سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا جب آئی شب ترے خوابوں نے مجھ کو گھیر لیا مرے لبوں پہ ابھی نام تھا بہاروں کا ہجومِ شوق میں خاروں نے مجھ کو گھیر لیا کبھی جنوں کے زمانے، کبھی فراق رتیں کہاں کہاں تری یادوں نے مجھ کو گھیر لیا نکل کے آ تو گیا گہرے پانیوں سے، مگر کئی طرح کے سرابوں نے مجھ کو گھیر لیا یہ جی میں تھا کہ نکل جاؤں تجھ سے دور کہیں کہ تیرے دھیان کی بانہوں نے مجھ کو گھیر…
Read MoreMonth: 2026 اگست
پروین شاکر ۔۔۔ نئے سال کی پہلی نظم
اندیشوں کے دروازوں پر کوئی نشان لگاتا ہے اور راتوں رات تمام گھروں پر وہی سیاہی پھر جاتی ہے دکھ کا شب خوں روز اُدھورا رہ جاتا ہے اور شناخت کا لمحہ بیتتا جاتا ہے میں اور میرا شہرِ محبت تاریکی کی چادر اوڑھے روشنی کی آہٹ پر کان لگائے کب سے بیٹھے ہیں گھوڑوں کی ٹاپوں کو سنتے رہتے ہیں حدِ سماعت سے آگے جانے والی آوازوں کے ریشم سے اپنی روئے سیاہ پہ تارے کاڑھتے رہتے ہیں انگشتا نے اک اک کر کے چھلنی ہونے کو آئے اب…
Read More