حسن اکبر کمال … غمِ جاں گم غمِ دنیا میں تو ہونا مشکل

غمِ جاں گم غمِ دنیا میں تو ہونا مشکل ہے سمندر کو سمندر میں سمونا مشکل نیند جس نے بہت آنکھوں سے اڑا رکھی تھی یہ ہوا کیا کہ ہوا اس کو بھی سونا مشکل ہر صفت اپنی کہاں دیتا ہے گل خوشبو کو خواب دل کے مری آواز میں ہونا مشکل یوں زمیں ذائقۂ خوں سے ہوئی ہے مانوس اس میں اب فصل محبت کی ہے بونا مشکل کل ہمیں ملنے ہیں جو غم وہ ابھی مل جائیں آنکھ پتھرائی تو ہو جائے گا رونا مشکل وقت کو کھیلنے…

Read More

ایوب رومانی … دل میں کچھ درد سوا ہے یارو

دل میں کچھ درد سوا ہے یارو آج رونا بھی روا ہے یارو سانس لیتا ہوں تو دم گھٹتا ہے کیسی بے درد ہوا ہے یارو میں جو ہنستا ہوں تو رو دیتے ہیں تم کو کیا آج ہوا ہے یارو کس نے احساس کی دولت پائی کون دیوانہ ہوا ہے یارو اتنی ویران نہ تھیں یہ آنکھیں ضبط کرنے کا صلہ ہے یارو اپنے دامن میں کوئی پھول نہیں دل میں کانٹا سا چبھا ہے یارو خود پکارا اسے خود دوڑ پڑے خوب گنبد کی صدا ہے یارو

Read More

منظور حسین شور … مجھے اے ہم نفس اندیشۂ برق و خزاں کیوں ہو

مجھے اے ہم نفس اندیشۂ برق و خزاں کیوں ہو مری پرواز محدودِ فضائے گلستاں کیوں ہو جنوں کی وسعتوں پر تنگ ہے عرصہ دو عالم کا جو سجدہ ہو تو پھر سجدہ بقیدِ آستاں کیوں ہو مرے کام آ گئی آخر مری کاشانہ بر دوشی شرار و برق کی زد پر بھی میرا آشیاں کیوں ہو غمِ دل بھی جو رسوائے مذاقِ عام ہو جائے تو پھر ان داستانوں میں ہماری داستاں کیوں ہو پیالوں کی کھنک سے بھی جہاں دل ٹوٹ جاتے ہیں وہاں چھایا ہوا ہر بزم…

Read More

بسمل صابری ۔۔۔ حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور

حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور لب کہتے ہیں کچھ اور انھیں ہوتا ہے گماں اور جائیں تو کہاں جائیں محبت کے خریدار اربابِ سیاست نے تو کھولی ہے دکاں اور معلوم نہیں ہے مرے صیاد کو شاید گھٹتی ہے اگر سانس تو کھلتی ہے زباں اور اب وعدۂ فردا میں کشش کچھ نہیں باقی دہرائی ہوئی بات گزرتی ہے گراں اور دیکھے گی جو اک پل میں مری آنکھ سے تجھ کو ہو جائے گی دنیا تری جانب نگراں اور لگ جاتی ہیں مہریں سی…

Read More