غلام حسین ساجد

خاک زادوں سے تعلق نہیں رکھتے کچھ لوگ میزبانی سے غرض اُن کو نہ مہمانی سے !

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ حاصل کسی سے نقدِ حمایت نہ کر سکا

حاصل کسی سے نقدِ حمایت نہ کر سکا میں اپنی سلطنت پہ حکومت نہ کر سکا ہر رنگ میں رقیبِ زرِ نام و ننگ ہوں اک میں ہوں جو کسی سے محبت نہ کر سکا گھلتا رہا ہے میری رگوں میں بھی کوئی زہر لیکن میں اِس دیار سے ہجرت نہ کر سکا پڑ تا نہیں کسی کے بچھڑ نے سے کوئی فرق میں اُس کو سچ بتانے کی زحمت نہ کر سکا آیا جو اُس کا ذکر تو میں گنگ رہ گیا اور آئنے سے اُس کی شکایت نہ…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ منزلِ عشق عیاں ، زیست کا حاصل معلوم  (دو غزلہ)

منزلِ عشق عیاں ، زیست کا حاصل معلوم ہے مرے چارہ گروں کو مری مُشکل معلوم کون ہو گا جسے دُھتکار دیا جائے گا کون ہو گا ترے احباب میں شامل معلوم دہر بدلا ہے نہ دُنیا کی روش بدلے گی کون ہو گا یہاں تکریم کے قابل معلوم اپنی تہذیب کے پابند رہا کرتے ہیں اور ہوتے ہیں انھیں سارے سلاسل معلوم کس پہ ڈالے گا عنایت کی نظر ، جانتے ہیں کون ہے اُس کے تئیں عشق میں کامل معلوم منتخب اُس کو کِیا ہے مری دل داری…

Read More

غلام حسین ساجد

شام ہے اور سرخ پیڑوں کے دہکتے سائے ہیں نیند میں بہتا ہوا دھارا ہے جوئے آب کا

Read More