غلام حسین ساجد ۔۔۔ کہیں چراغ مِلا اور کہیں ستارا مِلا

کہیں چراغ مِلا اور کہیں ستارا مِلا سو مَیں جمالِ شبِ خواب سے دوبارہ مِلا نہیں تو اپنے ہی سائے پہ گِر پڑی ہوتی مِرے وجود سے دیوار کو سہارا مِلا پلٹ کے دیکھنا ممکن نہیں کہ وحشت میں کہاں کسی کو کسی یاد کا کنارا مِلا کسی طرح مجھے تقسیم کر دیا اُس نے کسی کو آدھا مِلا اور کسی کو سارا مِلا تمام رات جب آنکھوں میں کاٹ لی مَیں نے سحر کے وقت مجھے کوچ کا اشارہ مِلا عدو پہ فتح کی ساعت قریب جب آئی مِرا…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ حصارِ خواب سے باہر مِرا دھواں پہنچا

حصارِ خواب سے باہر مِرا دھواں پہنچا مَیں رات نیند میں چلتے ہوئے کہاں پہنچا مِرے عمل نے مِرے روز و شب بدل ڈالے مجھے تو اپنی تگ و تاز سے زیاں پہنچا کسی بِچھڑتے ہوئے خواب کی رفاقت کو مِرے یقین سے پہلے مِرا گماں پہنچا تمام رات درختوں نے انتظار کِیا پرندے لَوٹ کر آئے نہ کارواں پہنچا کسی نے ساری طلسمات کو بدل ڈالا مَیں بامِ یار تلک جب بھی پَرفشاں پہنچا مجھے تو وقت سے پہلے وہاں پہنچنا تھا مگر مَیں اور بھی تاخیر سے وہاں…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ ہر شے مجھے نصیب ہے، پھر بھی سُکوں نہیں

ہر شے مجھے نصیب ہے، پھر بھی سُکوں نہیں کیا یہ فشارِ ذات ہے، کیا یہ جُنوں نہیں شاید کہیں قرار مِلے مجھ فقیر کو شاید کسی کا ہو سکوں، اپنا تو ہُوں نہیں الزام آ رہا ہے مِری بے نوائی پر تو کیا مَیں اب جواب میں کچھ بھی کہوں نہیں پہچاننے لگے ہیں سبھی آئنے مجھے اب اور اِس نواح میں شاید رہوں نہیں پیروں تلے زمین ہے پانی بَنی ہوئی سر پر جو آسمان ہے وہ بے ستوں نہیں مَیں روشنی پہ داغ ہوں وہ میری ذات…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ کچھ آسماں کی خبر ہے نہ اب زمیں معلوم

کچھ آسماں کی خبر ہے نہ اب زمیں معلوم گزر رہا ہوں کہاں سے مجھے نہیں معلوم لپک کے کیسے کسی خواب کو سنبھالنا ہے مجھے یہ رمز ہوئی آپ کے تئیں معلوم عجیب خوف ہے جاتا ہے اور نہ مِٹتا ہے لرز رہی ہے ابھی تک وہ شہ نشیں معلوم دمک رہے ہیں ستارے تمھاری آنکھوں کے مہک رہی ہے اندھیرے میں یاسمیں معلوم تمام رات سیاہی سے جُھوجَھتا ہے فلک سحر کے بعد یہ ہوتا ہے نیلمیں معلوم خود اپنی ذات کا اثبات کر رہا ہوں مَیں ہے…

Read More

غلام حسین ساجد ग़ुलाम हुसैन साजिद

عجیب خوف سا طاری ہے گھر بدلتے ہوئے میں سر اُٹھا نہ سکوں گا گلی میں چلتے ہوئے Un étrange vertige m’envahit en quittant ce toitJe n’oserai lever les yeux, marchant sous leur loi Ein seltsames Zittern beim Wechsel des HeimsMit gesenktem Blick geh’ ich durch Straßen aus Schweigen und Reims 家を変えるたびに不安が染みる、この街を歩くとき、顔を上げられない自分がいる。 搬家时有种莫名的恐惧,走在街上,我不敢抬头望去。 घर बदलते वक़्त अजीब सा डर है मन में,गली से गुज़रते हुए नज़रें झुकी रहेंगी धरती की चुप्पी बन के।

Read More

غلام حسین ساجد

لہو کا رنگ ہوں میں، آئنے کا خواب ہوں میں اسے خبر ہی نہیں کس قدر خراب ہوں میں

Read More

غلام حسین ساجد

بھٹک کر آئی تھی کچھ دیر کو ادھر دنیا لپٹ گئی مرے دل سے کسی بلا کی طرح

Read More

غلام حسین ساجد

کبھی گریز سے خائف ، کبھی تجاوز سے مرا رقیب مجھے اپنے اندروں سے ملا

Read More

غلام حسین ساجد

کیسے میں پاؤں توڑ کے گھر میں پڑا رہوں آوازِ دوست پھر کسی جنگل سے آئی ہے

Read More

غلام حسین ساجد

اُن کو پانے کی تمنا نہیں جاتی دل سے کیا منور ہیں ستارے مری تابانی سے ؟

Read More