خالد علیم ۔۔۔ اِبتدا (حمدیہ)

اِبتدا تو لازوال ہے ، سب کچھ تری بساط میں ہے مرا وجود شب و روز اِنحطاط میں ہے تُو نورِ مسجد و معبد، تُو میرا ربّ ِاَحد مرا حدیقہ جاں تیرے اِنضباط میں ہے جو لب پہ جاری ہو سُبَحانَ رَبّیَ الْاَعْلیٰ تو دل سرور میں ہے، رُوح بھی نشاط میں ہے میں تیری حمد کہوں، کیا مجال ہے میری میں تیری مدح لکھوں، کب مری بساط میں ہے میں تجھ سے چاہوں مدد نعتِ مصطفیٰ ؐ کے لیے مرے قلم کی دُعا اِھْدِنَاالصَّراط میں ہے تری خبر مجھے…

Read More

حامد یزدانی ۔۔۔ خالد علیم کی نعت نگاری  

خالد علیم کی نعت نگاری خالد علیم کی نعت کا تجزیہ کرنے کے لیے ایک پرزم (منشور مثلثی) کی مثال کو سامنے رکھنا مناسب ہوگا۔ جس طرح پرزم کے تین رخ ہوتے ہیں، جن میں سے روشنی کی شعاعیں گزر کر مختلف رنگوں میں منقسم ہو کر پھیل جاتی ہیں، اسی طرح خالد کے فنِ شعر گوئی میں بھی تین نمایاں رخ دیکھے جا سکتے ہیں جن میں سے گزر کر ان کی شاعری کی تین بنیادی خصوصیات کئی ایک محاسن میں تقسیم ہو جاتی ہیں۔ اس منشور مثلثی کا…

Read More

خالد احمد ۔۔۔ خالد علیم ! خوش گو نعت گو

خالد علیم !  خوش گو نعت گو نئی نعت احمد ندیم قاسمی اور حفیظ تائب کے اندازِ عقیدت اور پیرایہ ہاے اظہار کا نام ہے۔ خالد علیم ہمارے نوجوان شعرا میں اپنا رنگ ،اپنا آہنگ رکھنے والے شعرا میں سے ہیں، اور نعت ان کا محبوب پیرایۂ اظہار ہے۔۔۔۔ حضور نبی کریم ﷺ کے بارے میں لب کشائی یوں بھی مشکل تر قرار پاتی ہے کہ لب کشا کے ہونٹ تو ان کے پاک ذکر ہی سے گلال ہو جاتے ہیں، اور یہ گلال کاغذ پر ذاکر کے بے اختیار…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ نعتیہ رباعی

ہر حرف ہے مانند ِزمُرَّد روشن تشدید و زیر و زبر و مَد روشن اوصاف و محامدِ محمدؐ سے ہوا عالم عالم چراغِ اَبجد روشن

Read More

قلب و نظر کا حضور ’’محامد‘‘ میں غزل، قصیدہ، آزاد نظم اور رباعی کے فنی پیرایے استعمال ہوئے ہیں اور ہر صنف کا حق ادا کرکے دکھایا گیا ہے۔ نظم آزاد ’’سورۂ والضحیٰ کی شانِ نزول‘‘ کے عنوان سے ہے اور اس میں قرآنی رَمز و کنایہ سے خوب اِستفادہ کیا گیا ہے۔ خالق ِکائنات کے اپنے حبیب پاک ؐ سے مکالمات کے پس منظر و پیش منظر کو کمال حسن کاری سے قلم بند کیا گیا ہے۔ رباعی میں بقول حافظ محمد افضل فقیر ’’زحافاتی حسن اور تغیراتی کمال‘‘…

Read More

ڈاکٹر خورشید رضوی ۔۔۔ خالد علیم کی نعت

خالد علیم کی نعت خالد علیم کی نعت میں جذبے، علم اور ریاضتِ فنی کا ایک ایسا امتزاج ملتا ہے جو عجلت کے اس دور میں بہت کم یاب ہے۔ یہ ریاضتِ فنی ان کے ہاں حسب کے علاوہ نسب کا درجہ بھی رکھتی ہے کہ جس گھر سے ’’شاہنامہ بالاکوٹ‘‘ اور’’ طلع البدر علینا‘‘ کا طلوع ہوا ہو، اتنی ریاضت تو اس کی فضا میں رچی ہوئی ہوتی ہے۔ ’’محامد‘‘ میں گو بیش تر انحصار قصیدہ و غزل ہی کی ہیئت پر رہا ہے تاہم مسدس، آزاد نظم اور…

Read More

پروفیسرجعفر بلوچ ۔۔۔ خالد علیم کا نغمۂ محامِد

خالد علیم کا نغمۂ محامِدْ حضرت علیم ناصری اور ان کے فرزندِ ارجمند جناب خالد علیم دونوں اسلامی ادب کے قابلِ احترام نمائندے ہیں۔ ان دونوں معززینِ ادب کے ذکر سے مجھے اکثر زہیر بن ابی سلمیٰ اور ان کے سعادت مند بیٹے حضرت کعب بن زہیر یاد آ جاتے ہیں۔ جس طرح حضرت کعبؓ اپنے والد کے تربیت یافتہ تھے اسی طرح خالد صاحب بھی حضرت علیم کے سایہ پرور ہیں۔ جس طرح زہیر و کعبؓ اپنے ادوار کے اکابرِ ادب میں سے تھے اسی طرح حضرت علیم ناصری…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ ایک خاموش نظم

ایک خاموش نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ کرنوں کی بارش نہ خوشبو ہَوا کی نہ موسم کے آثار میں زندگی کا سماں ماتمِ حبس میں ایک خاموش آواز کا نغمہ ٔ خامشی سُن کے آنسو بہاتی ہوئی رات کی جیب سے جب سسکتا ہوا چاند نکلا تو آنکھوں نے چپکے سے  محرومیوں سے یہ پیماں کیا آج کی رات سوجائیں ہم

Read More

انتخابِ عبدالعزیز خالد ۔۔۔ خالد علیم

خالد علیم انتخابِ اشعارِ عبدالعزیز خالد عبدالعزیز خالدکے نام کے ساتھ ہی ایک مشکل گو ، بھاری بھرکم اور عربی آمیز لہجے کے شاعر کا تصور ذہن میں اُبھرتا ہے اور ساتھ ہی یہ احساس کہ انھوں نے اپنی شاعری کو اتنے دقیق اور گنجلک پیرائے میں پیش کیا کہ شاعری براے نام ہی رہ گئی ، لیکن جب اُن کے مجموعی کلام کو خلوصِ نیت کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ احساس کمتر ہونے لگتا ہے بلکہ اُن کی شاعری کی حیرت انگیز جہات دیکھ کر ایک بالغ نظر…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ ایک آشوبیہ​ (بارگاہِ خدا میں)

ایک آشوبیہ​ (بارگاہِ خدا میں)​ ……… تجھ سے میرے خدا کہوں کیا حالِ دلِ مبتلا کہوں کیا جس حال میں ہوں، تجھے خبر ہے بندہ ہوں میں ترا، کہوں کیامیں ایک حصارِ عقل میں ہوں تو سوچ سے ماورا، کہوں کیا آتی ہے صدا پرندگاں کی دیتی ہے ترا پتا، کہوں کیا میں عجز سرشت، سر بہ خم ہوں ہے عجز مری انا، کہوں کیا تو لامتناہی و دوامی زیبا ہے مجھے فنا، کہوں کیا بے مایہ و کم نظر ہوں لیکن تو جانتا ہے، بھلا کہوں کیا! جیسا ہوں…

Read More