قلب و نظر کا حضور ’’محامد‘‘ میں غزل، قصیدہ، آزاد نظم اور رباعی کے فنی پیرایے استعمال ہوئے ہیں اور ہر صنف کا حق ادا کرکے دکھایا گیا ہے۔ نظم آزاد ’’سورۂ والضحیٰ کی شانِ نزول‘‘ کے عنوان سے ہے اور اس میں قرآنی رَمز و کنایہ سے خوب اِستفادہ کیا گیا ہے۔ خالق ِکائنات کے اپنے حبیب پاک ؐ سے مکالمات کے پس منظر و پیش منظر کو کمال حسن کاری سے قلم بند کیا گیا ہے۔ رباعی میں بقول حافظ محمد افضل فقیر ’’زحافاتی حسن اور تغیراتی کمال‘‘…
Read MoreTag: حفیظ تائب
حفیظ تائب
یا اس کی آرزو مجھے لے آئی اس طرف یا میرا شوق راہ میں صحرا بچھا گیا
Read Moreحفیظ تائب
آپ کیوں ہنسنے لگے ہیں بے طرح میں تو سودائی ہوا پاگل ہوا
Read Moreنعت گوئی اور بہاول پور ۔۔۔۔۔۔۔ محمد نعمان فاروقی
نعت گوئی اور بہاول پور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بقول مولانا محمد علی جوہرؔ: بے مایہ سہی لیکن شاید وہ بُلا بھیجیں بھیجی ہیں درودوں کی کچھ ہم نے بھی سوغاتیں ہم مدحتِ رسولﷺ کے بارے میں غور کرتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ سب سے پہلے خود مالکِ کائنات نے قرآن پاک میں محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کی مدح سرائی اور شان بیان کی ہے۔ اپنی اور ملائکہ کی طرف سے حضور پُرنور سرورِ کائنات ﷺ پر درود بھیجنے کی تصدیق کے ساتھ ساتھ مومنین کو حکم دیا…
Read More