علی اصغر عباس ۔۔۔ قصرِ جمالیات کا گہنا زمین ہے

قصرِ جمالیات کا گہنا زمین ہے اور آسماں کی حاشیہ آرا زمین ہے دستِ کرشمہ ساز کے جو ہاتھ میں ہے گیند خشکی تری کا گویا کہ گولا زمین ہے عرشِ بریں کہ تخت سا بہتا تھا آب پر پھر اوج سے فراز نے بولا زمین ہے نقش و نگار کھینچ کے لوحِ دوام پر خاکہ سا کیسا خاک بنایا زمین ہے مٹی جو اپنی خاک اڑانے لگی تو پھر گردوغبارِ طور نے جانا زمین ہے بُرجوں کا کھیل جاری و ساری ہے اک طرف ردوبدل میں گھومتا چرخا زمین…

Read More

گوشۂ حامد یزدانی (ماہنامہ بیاض لاہور ستمبر 2023)

Read More

نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ علی اصغر عباس

نقطہ در نقطہ کُرہ حلقہء نعلین میں ہے مرکزہ زیست کا جو قابَ قوسین میں ہے لوحِ اثبات پہ کندہ ہے حقیقت ساری زندگی تیرا پتہ شجرہء حسنین میں ہے حلقہء بزمِ محبت ہے مدینہ طیبہ سبطِ احمد کے جو یہ ورطہء سبطین میں ہے کعبے کی اوٹ سے جودیدہء حیران کھلا اس کی حیرت ہی یہاں جلوہء کونین میں ہے شش جہت نور اُجالے سے منور کرتا آج بھی قلزمِ برکات رواں رین میں ہے وقت ساکن ہی رہا شعبِ ابی طالب میں خامشی صامت و مغموم فغاں بین…

Read More

علی اصغر عباس … جہالت کی کھیتی!

جہالت کی کھیتی! ……………….. فراغت کی چلمن سے لپٹی اداسی جو ساکن خموشی میں صوتی ردھم ڈھونڈتی ہے سماعت کے در پہ صداؤں کی دستک نے خوابوں کو توڑا تو آنکھوں نے سب نیندیں بیزار لمحوں کی آتش میں جھونکیں اچانک سے بیدار ہونے کا ناٹک رچایا کہ اذنِ تکلم کو ترسی زبانوں پہ کانٹے پڑے ہیں گماں ہے گیانی نے جب آبِ گریہ سے قُفلِ فراست کو دھویا تو دیکھا کہ دانش کی کنجی لگی ہے سوالوں کے زنداں میں قیدی کبوتر بھی پر جھاڑتے ہیں کہ وہ بھی…

Read More

علی اصغر عباس ۔۔۔ چاندنی عکسِ منور ہی مرے دوست کا ہے

چاندنی عکسِ منور ہی مرے دوست کا ہے حسنِ ضوبار مصور ہی مرے دوست کا ہے سرو قامت جو میں ہوں پست قدامت ہو کر میرے شانوں پہ سجا سر ہی مرے دوست کا ہے موج در موج تحرک ہی لپک ہے اُس کی دل، جنوں خیز سمندر ہی مرے دوست کا ہے اُس کی آنکھوں کی اداسی سے زمستاں چھائے پیڑ اس رت میں ثمر ور ہی مرے دوست کا ہے مرغزاروں پہ ہے رخسارِ حیا کا سایہ موسمِ گل،رُخِ انور ہی مرے دوست کا ہے گفتگو اس کی…

Read More

نجیب احمد نمبر ۔۔۔ جنوری 2020ء تا جون 2020ء

نجیب احمد نمبر ۔.۔ کارواں جنوری تا جون 2020ء DOWNLOAD

Read More

علی اصغر عباس

لوگ پیڑوں کی طرح مجبور تھے، جھکتے گئے مَیں پرندہ تھا، ہَوا کا سامنا کرتا رہا

Read More

علی اصغر عباس

رات خالی پڑا رہا بستر جانے ٹوٹا تھا آسمان کہ دل

Read More