رموزِ عشق و محبّت تمام جانتا ہوں حسین ابنِ علی کو امام جانتا ہوں انھی کے در کو سمجھتا ہوں محورِ مقصود انھی کے گھر کو میں دارالسّلام جانتا ہوں میں ان کی راہ کا ہوں ایک ذرۂ ناچیز کہوں یہ کیسے کہ ان کا مقام جانتا ہوں مجھے امام نے سمجھائے ہیں نکاتِ حیات سوادِ کفر میں جینا حرام جانتا ہوں نگاہ کیوں ہے مری ظاہری وسائل پر جو خود کو آلِ نبی کا غلام جانتا ہوں میں جان و مال کو پھر کیوں عزیز رکھتا ہوں جو خود…
Read MoreTag: حفیظ تائب
قلب و نظر کا حضور ’’محامد‘‘ میں غزل، قصیدہ، آزاد نظم اور رباعی کے فنی پیرایے استعمال ہوئے ہیں اور ہر صنف کا حق ادا کرکے دکھایا گیا ہے۔ نظم آزاد ’’سورۂ والضحیٰ کی شانِ نزول‘‘ کے عنوان سے ہے اور اس میں قرآنی رَمز و کنایہ سے خوب اِستفادہ کیا گیا ہے۔ خالق ِکائنات کے اپنے حبیب پاک ؐ سے مکالمات کے پس منظر و پیش منظر کو کمال حسن کاری سے قلم بند کیا گیا ہے۔ رباعی میں بقول حافظ محمد افضل فقیر ’’زحافاتی حسن اور تغیراتی کمال‘‘…
Read Moreحفیظ تائب
یا اس کی آرزو مجھے لے آئی اس طرف یا میرا شوق راہ میں صحرا بچھا گیا
Read Moreحفیظ تائب
آپ کیوں ہنسنے لگے ہیں بے طرح میں تو سودائی ہوا پاگل ہوا
Read Moreنعت گوئی اور بہاول پور ۔۔۔۔۔۔۔ محمد نعمان فاروقی
نعت گوئی اور بہاول پور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بقول مولانا محمد علی جوہرؔ: بے مایہ سہی لیکن شاید وہ بُلا بھیجیں بھیجی ہیں درودوں کی کچھ ہم نے بھی سوغاتیں ہم مدحتِ رسولﷺ کے بارے میں غور کرتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ سب سے پہلے خود مالکِ کائنات نے قرآن پاک میں محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کی مدح سرائی اور شان بیان کی ہے۔ اپنی اور ملائکہ کی طرف سے حضور پُرنور سرورِ کائنات ﷺ پر درود بھیجنے کی تصدیق کے ساتھ ساتھ مومنین کو حکم دیا…
Read More