خالد علیم ۔۔۔ نہیں کہ حال ہمارا تمھارا ایسا ہے

نہیں کہ حال ہمارا تمھارا ایسا ہے گماں سرشت زمانہ ہی سارا ایسا ہے میں جانتا ہوں کہ ہم تم ہیں اک فسانۂ خواب ہمارے نام یہی استعارہ ایسا ہے نہ کیوں ہو جلوۂ حیرت مری نگاہ کا رنگ کئی دنوں سے اُفق کا کنارہ ایسا ہے ارادے ٹوٹتے جاتے ہیں ایک اک کرکے کہ اب کے برجِ فلک میں ستارہ ایسا ہے چلو نکل چلیں خوشبو رسیدہ لمحوں میں سحر کا دامنِ گل پارہ پارہ ایسا ہے وجودِ زندہ ہے یہ دل، کوئی فسانہ نہیں یہ اور بات مقدر…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ زادۂ ہجر پر ہزار دامنِ دل کشادہ تھا

زادۂ ہجر پر ہزار دامنِ دل کشادہ تھا رات بہت طویل تھی، درد بہت زیادہ تھا دونوں کی ایک قدر تھی اور تھی مشترک بہت حُسن بھی خود نہاد تھا، عشق بھی بے ارادہ تھا ایک لباسِ مفلسی، ایک فریبِ دل لگی ایک تھا میرا پیرہن، ایک ترا لبادہ تھا وقت کی اپنی چال تھی اور مجھے خبر نہ تھی رات کی منزل اور تھی، صبح کا اور جادہ تھا ایک جنونِ خام تھا، ایک سرابِ ناتمام رخشِ ہوا پہ تم سوار اور میں پا پیادہ تھا تیرا جمالِ کم…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ تجھ سے خوشی ملی نہ غم، تجھ سے گلہ؟ نہیں نہیں!

تجھ سے خوشی ملی نہ غم، تجھ سے گلہ؟ نہیں نہیں! تُو تو ادا شناس ہے، تیری خطا؟ نہیں نہیں! میرے سخن سے کب ہوئیں تیری جفائیں عکس ریز آئنہ خود ہی بول اُٹھا، میں نے کہا؟ نہیں نہیں! میں ہوں کہاں اَنا پرست ، عجز مری سرشت ہے مجھ سے بھی ہو گیا خفا میرا خدا؟ نہیں نہیں! تیز ہَوا کا شور و شر میری سماعتوں میں تھا کاٹ گئی مرا بدن تیری صدا؟ نہیں نہیں! ساعتِ جاں ہے منجمد رات کے سرد طاق میں اور رہے گی صبح…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ آنکھ اُس کی آج آئنہ دارِ نظارہ ہے

آنکھ اُس کی آج آئنہ دارِ نظارہ ہے کیا دل کا اعتبار کہ بارِ نظارہ ہے دیکھیں اگر تو چشمِ تصور میں وہ نگاہ حُسنِ نظر ہے اور شمارِ نظارہ ہے جل جل کے بجھ رہا ہے دریچوں میں عکسِ گل یہ شامِ ہجر ہے کہ بہارِ نظارہ ہے ہر سمت ہیں سراب کے منظر کھنچے ہوئے کیا خوب تیری راہ گزارِ نظارہ ہے تارے بجھے ہوئے ہیں، سسکتی ہے چاندنی یہ رات ہے کہ سر پہ غبارِ نظارہ ہے گرتی ہے قطرہ قطرہ شفق صبحِ ہجر میں نم دیدۂ…

Read More

نعت ِرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔ خالد علیم

نعت ِرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نعتِ رسولِ کریم ؐ سوز و گداز و سرور نعتِ رسولِ کریمؐ کیفِ شرابِ طہور نعتِ رسولِ کریم ؐ جاں کو سرودِ نشاط نعتِ رسولِ کریم ؐ قلب و نظر کا حضور نعتِ رسولِ کریم ؐ عکسِ تمناے ذات نعتِ رسولِ کریم ؐ چشمِ بصیرت کا نور نعتِ رسولِ کریم ؐ میری متاعِ حیات نعتِ رسولِ کریم ؐ دولتِ فہم و شعور نعتِ رسولِ کریم ؐ علم و خبر کا نزول نعتِ رسولِ کریم ؐ فکر و ہنر کا ظہور نعتِ رسولِ کریم…

Read More

عجزاِظہار ۔۔۔ خالد علیم

عجزاِظہار وہ شہنشاہِ ؐ معظم، وہ رسولِ ؐ اکرم معدنِ ؐ علم و ادب، مخزنِ ؐ ایقان و حِکَم آبروے ؐ حرمِ پاک، وقارِ ؐ عالم آدمیّت کا بھرم، عظمتِ ؐ دینِ محکم اُس کی توصیف مرے حیطۂ دانش میں کہاں لڑکھڑاتا ہے قلم اور لرزتی ہے زباں قوتِ فن کی بدولت ہو بیاں نعتِ رسول ؐ اُلفتِ سیّدِ ؐعالم کو نہیں ہے یہ قبول جذب اور کیف سے ہوتا ہے معانی کا نزول حاصلِ سوزِ دروں ہی ہیں محبت کے اصول آنکھ جب فرقت ِسرکار ؐ میں نم ہوتی…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ ذکرِ نعت

ذکرِ نعت آنکھیں جھکیں جو بابِ رسالت پناہ ؐ پر عُقدے کھلے جمال کے میری نگاہ پر ہے نور کی فضا تو سُبُک سیر کیوں نہ ہوں توصیفِ شاہ ؐ میں مرے لفظوں کے شاہ پر مدحِ نبی ؐ کا مجھ کو سلیقہ ، نہیں نہیں!! اُسلوبِ کوہ بھی کبھی کھلتا ہے کاہ پر! ذرّے کی کیا بساط کہ وہ تذکرہ لکھے آفاقِ بے کنار کے خورشید و ماہ پر یہ تو بس اک ذریعۂ اِظہارِ شوق ہے اس کا بھی اِنحصار ہے عجزِ نگاہ پر کھل جائے اے خدا!…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ اِبتدا (حمدیہ)

اِبتدا تو لازوال ہے ، سب کچھ تری بساط میں ہے مرا وجود شب و روز اِنحطاط میں ہے تُو نورِ مسجد و معبد، تُو میرا ربّ ِاَحد مرا حدیقہ جاں تیرے اِنضباط میں ہے جو لب پہ جاری ہو سُبَحانَ رَبّیَ الْاَعْلیٰ تو دل سرور میں ہے، رُوح بھی نشاط میں ہے میں تیری حمد کہوں، کیا مجال ہے میری میں تیری مدح لکھوں، کب مری بساط میں ہے میں تجھ سے چاہوں مدد نعتِ مصطفیٰ ؐ کے لیے مرے قلم کی دُعا اِھْدِنَاالصَّراط میں ہے تری خبر مجھے…

Read More

حامد یزدانی ۔۔۔ خالد علیم کی نعت نگاری  

خالد علیم کی نعت نگاری خالد علیم کی نعت کا تجزیہ کرنے کے لیے ایک پرزم (منشور مثلثی) کی مثال کو سامنے رکھنا مناسب ہوگا۔ جس طرح پرزم کے تین رخ ہوتے ہیں، جن میں سے روشنی کی شعاعیں گزر کر مختلف رنگوں میں منقسم ہو کر پھیل جاتی ہیں، اسی طرح خالد کے فنِ شعر گوئی میں بھی تین نمایاں رخ دیکھے جا سکتے ہیں جن میں سے گزر کر ان کی شاعری کی تین بنیادی خصوصیات کئی ایک محاسن میں تقسیم ہو جاتی ہیں۔ اس منشور مثلثی کا…

Read More

خالد احمد ۔۔۔ خالد علیم ! خوش گو نعت گو

خالد علیم !  خوش گو نعت گو نئی نعت احمد ندیم قاسمی اور حفیظ تائب کے اندازِ عقیدت اور پیرایہ ہاے اظہار کا نام ہے۔ خالد علیم ہمارے نوجوان شعرا میں اپنا رنگ ،اپنا آہنگ رکھنے والے شعرا میں سے ہیں، اور نعت ان کا محبوب پیرایۂ اظہار ہے۔۔۔۔ حضور نبی کریم ﷺ کے بارے میں لب کشائی یوں بھی مشکل تر قرار پاتی ہے کہ لب کشا کے ہونٹ تو ان کے پاک ذکر ہی سے گلال ہو جاتے ہیں، اور یہ گلال کاغذ پر ذاکر کے بے اختیار…

Read More