شہزاد احمد

لوگ زندہ نظر آتے تھے مگر تھے مقتول دست قاتل میں بظاہر کوئی شمشیر نہ تھی Ils semblaient vivants, mais portaient la mort en eux,Le meurtrier n’avait pourtant brandi aucun feu. Sie wirkten lebendig, doch innerlich tot,Kein Schwert in der Hand – und dennoch das Lot. 生きてるようで 死んでいた人々、殺し手の手には刃などなかったのに。 看似生者,其实早已遇害,凶手的手中,却未曾见刀影。 लोग ज़िंदा लगे, मगर थे मरे हुए,हाथ क़ातिल के खाली थे — कोई तलवार न थी उसमें छुपे हुए।

Read More

شہزاد احمد ۔۔۔ پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے

پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے معزز ہو گئے ہم بھی، شرافت چھوڑ دی ہم نے میسر آ چکی ہے سربلندی مڑ کے کیوں دیکھیں امامت مل گئی ہم کو تو امت چھوڑ دی ہم نے کسے معلوم کیا ہوگا مآل آئندہ نسلوں کا جواں ہو کر بزرگوں کی روایت چھوڑ دی ہم نے یہ ملک اپنا ہے اور اس ملک کی سرکار اپنی ہے ملی ہے نوکری جب سے بغاوت چھوڑ دی ہم نے ہے اتنا واقعہ اس سے نہ ملنے کی قسم کھا لی تأسف…

Read More

گوشۂ حامد یزدانی (ماہنامہ بیاض لاہور ستمبر 2023)

Read More

شہزاد احمد

تمام عمر ہوا پھونکتے ہوئے گزری رہے زمیں پہ مگر خاک کا مزا نہ لیا

Read More

شہزاد احمد ۔۔۔ نئی پود

نئی پود۔۔۔۔۔۔اُڑ کر گلِ نو بہار کی باسآئی ہے اُداس وادیوں میںکھلتے ہوئے سرکشیدہ پودےہاتھوں کو ہلا کر کہہ رہے ہیں” اے دوڑتے وقت کے پیمبر!جھکتے ہوئے پیڑ کو بتا دےٹوٹی ہوئی شاخ کو سنا دےیخ بستہ سمندروں سے کہہ دےان کہر کے چادروں کے پیچھےسورج کی تمازتیں جواں ہیںاور وقت کے قافلے رواں ہیں”

Read More

شہزاد احمد ۔۔۔ گزرنے ہی نہ دی وہ رات مَیں نے

گزرنے ہی نہ دی وہ رات مَیں نے گھڑی پر رکھ دیا تھا ہات مَیں نے فلک کی روک دی تھی مَیں نے گردش بدل ڈالے تھے سب حالات مَیں نے ذرا سی رہ گئی ہے عمر باقی نبھانا ہے کسی کا ساتھ مَیں نے مَیں اُس کی ذات میں گم ہو گیا ہوں مٹا ڈالی ہے اپنی ذات مَیں نے مری آنکھوں میں صحرا بس گیا ہے کبھی دیکھے نہیں باغات مَیں نے فلک کشکول لے کر آ گیا تھا ستارے کر دیے خیرات میں نے بڑی مشکل سے ہاتھ…

Read More

شہزاد احمد ۔۔۔ نہ سہی کچھ مگر اتنا تو کیا کرتے تھے

نہ سہی کچھ مگر اتنا تو کیا کرتے تھے وہ مجھے دیکھ کے پہچان لیا کرتے تھے آخرِ کار ہوئے تیری رضا کے پابند ہم کہ ہر بات پہ اصرار کیا کرتے تھے خاک ہیں اب تری گلیوں کی وہ عزت والے جو ترے شہر کا پانی نہ پیا کرتے تھے اب تو انسان کی عظمت بھی کوئی چیز نہیں لوگ پتھر کو خدا مان لیا کرتے تھے دوستو! اب مجھے گردن زَدَنی کہتے ہو تم وہی ہو کہ مرے زخم سیا کرتے تھے ہم جو دستک کبھی دیتے تھے…

Read More

شہزاد احمد

کمروں میں چھپنے کے دن ہیں اور نہ برہنہ راتیں ہیں اب آپس میں کرنے والی اور بہت سی باتیں ہیں

Read More