ﻟﺐ ﺑﺴﺘﮕﯽ ﻣﯿﮟ ﺣﺴﺮﺕِ ﮔﻔﺘﺎﺭ ﺟﺎﮒ ﺍﭨﮭﯽ ﺧﻮﻑِ ﺳﮑﻮﺕ ﺟﺮﺃﺕِ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﺩﮮ ﮔﯿﺎ
Read MoreCategory: ل
یزدانی جالندھری
لبوں تک آیا زباں سے مگر کہا نہ گیا فسانہ درد کا المختصر کہا نہ گیا
Read Moreشاہین عباس
لوگ ہم جیسے بھی کچھ دیر گوارا کیے جائیں ایک نام ایک ندا پر جو گزارا کیے جائیں
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ منتخب اشعار
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیںوہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیںاگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیںتو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیںرقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سےتمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیںوہ ہنس کرکہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوےیہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیںنہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانیکہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے…
Read Moreشہزاد احمد
لوگ زندہ نظر آتے تھے مگر تھے مقتول دست قاتل میں بظاہر کوئی شمشیر نہ تھی Ils semblaient vivants, mais portaient la mort en eux,Le meurtrier n’avait pourtant brandi aucun feu. Sie wirkten lebendig, doch innerlich tot,Kein Schwert in der Hand – und dennoch das Lot. 生きてるようで 死んでいた人々、殺し手の手には刃などなかったのに。 看似生者,其实早已遇害,凶手的手中,却未曾见刀影。 लोग ज़िंदा लगे, मगर थे मरे हुए,हाथ क़ातिल के खाली थे — कोई तलवार न थी उसमें छुपे हुए।
Read Moreغلام حسین ساجد
لہو کا رنگ ہوں میں، آئنے کا خواب ہوں میں اسے خبر ہی نہیں کس قدر خراب ہوں میں
Read Moreشاہ نصیر
لگ گیا خاک ہو کے جسم نصیر کوچۂ یار میں ٹھکانے آج
Read Moreشاہین عباس
لوگ گلی گلی سے اب، پوچھ رہے ہیں ، کیا ہوا پکڑا گیا تھا ، کیا کروں ، شوق تھا یہ گڑھا بھروں
Read Moreعادل رضا منصوری
لگا ہوا ہے ابھی تک یہ جان کو کھٹکا کہ اس نے جاتے ہوئے کیوں پلٹ کے دیکھا تھا
Read Moreمحسن اسرار
لوگ کیوں چھپ گئے خدا جانے میں نے تو صرف روشنی کی ہے
Read More