قلب و نظر کا حضور ’’محامد‘‘ میں غزل، قصیدہ، آزاد نظم اور رباعی کے فنی پیرایے استعمال ہوئے ہیں اور ہر صنف کا حق ادا کرکے دکھایا گیا ہے۔ نظم آزاد ’’سورۂ والضحیٰ کی شانِ نزول‘‘ کے عنوان سے ہے اور اس میں قرآنی رَمز و کنایہ سے خوب اِستفادہ کیا گیا ہے۔ خالق ِکائنات کے اپنے حبیب پاک ؐ سے مکالمات کے پس منظر و پیش منظر کو کمال حسن کاری سے قلم بند کیا گیا ہے۔ رباعی میں بقول حافظ محمد افضل فقیر ’’زحافاتی حسن اور تغیراتی کمال‘‘…

Read More

حفیظ تائب

آپ کیوں ہنسنے لگے ہیں بے طرح میں تو سودائی ہوا پاگل ہوا

Read More

حمدِ باری تعالیٰ ۔۔۔ حفیظ تائب

Read More

یوں ذہن میں جمالِ رسالت سما گیا ۔۔۔ حفیظ تائب

یوں ذہن میں جمالِ رسالت سما گیا میرا جہانِ فکر و نظر جگمگا گیا خلُقِ عظیم و اسوہء کامل حضورﷺ کا آدابِ زیست سارے جہاں کو سکھا گیا اُس کے قدم سے پھوٹ پڑا چشمہء بہار وہ دشتِ زندگی کو گلستاں بنا گیا انوارِ حق سے جس نے بھرا دامنِ حیات جو نکہتِ وفا سے زمانے بسا گیا رہ جائے گا بھرم مرے حرفِ نیاز کا اُس بارگاہِ ناز میں گر بار پا گیا کتنا بڑا کرم ہے کہ تائب سا بے ہنر توصیفِ مصطفٰےﷺ کے لیے چن لیا گی…

Read More