زادۂ ہجر پر ہزار دامنِ دل کشادہ تھا
رات بہت طویل تھی، درد بہت زیادہ تھا
دونوں کی ایک قدر تھی اور تھی مشترک بہت
حُسن بھی خود نہاد تھا، عشق بھی بے ارادہ تھا
ایک لباسِ مفلسی، ایک فریبِ دل لگی
ایک تھا میرا پیرہن، ایک ترا لبادہ تھا
وقت کی اپنی چال تھی اور مجھے خبر نہ تھی
رات کی منزل اور تھی، صبح کا اور جادہ تھا
ایک جنونِ خام تھا، ایک سرابِ ناتمام
رخشِ ہوا پہ تم سوار اور میں پا پیادہ تھا
تیرا جمالِ کم نما آنکھ میں کیا اُتارتے
آئنہ بھی اداس تھا، چاند بھی ہجر زادہ تھا
کیا کبھی خالدؔ اُس سے ہم کرتے بہ قدرِ دل سخن
اُتنے ہی کم سخن رہے، جتنا ہنر زیادہ تھا
Related posts
-
افق لکھنوی ۔۔۔ نہ مثلِ شمع ارماں قتل کا یاں عمر بھر نکلا
نہ مثلِ شمع ارماں قتل کا یاں عمر بھر نکلا ادھر سر اس نے کاٹا ایک... -
آہ سنبھلی ۔۔۔ یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیں
یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیں محبتیں نہیں رہتیں گمان رہتے ہیں خدا کرے کہ... -
سیف الدین سیف ۔۔۔ سب سے چھپا کے درد جو وہ مسکرا دیا
سب سے چھپا کے درد جو وہ مسکرا دیا اس کی ہنسی نے آج مجھے تو...
