غلام حسین ساجد ۔۔۔ خدا ہے اور کہیں ناخدا ہے اور کہیں

خدا ہے اور کہیں ناخدا ہے اور کہیں سفر ہے اور کہیں راستہ ہے اور کہیں نگاہ ہے کہ مسلسل بھٹکتی پھرتی ہے چراغ اور کہیں آئنہ ہے اور کہیں قریب آئیں تو سانسیں اُکھڑنے لگتی ہیں درخت اور کہیں ہیں، ہَوا ہے اور کہیں بہت تضاد ہے جنّت میں اور جہنّم میں عدن ہے اور کہیں، نینوا ہے اور کہیں مِرے وجود میں شامل ہے روشنی جس کی مِرے گمان سے کچھ ماورا ہے اور کہیں اِسی نواح میں موجود تھا کہیں وہ بھی کئی دنوں سے مگر کھو…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ اوٹ میں آ گیا اُس کا ہم رقص تو مَیں دِکھائی دیا

اوٹ میں آ گیا اُس کا ہم رقص تو مَیں دِکھائی دیا ضم ہُوا آئنے میں مِرا عکس تو مَیں دِکھائی دیا مجھ سے غافل تھا کیوں کہ مکمّل تھا مَیں اور اکمل تھا مَیں اور ظاہر ہُوا جب مِرا نقص تو مَیں دِکھائی دیا میری پہچان پر کوئی قدغن نہ تھی پھر بھی ممکن نہ تھی جب الگ ہو گیا مجھ سے ہر شخص تو مَیں دِکھائی دیا بے ضرر جان کر مجھ سے غافل تھا وہ، کیسا عامل تھا وہ کچھ ہُوا جب توقّع کے برعکس تو مَیں…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ کیسا حرف گر ہوں مَیں، بات میں اثر نہیں

کیسا حرف گر ہوں مَیں، بات میں اثر نہیں خواب کا اسیر ہوں، نیند کی خبر نہیں حق کی بات کہتا ہوں اور مزے میں رہتا ہوں اب تو کوئی غم نہیں، اب تو کوئی ڈر نہیں آپ کا اسیر ہوں، آپ کا سفیر ہوں بات مختصر سی ہے اور مختصر نہیں کس کی خواب گہ ہے یہ، کون سی جگہ ہے یہ سر پہ آسماں نہیں، دامِ بحر و بر نہیں سب سے بدگمان تھا جب مجھے گمان تھا مجھ سا دوسرا کوئی فرشِ خاک پر نہیں جانتے نہیں…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ کسی بھی کام آ سکی نہیں میری شاعری کیا

کسی بھی کام آ سکی نہیں میری شاعری کیا خفا ابھی تک چراغ سے ہے وہ روشنی کیا ابھی ستارے زمیں پہ یلغار کر رہے ہیں ابھی ادھوری غزل مکمّل نہیں ہوئی کیا ہنسوں تو ہنستے میں بھیگ جاتی ہیں میری آنکھیں مجھے خبر بھی نہیں کہ ہوتی ہے دل لگی کیا تو کیا یہ آئینے بے خبر ہیں تمھاری چَھب سے یہ نرم خوشبو نہیں تمھارے وجود کی کیا یہ دل دھڑکتا رہے گا اُس کے فراق میں بھی یہ شاخ کل تک رہے گی یوں ہی ہری بھری…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ دریدہ دل کبھی باچشمِ نم نکلتا ہُوں

دریدہ دل کبھی باچشمِ نم نکلتا ہُوں مَیں اپنی ذات کے حجرے سے کم نکلتا ہُوں دیارِ ہند سے باغِ عدن کو جاتا ہُوں کبھی حجاز سے سوئے عجم نکلتا ہُوں سحر کو کھینچ کے لاتا ہُوں اِس خرابے میں مَیں آج رات ترے ہم قدم نکلتا ہُوں ازل کی کوئی ضرورت نہ اب ابد سے لاگ مَیں اب کی بار ورائے عدم نکلتا ہُوں بکھرتا رہتا ہُوں شب بھر مگر بوقتِ سحَر سمیٹ لیتا ہُوں خود کو، بہم نکلتا ہُوں اِسی لیے تو تری روشنی میں رہتا ہُوں مَیں…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ غفلت نہیں یہ مزرعِ فصلِ جدائی ہے

غفلت نہیں یہ مزرعِ فصلِ جدائی ہے خاموش ہو گئے ہیں کہ اِس میں بھَلائی ہے نکلی تھی صبح چہچہے سُن کر طیور کے آتے ہی شام بادِ صبا لَوٹ آئی ہے دیتے ہیں درس وہ مجھے دنیا سے ربط کا کیا یہ سزا کے بھیس میں اذنِ رہائی ہے اُس نے وہیں چراغِ ملامت جلایا ہے ہم نے جہاں جہاں کوئی بستی بسائی ہے کس نے مِرے وجود کو سائے میں لے لیا دیوار اِس نواح میں کس نے اُٹھائی ہے کہنی ہے تلخ بات کوئی اِس فقیر کو…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ سوچ سے ماورا اندھیرا ہے

سوچ سے ماورا اندھیرا ہے دھوپ کی انتہا اندھیرا ہے خواب میں جاگنا قیامت ہے نیند کا مسئلہ اندھیرا ہے مَیں چراغوں کا چاہنے والا میرے حق میں دُعا اندھیرا ہے صبح ہے، صبح کا اُجالا ہے رات ہے، رات کا اندھیرا ہے کارواں پاس ہے کہیں کوئی گنگناتا ہُوا اندھیرا ہے رات رخصت ہوئی ہے عُجلت میں طاق پر اَدھ جلا اندھیرا ہے آج کِس کا لہو بہایا گیا آج تو بے بہا اندھیرا ہے دھیرے دھیرے قدم بڑھاتا ہے دیکھتا بھالتا اندھیرا ہے روشنی داغ ہے مِرے دل…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ ہر شے مجھے نصیب ہے، پھر بھی سُکوں نہیں

ہر شے مجھے نصیب ہے، پھر بھی سُکوں نہیں کیا یہ فشارِ ذات ہے، کیا یہ جُنوں نہیں شاید کہیں قرار مِلے مجھ فقیر کو شاید کسی کا ہو سکوں، اپنا تو ہُوں نہیں الزام آ رہا ہے مِری بے نوائی پر تو کیا مَیں اب جواب میں کچھ بھی کہوں نہیں پہچاننے لگے ہیں سبھی آئنے مجھے اب اور اِس نواح میں شاید رہوں نہیں پیروں تلے زمین ہے پانی بَنی ہوئی سر پر جو آسمان ہے وہ بے ستوں نہیں مَیں روشنی پہ داغ ہوں وہ میری ذات…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ کچھ آسماں کی خبر ہے نہ اب زمیں معلوم

کچھ آسماں کی خبر ہے نہ اب زمیں معلوم گزر رہا ہوں کہاں سے مجھے نہیں معلوم لپک کے کیسے کسی خواب کو سنبھالنا ہے مجھے یہ رمز ہوئی آپ کے تئیں معلوم عجیب خوف ہے جاتا ہے اور نہ مِٹتا ہے لرز رہی ہے ابھی تک وہ شہ نشیں معلوم دمک رہے ہیں ستارے تمھاری آنکھوں کے مہک رہی ہے اندھیرے میں یاسمیں معلوم تمام رات سیاہی سے جُھوجَھتا ہے فلک سحر کے بعد یہ ہوتا ہے نیلمیں معلوم خود اپنی ذات کا اثبات کر رہا ہوں مَیں ہے…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ حصارِ خواب سے باہر مرا دھواں پہنچا

حصارِ خواب سے باہر مرا دھواں پہنچا مَیں رات نیند میں چلتے ہوئے کہاں پہنچا مِرے عمل نے مِرے روز و شب بدل ڈالے مجھے تو اپنی تگ و تاز سے زیاں پہنچا کسی بچھڑتے ہوئے خواب کی رفاقت کو مِرے یقین سے پہلے مِرا گماں پہنچا تمام رات درختوں نے انتظار کِیا پرندے لَوٹ کر آئے نہ کارواں پہنچا کسی نے ساری طلسمات کو بدل ڈالا مَیں بامِ یار تلک جب بھی پَرفشاں پہنچا مجھے تو وقت سے پہلے وہاں پہنچنا تھا مگر مَیں اور بھی تاخیر سے وہاں…

Read More