڈھانچہ ہوں کسے دکھاؤں وہ آنکھیں جو جیت بھی نہ سکا کسے بتاؤں کہ کن آنسوؤں کا سپنا ہوں نہ تازگی ہی بدن میں ، نہ پُرسکون تھکن میں شاخِ عمر کا وہ زرد و سبز پتا ہوں جہاں یقین کے تلو وں میں آبلے پڑ جائیں میں حادثات کی ان گھاٹیوں میں اُترا ہوں وہ نغمگی جسے سازِ…
Read Moreحسن عباس رضا
آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہیےلیکن کبھی کبھار تو گھر جانا چاہیے
Read Moreیزدانی جالندھری
ملّاح سرفگندہ، مسافر تھکے ہوئے اُتریں گے کیسے پار، ہوا سامنے کی ہے
Read Moreمحسن اسرار
پوچھا جو میں نے میرِ شبستاں کسے بتاؤں آواز ہر طرف سے ہی آئی مجھے! مجھے!
Read Moreشاہین عباس
تم نے کیا بات کاٹ دی تھی مری گھر میں آتا رہا گلی کا شور
Read More