تجھ سے خوشی ملی نہ غم، تجھ سے گلہ؟ نہیں نہیں!
تُو تو ادا شناس ہے، تیری خطا؟ نہیں نہیں!
میرے سخن سے کب ہوئیں تیری جفائیں عکس ریز
آئنہ خود ہی بول اُٹھا، میں نے کہا؟ نہیں نہیں!
میں ہوں کہاں اَنا پرست ، عجز مری سرشت ہے
مجھ سے بھی ہو گیا خفا میرا خدا؟ نہیں نہیں!
تیز ہَوا کا شور و شر میری سماعتوں میں تھا
کاٹ گئی مرا بدن تیری صدا؟ نہیں نہیں!
ساعتِ جاں ہے منجمد رات کے سرد طاق میں
اور رہے گی صبح تک چہرہ نما، نہیں نہیں!
ایک خموش عکس تھا، عکس کہ محوِ رقص تھا
چاند نے چھو لیا ترا، حُسنِ ادا، نہیں نہیں!
سیپ تھے تیری یاد کے، وقت کی دُھول ہو گئے
آنکھ سے گِر گیا ترا رنگِ حیا، نہیں نہیں!
میں نے اگر کہا غلط، تو نے بھی کچھ سُنا غلط
تو تو فریبِ راہ تھا، راہنما؟ نہیں نہیں!
اپنا ہی برگ و بار تھا، یہ تو مآلِ کار تھا
تیرے جنوں کی آگ سے، شہر جلا؟ نہیں نہیں!
دل تو شکستہ حال تھا، راہ میں پائمال تھا
پھول ہُوا ؟ شرر ہُوا؟ شعلہ ہُوا؟ نہیں نہیں!
ایک اندھیری رات تھی، گردشِ وقت سات تھی
میں نے ہی خود بجھا دیا اپنا دِیا؟ نہیں نہیں!
رنگ عجب دکھا دیا، اپنا لہو بہا دیا
دشمنِ جاں تھا کوئی اور دل کے سوا؟ نہیں نہیں!
خالدِ جاں شکستہ ہی تیری نگاہ میں نہ تھا
سب سے گریز پا رہا ، حُسن ترا ، نہیں نہیں!
